مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے طلبہ کا 50 ایکڑ اراضی واپس لینے کی کوشش کے خلاف زبردست احتجاج
ایم اے این یو یو کے طلبہ کا 50 ایکڑ اراضی واپس لینے کی مبینہ کوشش کے خلاف احتجاج
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے طلبہ نے چہارشنبہ کے روز کے طلبہ تنظیموں کے مشترکہ محاذ نے کانگریس حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کی تقریباً 50 ایکڑ اراضی واپس لینے کی مبینہ کوشش کے خلاف احتجاج منظم کیا۔
طلبہ نے کیمپس میں واقع سینٹرل لائبریری سے مین گیٹ تک ریالی نکالی اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ شوکاز نوٹس کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے اس اقدام کو عوامی تعلیم پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت تعلیمی اداروں کو علمی مراکز کے بجائے فاضل اراضی کے ذخائر کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ قائد طلحہ منان نے حکومت کی کارروائی کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اردو یونیورسٹی میں وہی طرزِ عمل دہرایا جا رہا ہے جو دیگر سرکاری جامعات میں دیکھا جا چکا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف حیدرآباد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی یونیورسٹی کی اراضی لینے کی کوشش کی گئی تھی۔
طلحہ منان نے کہا کہ یہ نوٹس کوئی الگ تھلگ انتظامی قدم نہیں بلکہ ایک تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں سرکاری جامعات کو خالی اراضی کا ذخیرہ سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ زمین تعلیمی برادری اور آنے والی نسلوں کی امانت ہے، نہ کہ بدلتی ہوئی سرکاری ترجیحات کی نذر ہونے کے لیے۔
یونیورسٹی طلبہ یونین کے سابق صدر متین اشرف نے کہا کہ یونیورسٹی کی اراضی کو ہاسٹلز، لائبریریوں اور تعلیمی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جانا چاہئے، نہ کہ ’ریزیومپشن‘ کے نام پر حوالے کیا جائے۔
طلبہ یونین (2019) کے سابق صدر عمر فاروق نے اعلان کیا کہ طلبہ یونیورسٹی کی ایک انچ زمین بھی نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اراضی خاص طور پر طلبہ، بالخصوص اقلیتی اور معاشی طور پر کمزور طبقوں کے لیے مختص ہے۔ “ہم ایم اے این یو یو سے زمین چھیننے کے کسی بھی منصوبے کو برداشت نہیں کریں گے۔ حکومت کو ترقی پر توجہ دینی چاہئے، نہ کہ زمین مافیا جیسا رویہ اختیار کرنا چاہئے،
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ شوکاز نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے، بصورتِ دیگر احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔




