مارچ میں ہی گرمی کا قہر — تلنگانہ میں درجۂ حرارت 40 ڈگری کے قریب
تلنگانہ میں گرمی کی شدت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مارچ کے پہلے ہی حصے میں سورج کی تپش اپنے عروج پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 40 ڈگری کے قریب پہنچنے سے عوام شدید گرمی سے پریشان ہیں۔
دن بہ دن گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے بچے، خواتین اور بزرگوں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریاست کے کئی علاقوں میں آج تقریباً 38 ڈگری درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا جس سے تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
حیدرآباد کے محکمۂ موسمیات نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اس سال گرمی کی شدت وقت سے پہلے شروع ہو سکتی ہے، مگر سورج کی تپش نے عوام کو بے حال کر دیا ہے۔ صبح دس بجے کے بعد ہی گھر سے باہر نکلنا مشکل محسوس ہو رہا ہے۔
ریاست کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ سطح پر درجۂ حرارت درج کیا جا رہا ہے۔ اتوار کے روز ضلع نظام آباد کے ایڈپلی منڈل کے جنکمپیٹ میں 38.8 ڈگری درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
ضلع جگتیال کے دھرمپوری منڈل کے جائنا میں 38.6 ڈگری، محبوب نگر کے دیورکنڈا میں 38.6 ڈگری، رنگا ریڈی ضلع کے موہن آباد منڈل کے ریڈی پلی میں 38.6 ڈگری اور سنگاریڈی ضلع کے کوہیر منڈل کے دگوال میں بھی 38.6 ڈگری درجۂ حرارت درج ہوا۔ جبکہ سب سے کم درجۂ حرارت یادادری بھونگیر ضلع کے بھونگیر میں 36.7 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔



