5 نومبر کو آسمان پر "بیور سوپر مون” کا نایاب نظارہ — چاند عام دنوں سے بڑا اور زیادہ روشن نظر آئے گا

فلکیات کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری —مکمل چاند کے موقع پر آسمان میں ایک نایاب منظر دکھائی دینے والا ہے۔ 5 نومبر کی رات چاند عام دنوں کے مقابلے میں بڑا اور زیادہ روشن نظر آئے گا۔ اسے ’بیور سپر مون‘ (Beaver Super Moon) کہا جاتا ہے۔
یہ ایک غیر معمولی فلکیاتی مظہر ہے جو اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب پُورنِما (چودھویں کا چاند) کے دوران چاند اپنی گردش میں زمین کے سب سے قریب آ جاتا ہے۔ گزشتہ برس ایسا ہی منظر چین کے شہر چنگدو کے لانگکوان علاقے میں دیکھا گیا تھا۔ اس بار چاند زمین کے اور بھی قریب ہوگا اور سرد خزاں کی رات میں مزید چمک دار نظر آئے گا۔
یہ سال کا دوسرا سوپر مون ہے، جبکہ کل تین سوپر مون دیکھے جائیں گے۔ "بیور سپر مون” کا نام شمالی امریکہ کی مقامی قبائل کی روایات سے منسوب ہے۔ ان کے مطابق اس موسم میں "بیور” (ایک قسم کا جانور) اپنی پناہ گاہیں بناتے ہیں، جبکہ شکاری برفباری سے قبل جال بچھاتے ہیں۔
چاند زمین کے گرد ایک مکمل دائرے میں نہیں بلکہ بیضوی مدار میں چکر لگاتا ہے۔ اس لیے کبھی وہ زمین کے قریب ہوتا ہے اور کبھی دور۔ جب پورنیما کے دن چاند اپنی گردش میں زمین کے سب سے نزدیک مقام یعنی پیریجی (Perigee) پر ہوتا ہے تو اسے سوپر مون کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر چاند زمین سے تقریباً 3,57,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عام چاند سے 7 فیصد بڑا اور 16 فیصد زیادہ روشن نظر آتا ہے۔
اس دوران چاند فلکیاتی لحاظ سے برجِ ثور (Taurus) میں ہوگا۔ اس کی تیز روشنی سے قریبی ستارے کچھ دھندلے نظر آئیں گے، لیکن اگر دوربین سے دیکھا جائے تو الدیبران (Aldebaran) نامی سرخی مائل ستارہ بھی نظر آئے گا جو زمین سے تقریباً 65 نوری سال دور ہے۔
چاند اور الدیبران کے درمیان پلئیڈیز (Pleiades) نامی جھرمٹ ہوگا، جسے سیون سسٹرس (سات بہنیں) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چمکدار جھرمٹ زمین سے 330 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
بیور سوپر مون کو دیکھنے کے لیے کسی خاص آلے کی ضرورت نہیں — بس آسمان کی طرف نظر اٹھائیں۔بھارتی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 49 منٹ پر پُورن چاند (پورا چاند) آسمان پر جلوہ گر ہوگا۔



