اسپشل اسٹوری

سستے ڈرونز نے سوپر پاور کو پریشان کر دیا — ایران کی نئی جنگی حکمتِ عملی سے امریکہ اور اسرائیل پریشان – امریکہ نے یوکرین سے مدد طلب کر لی

سستے ڈرونز کے استعمال کے ذریعہ ایران نے جدید جنگی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو نئی مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے استعمال کئے جانے والے کم قیمت مگر مؤثر ڈرونز نے خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان ڈرونز کے ذریعے فوجی تنصیبات، نگرانی کے مراکز اور حساس مقامات کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس کے باعث امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اپنے دفاعی نظام مزید مضبوط بنانے پڑ رہے ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق ایران کی یہ حکمتِ عملی اس لئے مؤثر سمجھی جا رہی ہے کہ یہ ڈرونز نسبتاً سستے ہوتے ہیں مگر بڑی تعداد میں استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ جدید میزائل دفاعی نظام اکثر مہنگے ہوتے ہیں جبکہ سستے ڈرونز کو مار گرانے کے لئے اتنے ہی مہنگے ہتھیار استعمال کرنا معاشی طور پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ اسی لئے ایران کم لاگت والی ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے مخالفین پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق ایران کے حملوں اور ڈرون سرگرمیوں کے باعث امریکہ کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یوکرین سے مدد طلب کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے یوکرین سے ایسے جدید ڈرونز فراہم کرنے کی درخواست کی ہے جو ایران کے ڈرونز کو فضا ہی میں نشانہ بنا سکیں۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کو روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں کافی تجربہ حاصل ہو چکا ہے، اسی وجہ سے امریکہ یوکرین کی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اگر یوکرین کی جانب سے تعاون حاصل ہوتا ہے تو امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے نئی حکمتِ عملی تیار کر سکتے ہیں۔

 

دوسری جانب ایران کی اس حکمتِ عملی کو “کم لاگت مگر زیادہ اثر” والی جنگی پالیسی قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button