تلنگانہ ڈی جی پی کو عدالت سے ملی راحت۔ معطلی کی درخواست مسترد

حیدرآباد: تلنگانہ کے ڈی جی پی شیو دھر ریڈی کو ہائی کورٹ سے راحت حاصل ہوئی ہے۔ ہائی کورٹ نے ڈی جی پی کی تقرری کے احکامات کو معطل کرنے سے انکار کر دیا۔
عدالت نے اس عرضی پر عبوری احکامات جاری کرنے سے بھی صاف انکار کیا اور ڈی جی پی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کو مسترد کر دیا تاہم عدالت نے ہدایت دی کہ باقاعدہ تقرری کا عمل چار ہفتوں میں مکمل کیا جائے۔
ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ ڈی جی پی کی تقرری کے لیے یو پی ایس سی (UPSC) کا عمل چار ہفتوں کے اندر مکمل کیا جائے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ یو پی ایس سی کو فہرست ارسال کرنے کے بعد اپنا کاؤنٹر داخل کرے۔
ڈی جی پی کے تقرری حکم کو معطل کرنے سے متعلق انٹرم اپلیکیشن کو بھی عدالت نے خارج کر دیا اور اگلی سماعت آئندہ ماہ 5 فروری تک ملتوی کر دی۔ریاستی ڈی جی پی کے طور پر بی شیو دھر ریڈی کی تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن ٹی۔ دھن گوپال راؤ نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ستمبر 2025 میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات، سال 2018 میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
اس درخواست پر عدالت نے جمعرات 8 جنوری کو دوبارہ سماعت کی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل اے۔ سدھارشن ریڈی مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل نرسمہا شرما اور یو پی ایس سی کے وکیل اجے کمار کلکرنی نے دلائل پیش کیے۔ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ
عدالت کے احکامات کے مطابق فہرست یو پی ایس سی کو بھیج دی گئی تھی تاہم کمیشن نے اسے واپس کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے احکامات یو پی ایس سی پر بھی لاگو ہوتے ہیں اور ریاستی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی فہرست کو واپس نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے اٹھایا گیا سوال درست نہیں ہے اور عدالت سے درخواست کی کہ یو پی ایس سی کو ریاستی سفارشات پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی جائے۔ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں مرکزی وزارت داخلہ کا کوئی کردار نہیں ہے
اور یہ ریاستی حکومت اور یو پی ایس سی کے درمیان خط و کتابت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی جانب سے تاخیر اور ڈی جی پی کی تقرری سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کے پیش نظر اٹارنی جنرل سے قانونی مشورہ لیا
گیا تھا جنہوں نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے وضاحت طلب کرنے کا مشورہ دیا۔تمام دلائل سننے کے بعد جج نے جمعہ کے روز اپنا فیصلہ سنایا۔



