مضامین

قتلِ ناحق اور اسلامی نقطہ نظر

از مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی 

توپران ضلع میدک تلنگانہ 

 

قرآنِ مجید نے انسانی جان، عدلِ اجتماعی، دیانتِ معاملہ اور امانتِ انسانی کو ایسے قطعی، اٹل اور غیر متبدل اصولوں کے طور پر قائم کیا ہے جو ہر زمانے، ہر معاشرے اور ہر قانونی نظام پر بالادست ہیں۔ قتلِ ناحق انہی اصولوں سے انحراف کی وہ مہلک صورتیں ہیں جنہیں قرآن نے محض انفرادی لغزش نہیں بلکہ اجتماعی فساد، اخلاقی انحطاط اور تہذیبی زوال کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔

 

انسانی جان کی حرمت کے باب میں قرآنِ کریم کا فیصلہ کن اعلان یہ ہے: ﴿مَنْ قَتَلَ نَفْسًاۢ بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِى الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًاۖ وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾ (المائدہ: 32)۔ یہ آیت اس حقیقت کو قطعی انداز میں واضح کرتی ہے کہ ایک فرد کا ناحق قتل محض ایک جان کا زیاں نہیں بلکہ پورے معاشرتی نظم کے اعتماد، امن اور بقا پر حملہ ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں جان ایک الٰہی امانت ہے اور اس پر دست درازی دراصل ربانی نظام سے بغاوت ہے۔

 

قتلِ ناحق کو قرآن محض دنیاوی جرم نہیں بلکہ اخروی ہلاکت، غضبِ الٰہی اور دائمی لعنت کا موجب قرار دیتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَـٰلِدًا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمًا﴾ (النساء: 93)۔ یہی وہ قرآنی بنیاد ہے جس پر اسلامی قانون میں قصاص، دیات، ضمان اور تعزیرات کی پوری عمارت استوار ہے، جہاں جرم کو محض فعل نہیں بلکہ نیت، نتیجہ اور اجتماعی اثر کے تناظر میں پرکھا جاتا ہے۔

 

اسی طرح قرآنِ مجید غارت گیری، فریب، خیانت، کتمانِ حق اور جھوٹی گواہی کو عدل کے قتل سے تعبیر کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِمٌ قَلْبُهُۥ﴾ (البقرۃ: 283)۔ یہاں جرم کو ظاہری عمل تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ قلبی فساد کو اس کی اصل جڑ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ قرآن کی نظر میں بگڑا ہوا باطن ہی بگڑے ہوئے نظام کو جنم دیتا ہے۔ مالی اور معاشی غارت گیری پر قرآن کی وعید نہایت شدید ہے: ﴿وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ﴾ (المطففین: 1)۔ یہ محض ناپ تول میں کمی نہیں بلکہ اعتماد کے قتل اور معاشی عدل کی جڑ کاٹنے کا اعلان ہے، اسی لیے قرآن اسے ویل، یعنی ہلاکت اور تباہی کے ساتھ جوڑتا ہے۔

 

قرآن فساد کو اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ ترین روش قرار دیتا ہے: ﴿وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْفَسَادَ﴾ (البقرۃ: 205)، اور طاقت و اقتدار کے غلط استعمال کو فرعونی طرزِ عمل سے تعبیر کرتا ہے: ﴿إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا﴾ (القصص: 4)، جس سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ جب قوت عدل سے خالی ہو جائے تو وہ خود ایک منظم جرم بن جاتی ہے۔ عدلِ اجتماعی کے باب میں قرآنِ کریم کا جامع حکم یہ ہے: ﴿إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلإِحْسَـٰنِ﴾ (النحل: 90)، یعنی قانون، سیاست اور معیشت سب کا مقصد محض نظم نہیں بلکہ حق کا قیام اور ظلم کا ازالہ ہے۔ ان قرآنی اصولوں کی عملی تفسیر آثارِ صحابہؓ میں پوری شدت اور وضوح کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

 

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ “لو عثرت بغلة في العراق لخشيت أن يسألني الله عنها” محض ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ قرآنی تصورِ جواب دہی کا عملی اظہار ہے، جہاں حاکم خود کو رعایا کے ہر نقصان کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ ان ہی کا یہ اعلان کہ “الناس سواسية أمام الحق لا فضل لأحد إلا بالعدل” اسلامی مساواتِ قانونی کی وہ بنیاد ہے جس میں نہ منصب جرم کو چھپا سکتا ہے اور نہ طاقت حساب سے بچا سکتی ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ کن قول “تدوم الدول مع الكفر ولا تدوم مع الظلم” قرآن کے اس اعلان کی زندہ تفسیر ہے کہ اللہ فساد اور ظلم کو پسند نہیں کرتا، اور ان ہی کا فرمان “العدل أساس الملك” اس حقیقت کو راسخ کرتا ہے کہ ریاست کی بقا قانون کی سختی سے نہیں بلکہ عدل کی بالادستی سے وابستہ ہے۔

 

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبۂ خلافت کا یہ اصولی جملہ “أقواكم عندي الضعيف حتى آخذ الحق له، وأضعفكم عندي القوي حتى آخذ الحق منه” قرآنی میزانِ عدل کی عملی شکل ہے، جہاں کمزور کا حق طاقتور سے بلا امتیاز لیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول “العدل ميزان الله في الأرض” اس امر کو واضح کرتا ہے کہ عدل محض اخلاقی قدر نہیں بلکہ الٰہی نظام کا ستون ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے “إن الظلم ظلمات يوم القيامة”، یعنی ظلم دنیا میں بھی اندھیرا اور آخرت میں بھی ہلاکت ہے۔ حرمتِ جان کے باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی یہ قول نہایت فیصلہ کن ہے: «لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قَتْلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ»، جس کا مفہوم یہ ہے کہ پوری دنیا کا مٹ جانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے ناحق قتل سے کم تر ہے، اور یہی وہ میزان ہے جس پر قرآن نے انسانی جان کی حرمت قائم کی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ «إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُورِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أُوقِعَ فِيهَا سَفْكَ الدِّمَاءِ بِغَيْرِ حَقٍّ» اس حقیقت کو مزید پختہ کرتا ہے کہ ناحق خون بہانا ایسا گڑھا ہے جس سے نکلنے کی کوئی سبیل باقی نہیں رہتی۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے «أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ»، یعنی قیامت کے دن سب سے پہلے خون کے معاملات کا فیصلہ ہو گا۔ رسولِ اکرم ﷺ کا یہ ارشاد جو صحابہؓ کے ذریعے امت تک پہنچا “لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ” اسی قرآنی اصول کی قطعی تصدیق ہے۔ قرآن اور آثارِ صحابہؓ کی روشنی میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جرم کی پہچان اس کے قانونی عنوان، اس کی عصری شکل یا اس کے رسمی جواز سے نہیں بلکہ اس کے اخلاقی اثر، اجتماعی نقصان اور عدلِ الٰہی سے تصادم سے ہوتی ہے۔ قتلِ ناحق اور غارت گیری خواہ قدیم معاشروں میں ہوں یا عصرِ حاضر کے قانونی، مالی اور ادارہ جاتی نظاموں میں، قرآنِ مجید کے میزان اور صحابۂ کرامؓ کے عملی نمونے کی روشنی میں یکساں طور پر فساد فی الارض، موجبِ غضبِ الٰہی اور سببِ زوالِ اقوام ہیں۔

 

اسی قرآنی میزان کی رو سے قتل و غارت گیری کے اسباب بھی محض وقتی محرکات نہیں بلکہ وہ نفسیاتی، اخلاقی اور سماجی امراض ہیں جو جب فرد اور معاشرہ دونوں میں جڑ پکڑ لیتے ہیں تو خون ناحق کو معمول بنا دیتے ہیں۔ قرآن نے ان اسباب کو مختلف مقامات پر اصولی انداز میں بے نقاب کیا ہے۔ عورت، دولت، شہرت، اقتدار و کرسی اور حبِّ جاہ وہ بنیادی محرکات ہیں جو تاریخِ انسانی میں قتل و خونریزی کے سب سے بڑے اسباب رہے ہیں۔ عورت کے باب میں قرآن انسانی نفس کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب خواہش حدودِ الہی سے آزاد ہو جائے تو عقل و عدل دونوں مفلوج ہو جاتے ہیں، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے قصے میں نفس کی کشمکش اور اس کے نتائج واضح ہیں، جہاں شہوت اگر تقویٰ سے خالی ہو تو ظلم اور جرم کی راہ ہموار کرتی ہے۔ دولت کے بارے میں قرآن کا اعلان ہے: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾، یعنی مال محض نعمت نہیں بلکہ آزمائش ہے، اور جب دولت حرص، طمع اور استیثار میں بدل جائے تو قتل، ڈاکہ، غارت گیری اور حق تلفی کو جنم دیتی ہے، جیسا کہ قارون کی مثال میں واضح کیا گیا کہ دولت نے اسے تکبر، بغاوت اور بالآخر ہلاکت تک پہنچایا۔

 

شہرت اور ناموری کا جنون بھی خونریزی کا ایک مہلک سبب ہے، کیونکہ جب انسان تعریفِ خلق کو رضائے خالق پر مقدم کر لیتا ہے تو وہ اپنی ناموری کی خاطر ہر حد پامال کر دیتا ہے، قرآن اسی کیفیت کو ﴿يُرَاءُونَ النَّاسَ﴾ کے عنوان سے بیان کرتا ہے، جہاں ریاکاری بالآخر ظلم اور فساد کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اقتدار، منصب اور کرسی کی محبت وہ سب سے خطرناک سبب ہے جسے قرآن نے فرعونی طرزِ فکر سے تعبیر کیا، ﴿إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ﴾، کیونکہ جب اقتدار جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو قتلِ عام، ظلمِ منظم اور غارت گیری ریاستی پالیسی بن جاتی ہے۔ حبِّ جاہ، یعنی بڑائی اور برتری کی خواہش، دراصل تکبر کی وہ شکل ہے جس کے بارے میں قرآن نے فرمایا: ﴿تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا﴾، اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں علو، غلبہ اور بڑائی کے خواہاں ہوتے ہیں وہی فساد اور خونریزی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ قرآن کی نگاہ میں یہ تمام اسباب دراصل نفسِ امّارہ کی پیداوار ہیں، اور جب نفس کی تربیت تقویٰ، عدل اور خوفِ خدا سے خالی ہو جائے تو عورت، دولت، شہرت اور کرسی سب انسان کو قتل و غارت گیری کے دہانے تک لے آتے ہیں۔

 

قتل و غارت گیری کے اسباب بھی قرآن اور آثارِ صحابہؓ کی روشنی میں بالکل واضح اور متعین ہیں۔ سب سے پہلا سبب نفسِ امّارہ کی سرکشی ہے، جسے قرآن نے انسان کا سب سے خطرناک دشمن قرار دیا، کیونکہ جب خواہش، غضب اور حرص عقل و وحی پر غالب آ جائیں تو انسان خون بہانے کو معمولی عمل سمجھنے لگتا ہے۔ اسی نفس پرستی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اقتدار، دولت اور برتری کی ہوس انسان کو عدل سے کاٹ کر ظلم کی راہ پر ڈال دیتی ہے۔ دوسرا بڑا سبب عدل سے انحراف اور قانون کی بے توقیری ہے، کیونکہ جہاں قانون طاقتور کے تابع ہو جائے وہاں قتل و غارت گیری ایک منظم صورت اختیار کر لیتی ہے۔ قرآن نے فرعونی طرزِ حکومت کو اسی لیے فساد فی الارض کی علامت بنایا کہ وہاں قانون کمزور کے لیے سزا اور طاقتور کے لیے سہولت بن جاتا ہے۔ تیسرا بنیادی سبب جہالت اور دینی شعور کی کمی ہے، جیسا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے واضح فرمایا کہ اسلام کی گرہیں اس وقت ٹوٹتی ہیں جب ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو جاہلیت کو نہ پہچانتے ہوں، کیونکہ جہالت انسان کو جرم کے انجام اور اس کے اخلاقی بوجھ سے غافل کر دیتی ہے۔

 

چوتھا سبب معاشی ناانصافی، استحصال اور غارت گیری ہے، کیونکہ جب روزی کے ذرائع عدل پر قائم نہ رہیں اور ناپ تول، لین دین اور حقوق میں خیانت عام ہو جائے تو معاشرہ داخلی تصادم کا شکار ہو جاتا ہے، اور یہی تصادم بالآخر قتل و غارت گیری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پانچواں سبب اقتدار اور طاقت کا غلط استعمال ہے، جسے قرآن نے علُوّ فی الارض سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ جب طاقت جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو خون بہانا اقتدار کے استحکام کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ چھٹا سبب حسد، عصبیت اور گروہی تعصب ہے، جس نے تاریخِ انسانی میں سب سے پہلے قتل کو جنم دیا، اور آج بھی یہی عصبیت نسل، فرقہ، قوم اور سیاست کے نام پر انسانی جان کو ارزاں بنا دیتی ہے۔ ساتواں سبب حق کی گواہی چھپانا اور ظلم پر خاموشی اختیار کرنا ہے، کیونکہ قرآن کے مطابق کتمانِ شہادت خود ایک قلبی جرم ہے، اور جب معاشرہ ظلم پر خاموش ہو جائے تو قاتل کو اخلاقی جواز میسر آ جاتا ہے۔

 

آٹھواں سبب خوفِ آخرت کا فقدان ہے، کیونکہ جس دل سے یومِ حساب کا تصور نکل جائے وہاں جان کی حرمت بھی ختم ہو جاتی ہے، اسی لیے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ عدل اللہ کا میزان ہے، اور جو اس میزان سے بے خوف ہو جائے وہ خون بہانے میں بھی بے خوف ہو جاتا ہے۔ ان تمام اسباب کا خلاصہ یہ ہے کہ قتل و غارت گیری محض وقتی اشتعال یا انفرادی جرم نہیں بلکہ نفس پرستی، ناانصافی، جہالت، معاشی فساد، اقتدار کی بے لگامی اور خوفِ آخرت کے زوال کا مجموعی نتیجہ ہے، اور جب تک قرآن کے میزانِ عدل اور صحابۂ کرامؓ کے قائم کردہ عملی نمونے کو دوبارہ معیار نہ بنایا جائے، اس فساد کا سدِّباب ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button