ڈیجیٹل تنہائی: رابطوں کے ہجوم میں انسان تنہا کیوں؟

توصیف عرفان شیخ شعبہ ترجمہ وتقابلی ادب
دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی

آج کی دنیا "گلوبل ویلج” کہلاتی ہے۔ ہماری انگلیاں اسکرین پر ایک کلک کرتی ہیں اور ہم سات سمندر پار بیٹھے شخص سے ویڈیو کال پر بات کر لیتے ہیں۔ بظاہر ہم تاریخ کے اس دور میں جی رہے ہیں جہاں انسان ایک دوسرے سے سب سے زیادہ جڑا ہوا (Connected) ہے۔ لیکن اس بھیڑ اور شور کے پیچھے ایک خوفناک سچائی چھپی ہے، جسے ماہرینِ نفسیات "ڈیجیٹل تنہائی” (Digital Loneliness) کا نام دیتے ہیں۔ یہ وہ تنہائی ہے جو تب محسوس ہوتی ہے جب آپ کے فیس بک پر ہزاروں دوست ہوں، لیکن دل کا حال سنانے کے لیے کوئی ایک کندھا بھی میسر نہ ہو۔
یہ ایک ایسا تضاد ہے جس نے ہماری روحوں کو منجمد کر دیا ہے۔ ہم نے "لاگ ان” (Login) تو کر لیا ہے، مگر زندگی کی حقیقی لذتوں سے "لاگ آؤٹ” (Logout) ہو چکے ہیں۔ ہماری اسکرینیں تو روشن ہیں، لیکن ہمارے آنگنوں میں اداسی کا اندھیرا بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم دنیا بھر کی خبریں تو رکھتے ہیں، مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے برابر والے کمرے میں بیٹھا بھائی کس پریشانی میں مبتلا ہے یا ماں کی آنکھوں میں تھکن کا سبب کیا ہے۔
درحقیقت، ہم نے رابطوں کو "معلومات کے تبادلے” تک محدود کر دیا ہے، جبکہ تعلقات "احساس کے تبادلے” کا نام تھے۔ ایک دور تھا جب خط کا انتظار مہینوں کیا جاتا تھا، مگر اس ایک کاغذ میں لکھنے والے کے ہاتھ کی خوشبو اور دل کی دھڑکن محسوس ہوتی تھی۔ آج میسج سیکنڈوں میں پہنچ جاتا ہے، لیکن اس میں وہ تپش اور خلوص مفقود ہے جو دو دلوں کو جوڑتا تھا۔ ہم نے اپنی زندگیوں کو ایک "ڈسپلے ونڈو” بنا دیا ہے جہاں ہم صرف اپنی کامیابیوں، اپنی بہترین تصویروں اور اپنی مصنوعی خوشیوں کی نمائش کرتے ہیں۔
اس نمائش کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ہم دوسروں کی پرکشش "ڈیجیٹل لائف” کو دیکھتے ہیں، تو اپنے اندر ایک خالی پن محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ خلا ہمیں اسکرین کی طرف مزید دھکیلتا ہے، اس امید میں کہ شاید کوئی ایک "لائک” یا کوئی ایک "کمنٹ” ہمارے وجود کی گواہی دے دے۔ لیکن افسوس! یہ ڈیجیٹل تالیاں تھوڑی دیر کا سرور تو دیتی ہیں، مگر تنہائی کے اس گہرے کنویں کو نہیں بھر پاتیں جو ہمارے اندر جنم لے چکا ہے۔
ہم نے ہجوم کو تو جمع کر لیا ہے، مگر رفاقت کھو دی ہے۔ ہمارے پاس کانٹیکٹ لسٹ (Contact List) تو طویل ہے، مگر ہمدم کوئی نہیں۔ یہ ڈیجیٹل تنہائی اس خاموش دیمک کی طرح ہے جو انسانی رشتوں کی بنیادوں کو چاٹ رہی ہے، اور اگر ہم نے وقت رہتے اس اسکرین کے سحر کو توڑ کر ایک دوسرے کا ہاتھ نہ تھاما، تو ہم تاریخ کے سب سے "باخبر” مگر سب سے "تنہا” انسان کہلائیں گے۔
سوشل میڈیا کی رنگین دنیا بظاہر ایک میلہ ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسا "ڈیجیٹل سراب” ہے جہاں انسان جتنا آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی پیاسا رہ جاتا ہے۔ ہم نے اپنی زندگیوں کو ایک ایسی "پرفیکٹ گیلری” میں بدل دیا ہے جہاں اداسی، ناکامی اور عام لمحات کی کوئی جگہ نہیں۔ جب ہم دوسروں کی ایڈٹ شدہ تصویروں، ان کے مہنگے سفر اور مصنوعی مسکراہٹوں کا مقابلہ اپنی سادہ اور حقیقی زندگی سے کرتے ہیں
تو لاشعوری طور پر ایک ایسی گھٹن جنم لیتی ہے جو ہمیں اپنوں سے بھی بیزار کر دیتی ہے۔ ہم اس دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں جہاں "ہونا” اہم نہیں، بلکہ "نظر آنا” اہم ہے۔ یہ دکھاوے کی ہوس ہمیں اس مقام پر لے آئی ہے کہ اب ہم کھانا ذائقے کے لیے نہیں بلکہ تصویر کے لیے کھاتے ہیں، اور منظر کی خوبصورتی آنکھوں سے زیادہ کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرنے کی فکر کرتے ہیں۔
اس نمائش کا سب سے کربناک پہلو ہمارے گھروں کے اندر داخل ہو چکا ہے۔ وہ گھر، جو کبھی قہقہوں، تکرار اور گفتگو سے گونجتے تھے، اب "خاموش قبرستانوں” کا منظر پیش کرتے ہیں جہاں ہر شخص اپنی اپنی اسکرین کے سحر میں جکڑا ہوا ہے۔ پہلے زمانے میں شام کی چائے یا رات کا کھانا وہ لمحہ ہوتا تھا جب دن بھر کی تھکن بانٹی جاتی تھی، مگر آج کا منظر نامہ یہ ہے کہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے ہوئے وجود جسمانی طور پر تو ساتھ ہیں، مگر ان کی روحیں ڈیجیٹل دنیا کے الگ الگ جزیروں پر بھٹک رہی ہیں۔
ہم نے ایموجیز (Emojis) کو جذباتی بیساکھیاں بنا لیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو اسکرین پر دل بھیجتے ہیں، مگر سامنے بیٹھے شخص کی آنکھوں میں جھانک کر اس کے دل کا حال پوچھنے کی توفیق نہیں پاتے۔ یہ "خاموش کمرے اور بولتی اسکرینیں” اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے ٹیکنالوجی کے بدلے اپنی اپنائیت کا سودا کر لیا ہے۔ گھر کا ہر فرد ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ ہماری توجہ کا مرکز وہ انسان نہیں جو ہمارے پاس ہے، بلکہ وہ موبائل ہے جو ہمیں دنیا بھر کے انجان لوگوں سے جوڑے رکھنے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔
ہم بھول گئے ہیں کہ انسانی لمس، آمنے سامنے بیٹھ کر کی جانے والی بے مقصد باتیں اور ایک دوسرے کی خاموشی کو محسوس کرنا ہی وہ ریشم تھا جس سے رشتوں کا تانا بانا بنا جاتا تھا۔ جب ہم اسکرینوں کی نیلی روشنی میں گم ہوتے ہیں، تو ہمارے درمیان موجود محبت کی فطری روشنی ماند پڑنے لگتی ہے۔ یہ ڈیجیٹل دیواریں اینٹ اور گارے کی دیواروں سے کہیں زیادہ مضبوط اور بے حس ہیں، جنہوں نے ہمیں اپنے ہی گھروں میں اجنبی بنا کر تنہائی کے ایک ایسے اندھیرے میں دھکیل دیا ہے جہاں صرف اسکرولنگ (Scrolling) کی آواز سنائی دیتی ہے۔.
ڈیجیٹل تنہائی محض ایک سماجی رویہ نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنی وبا ہے، جو خاموشی سے ہماری نفسیات کی جڑوں کو چاٹ رہی ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق، ہر وقت آن لائن رہنے کی مجبوری اور "نوٹیفکیشنز” کا انتظار ہمارے اعصاب کو مستقل تناؤ میں رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں اضطراب (Anxiety) اور بے سکونی ہماری شخصیت کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ جب ہم اپنی خوشیوں اور کامیابیوں کا محور دوسروں کے "لائیکس” اور "کمنٹس” کو بنا لیتے ہیں، تو ہم دراصل اپنے سکون کا اختیار ان لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں جو ہمیں جانتے تک نہیں۔ رات گئے تک اسکرینوں سے نکلتی نیلی روشنی نہ صرف ہماری نیند اڑا رہی ہے، بلکہ ہماری سوچنے، سمجھنے اور گہرائی میں جا کر کسی مسئلے کا حل نکالنے کی صلاحیت کو بھی بانجھ کر رہی ہے۔ ہم "انفارمیشن” کے ڈھیر میں تو دب گئے ہیں، مگر "حکمت” اور "دانش” سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔
لیکن مایوسی کے اس گھپ اندھیرے سے نکلنے کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ اس کا حل ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر ترک کرنے میں نہیں، بلکہ اسے اس کی اصل اوقات میں رکھنے اور اس کے استعمال کا سلیقہ سیکھنے میں ہے۔ ہمیں شعوری طور پر "ڈیجیٹل ڈائٹ” اپنانی ہوگی؛ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ دن کا کتنا حصہ ہم اس بے جان مشین کو دیں گے اور کتنا حصہ اپنی روح اور اپنے پیاروں کے نام کریں گے۔ دسترخوان پر موبائل کو خاموش کرنا محض ایک تمیز نہیں بلکہ رشتوں کا احترام ہے، اور رات کو سونے سے پہلے اسکرین کے سحر کو توڑ کر کسی کتاب کا سہارا لینا یا اپنے شریکِ حیات اور بچوں سے گفتگو کرنا وہ تریاق ہے جو اس ڈیجیٹل زہر کو ختم کر سکتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ انٹرنیٹ کے بغیر گزاری گئی چند گھڑیوں کی خاموشی دراصل وہ "خلوت” (Solitude) ہے جو ہمیں خود سے ملاقات کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے، جہاں ہم اپنے بکھرے ہوئے خیالات کو یکجا کر سکتے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ رابطہ وقت کی ضرورت ہے، مگر اس کی قیمت اپنی ذہنی صحت اور حقیقی رشتوں کی قربانی دے کر ادا کرنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہماری انگلیاں اسکرینوں پر گھستے گھستے پتھر کی ہو جائیں اور ہمارے احساسات منجمد ہو جائیں، ہمیں ایک دوسرے کے ہاتھ تھامنے ہوں گے۔ زندگی موبائل کی پانچ انچ کی اسکرین میں قید نہیں ہے، بلکہ یہ باہر کی وسیع کائنات، بارش کی بوندوں، پرندوں کی چہچہاہٹ، جیتی جاگتی مسکراہٹوں اور مخلصانہ جذبوں میں پنہاں ہے۔ آئیے، آج سے یہ عہد کریں کہ ہم "آن لائن” تو رہیں گے، مگر اپنی "حقیقی زندگی” کو "آف لائن” نہیں ہونے دیں گے۔
ہمیں ٹیکنالوجی کا غلام نہیں بلکہ اس کا حاکم بن کر جینا ہوگا تاکہ انسانیت کی وہ تپش برقرار رہے جو مشینوں کے اس سرد دور میں ہماری بقا کی ضامن ہے۔



