عروس البلاد ممبئی کی مینارہ مسجد اور محمد علی روڈ کا رمضان بازار: افطار سے سحری تک روشنیوں، ذائقوں اور ہم آہنگی کا دلکش منظر

جاوید جمال الدین کی خصوصی رپورٹ
ممبئی/رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی عروس البلاد ممبئی ایک خاص روحانی اور ثقافتی رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ خصوصاً جنوبی ممبئی میں واقع تاریخی مینارہ مسجد اور اس کے اطراف کا علاقہ، جس میں محمد علی روڈ سرِفہرست ہے، رمضان کے دنوں میں ایک ایسا منفرد منظر پیش کرتا ہے جو نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ افطار سے لے کر سحری تک یہاں روشنیوں، خوشبوؤں اور ذائقوں کی ایک دلکش دنیا آباد ہو جاتی ہے۔
مینارہ مسجد کے سائے میں قائم یہ رمضان بازار تقریباً ڈھائی سو برس پرانی روایت کا امین ہے۔ رمضان کے آغاز میں اگرچہ کبھی کبھی بازار نسبتاً خاموش نظر آتا ہے، مگر جیسے جیسے مہینہ آگے بڑھتا ہے، یہاں کی گلیاں زندگی اور رونق سے بھر اٹھتی ہیں۔ نمازِ عشاء اور تراویح کے بعد محمد علی روڈ کی فضا میں طرح طرح کے پکوانوں کی خوشبو پھیل جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ علاقہ ہزاروں لوگوں سے بھر جاتا ہے۔
رمضان بازار کی سب سے بڑی خصوصیت یہاں دستیاب کھانوں کی حیرت انگیز ورائٹی ہے۔ اندازہ ہے کہ اس بازار میں تقریباً چار سو سے زیادہ اقسام کے کھانے دستیاب ہوتے ہیں۔ مغلائی پکوانوں سے لے کر دہلی کی نہاری، لکھنو کی بریانی، حیدرآباد کے خصوصی کھانے، بہرائچ اور اتر پردیش کے توا کباب، ایرانی پکوان اور طرح طرح کے مشروبات یہاں آنے والوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اس کے علاوہ سو سے زائد اقسام کی مٹھائیاں، جن میں جلیبی، مالپوہ، گلاب جامن اور دیگر روایتی میٹھے شامل ہیں، رمضان کی راتوں کو مزید دلکش بنا دیتے ہیں۔
مغرب کی اذان کے بعد افطار کا وقت آتے ہی یہاں کی گلیوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں رہتی۔ روزہ دار افطار کے لیے کھجور، فروٹ، شربت اور مختلف پکوان خریدتے ہیں جبکہ اس کے بعد کھانے پینے کا سلسلہ سحری تک جاری رہتا ہے۔ کئی لوگ اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ یہاں آ کر رمضان کی راتوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔اس بازار کے ایک تاجر عبدالرحمن خان، جو “ماشاء اللہ” نامی دکان کے مالک ہیں، بتاتے ہیں کہ مینارہ مسجد کے اطراف یہ فوڈ بازار صدیوں سے رمضان میں آباد ہوتا رہا ہے۔ ان کے مطابق 2020 کے دوران کورونا وبا کے سبب یہ رونقیں ماند پڑ گئی تھیں، مگر اس کے علاوہ ہر سال رمضان میں یہاں بے مثال ہجوم دیکھا جاتا ہے۔
قریب ہی کے علاقے بوری محلہ کے 70 سالہ شبیر اجمان والا رمضان بازار کی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں 1920 کی دہائی کے رمضان کے قصے سنایا کرتے تھے۔ ان کے مطابق اس زمانے میں بھی لوگ افطار کے لیے یہاں آتے تھے اور جنوبی ممبئی میں چلنے والی ٹرام کے ذریعے قلابہ سے دادر تک سفر کرتے ہوئے محمد علی روڈ پہنچتے تھے۔ اگرچہ ٹرام 1964 میں بند ہو گئی، مگر رمضان بازار کی روایت آج بھی اسی جوش و خروش کے ساتھ زندہ ہے۔مینارہ مسجد کے اطراف دکان رکھنے والے 65 سالہ کریم پٹیل کا کہنا ہے کہ رمضان میں یہاں آنے والوں میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بڑی تعداد میں غیر مسلم بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 60 فیصد سے زائد برادران وطن اس بازار میں کھانے پینے اور خریداری کے لیے آتے ہیں، جبکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد رمضان کے ابتدائی دنوں میں عبادت میں زیادہ مصروف رہتی ہے اور آخری عشرے میں عید کی خریداری کے لیے نکلتی ہے۔
مینارہ مسجد کے آس پاس تقریباً ایک کلومیٹر کے دائرے میں رمضان کے خصوصی بازار قائم ہوتے ہیں۔ یہاں تقریباً 100 مستقل دکانیں موجود ہیں جبکہ رمضان کے دوران تقریباً 400 عارضی اسٹال اور خوانچے بھی لگ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بازار کو کئی لوگ “قومی یکجہتی کا فوڈ بازار” بھی کہتے ہیں، جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک ساتھ رمضان کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔جنوبی ممبئی کے یہ علاقے، جن میں بھنڈی بازار، ڈونگری اور کے جے اسپتال علاقہ شامل ہیں، پہلے ہی تجارتی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہیں، مگر رمضان میں ان کی رونق کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روزانہ تقریباً چالیس ہزار افراد یہاں آتے ہیں، جبکہ ہفتہ اور اتوار کے دن یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ پورے مہینے کے دوران اندازاً پندرہ لاکھ سے زائد افراد یہاں کے ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
یہ بازار نہ صرف ذائقوں کا مرکز ہے بلکہ ہزاروں چھوٹے تاجروں اور خوانچہ فروشوں کے لیے معاشی سہارا بھی ہے۔ کئی لوگ سال بھر کی کمائی کا بڑا حصہ اسی مہینے میں حاصل کرتے ہیں۔ بعض خانساماں دوسرے شہروں سے آ کر یہاں اپنے اسٹال لگاتے ہیں اور رمضان بھر اپنی مہارت سے لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں۔صحافی جاوید جمال الدین کے مطابق محمد علی روڈ اور مینارہ مسجد کا رمضان بازار صرف مقامی لوگوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی کشش بھی رکھتا ہے۔ یہاں غیر ملکی سفارت کار، سیاح، سیاست دان اور فلمی دنیا کے ستارے بھی آتے رہے ہیں۔ ماضی میں معروف اداکار
راج کپور،دیوآنند،دلیپ کمار
، راجندر کمار اور جیسے فنکار یہاں کی رونق بڑھاتے رہے ہیں۔
ادبی اور ثقافتی شخصیات میں کیفی اعظمی،جانثار اختر ، اور معروف مصور ایف ایم حسینبھی رمضان کے دنوں میں یہاں آ کر اس فضا کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں بھی فلمی دنیا کے کئی فنکار رمضان کے وسط کے بعد یہاں کا رخ کرتے ہیں۔کھانے پینے کی مشہور جگہوں میں نورمحمدی ہوٹل ، اور دیگر قدیم ہوٹلیں اور دکانیں شامل ہیں، جہاں کے پکوان ممبئی کی شناخت بن چکے ہیں۔ یہاں کی جلیبی، مالپوہ، تنگڑی کباب اور ایرانی پکوان دور دور تک مشہور ہیں۔
اگرچہ ممبئی کے مضافاتی علاقوں جیسے ماہم، باندرہ، اندھیری، جوگیشوری، میرا روڈ اور ممبرا کے علاوہ قریبی شہروں پونے، بھیونڈی اور مالیگاوں میں بھی رمضان بازار سجتے ہیں، لیکن محمد علی روڈ اور مینارہ مسجد کے رمضان بازار کی مقبولیت اور تاریخی حیثیت آج بھی سب سے منفرد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ رمضان کی راتوں میں مینارہ مسجد اور محمد علی روڈ کا یہ علاقہ صرف ایک بازار نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا تہذیبی اور روحانی میلہ بن جاتا ہے جہاں عبادت، ثقافت، ذائقہ اور قومی یکجہتی ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی اور حیدرآباد جیسے شہروں کے مشہور رمضان بازار بھی اس تاریخی بازار کی کشش کو مکمل طور پر پیچھے نہیں چھوڑ سکے۔
یوں رمضان المبارک میں ممبئی کا یہ علاقہ ایک ایسی زندہ روایت کا مظہر بن جاتا ہے جو مذہب، ثقافت اور انسانی میل جول کی خوبصورت مثال پیش کرتا ہے۔ یہاں افطار سے سحری تک جاری رہنے والی یہ رونقیں نہ صرف رمضان کی روح کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ ممبئی کی کثیر الثقافتی شناخت کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔



