کے کویتا کا جنم باٹا پروگرام کے تحت کتہ گوڑم کا دورہ۔ عوامی مسائل سے واقفیت

ایلّندو میں درگاہ کے مسائل پر شدید تشویش کا اظہار
کے کویتا کا جنم باٹا پروگرام کے تحت کتہ گوڑم کا دورہ۔ عوامی مسائل سے واقفیت
گرام پنچایت انتخابات کو ایک طرف رکھتے ہوئے عوام کی فلاح پر توجہ دینے کا سیاسی جماعتوں کو مشورہ
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے جنم باٹا پروگرام کے تحت کتہ گوڑم ضلع کے دورہ کے دوران ایلندو میں واقع ناگلا میراں شاہ مولاچاند درگاہ سے متعلق درپیش مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ کے معاملے میں فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جس کے باعث عقیدت مندوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ درگاہ میں عرس کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند شریک ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود یہاں بنیادی سہولتیں تک فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع کے تینوں وزراء درگاہ کی ترقی کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقام پر مندر بھی موجود ہے اور یہاں آنے والے تمام عقیدت مند مندر اور درگاہ دونوں کی زیارت کرتے ہیں، جو ہندو مسلم یکجہتی کی ایک خوبصورت مثال ہے
۔انہوں نے کہا کہ درگاہ کے احاطے میں مستقل ڈھانچوں کی تعمیر کے لئے اجازت دی جانی چاہئے اور خاص طور پر خواتین کے لئے کسی قسم کی دشواری نہ ہو، اس کے لئے مناسب سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مشن بھاگیرتھا پائپ لائن کے ذریعہ یہاں پانی کی فراہمی کے انتظامات کئے جائیں۔صدر تلنگانہ جاگروتی نے کہا کہ کتہ گوڑم کے دورہ کے دوران ایلندو میں بھی عوام نے بڑی تعداد میں اپنے مسائل پیش کئے۔
انہوں نے کہا کہ دو دن تک ضلع میں قیام کر کے عوامی مسائل کو جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جنم باٹا کے تحت عوامی مشکلات کو سمجھ کر ان کے حل کے لئے جدوجہد کی جا رہی ہے۔انہوں نے سرپنچ انتخابات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں کوئی انتخابی نشان نہیں ہوتا اور لوگ افراد کو پہچان کر ووٹ دیتے ہیں۔ دیہاتی یہ دیکھتے ہیں کہ کون ان کے لئے کام کرے گا اور اسی بنیاد پر نمائندوں کو منتخب کرتے ہیں
۔ انہوں نے کہا کہ نشانوں کے بغیر ہونے والے انتخابات کو لے کر بی آر ایس اور کانگریس کی جانب سے جیت کے دعوے کرنا مناسب نہیں ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے پر زور انداز میں کہا کہ سرپنچ منتخب ہونے کے بعد دیہات میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہئے، بصورت دیگر عوام کے اندر شدید ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چھ گارنٹیوں کو فراموش کر دیا گیا ہے، نہ تو پنشن میں اضافہ کیا گیا، نہ مفت بجلی فراہم کی گئی اور جو خواتین بیوہ ہوچکی ہیں
انہیں گزشتہ دس برسوں سے پنشن نہیں مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی خواتین کی حالت دیکھ کر شدید افسوس ہوتا ہے اور حکومت کو وعدوں پر فوری توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے دونوں سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ سرپنچ انتخابات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں۔



