February 28, 2021

مادری زبان کا تحفظ ہی ہماری تہذیب وتمدن کے بقاء کی ضمانت

مادری زبان کا تحفظ ہی ہماری تہذیب وتمدن کے بقاء کی ضمانت

 

تحریر ۔ ڈاکٹر تبریز حسین تاج
صحافی و اسکالر حیدرآباد

محترم دوستو دنیا بھر میں کل 21فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منایا گیا ہے۔ اِس موقع پر مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا گیا۔ملکی اور غیر ملکی اخبارات میں مادری زبان کے فروغ اور استعمال کے تعلق سے بیشتر مضامین دیکھنے کو ملے۔ اِس کے علاوہ کئی مقامات پر یوم مادری زبان کی مناسبت سے تقاریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔سب پہلے میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے ہی مادری زبان میں تعلیم کا حامی رہاہوں۔ میں ہمیشہ سب کو یہی مشورہ دیتا ہونکہ مادری زبان میں تعلیم دلائیں یاکم ازکم اپنے بچوں کیلئے گھر میں کم ازکم مادری زبان کورسم الخط کے ساتھ سیکھنے کا انتظام کریں۔میں اپنا شمار اُن لوگوں میں کرتا ہوں جو زبان کو ایک تہذیب اور تمدن مانتے ہیں اور اسکو پروان چڑھانے کیلئے کوشاں ہیں۔میرا تعلق ملک کی شیریں اور گنگاجمنی تہذیب سے مالامال زبان یعنی اردو سے ہے۔میں یہاں یہ بھی واضح کردینا چاہتا ہونکہ میں نے اپنی اسکولی تعلیم یعنی اول جماعت سے لیکر یونیورسٹی سطح کی تعلیم پی ایچ ڈی تک اردو میڈیم (اردو رسم الخط) سے حاصل کی ہے۔
اگر تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو ہمیں اردو زبان میں بیش قیمت خزانے ملیں گے۔ اِس ملک میں پیدا ہوئی یہ زبان کبھی یہاں مقننہ، عدلیہ سے لیکر ہر عام و خاص کی زبان تھی۔راقم نے تلنگانہ میں اردو زبان کے تعلق سے ایک سرسری مطالعہ کیا جس میں یہ پایا گیا ہے کہ اردو زبان آج بھی تقریباً90فیصد سے زائد گھر وں کی الماریوں میں دستاویز کی زبان بن کر محفوظ ہے۔کیونکہ یہاں تین دہائیوں قبل تک رجسٹریشن کے دستاویزات اردو زبان میں تحریر کیے جاتے تھے۔آصفیہ دور حکومت میں اردو زبان ہر سطح پر رائج تھی۔ ٹپہ خانہ سے لیکر کوتوالی ہر دفتر میں اردو رائج تھی بلکہ اردو میں درخواست لکھی ہی نہیں بلکہ جواب بھی اردو میں دیا جاتا تھا حتی کہ سرکاری رسید تک اردو میں دی جاتی تھیں۔حیدرآباد کے پہلے چیف منسٹر بی رام کرشنا راؤ ایک بہترین اردو داں تھے جنہوں نے اپنی تعلیم دکن کی معروف درسگاہ جامعہ نظامیہ سے حاصل کی تھی۔جبکہ آندھراپردیش کے سابق ڈپٹی چیف منسٹر و تلنگانہ تحریک کے بانیوں میں شامل کونڈا وینکٹ رینکٹ رنگاریڈی بھی ایک بہتریں اردو داں تھے۔ جن کو آج بھی تلنگانہ میں اُنکے اردو محاورے”غلامی کی زندگی سے موت اچھی ہے“ سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ تلنگانہ کے نظریہ ساز پروفیسر جئے شنکر بھی ایک اچھے اردو داں تھے۔اُنہوں نے اپنی تعلیم اردو زبان میں حاصل کی تھی۔ راقم خود اُنکی اردو دانی سے بے حد متاثررہا ہے۔جب وہ اردو میں بات کرتے تھے تو کانوں میں رس گھولتا تھا۔اپنی بات کو میں اردو کے مجاہد شاعر آنند موہن زتشی گلزار دہلوی کے اِس شعر سے آگے بڑھاتا ہوں کہ
زباں ہماری حریفوں سے رد نہیں ہوگی
جوخود زبان کو بھولے تو حد نہیں ہوگی
مادری زبان کا تحفظ کوئی اور نہیں کریگا بلکہ ہمیں خود کرنا ہے۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں اپنی مادری زبان کے سفیر بن کر جاتے ہیں۔ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ا سکے فروغ کیلئے کوشش کریں۔ لیکن میں آج افسوس کے ساتھ تحریر کررہا ہوں کہ ہمارے چند احساس کمتری کا شکار احباب کا یہ ماننا ہے کہ اردو میں تعلیم پانے سے کیا حاصل ہوگا۔احساس کمتری میں مبتلا احباب ہمیشہ نااُمید اور ناکامی کا رونا روتے ہیں۔میرا یہ ماننا ہے کہ ایسی باتیں تعلیم کو صرف روزتک محدود کرنے والے بچوں کو طوطے کی طرح سبق رٹانے والے ہی کرتے ہیں۔ جبکہ تعلیم کو اخلاق اور تہذیب کا خزانہ سمجھنے والے مادری زبان میں تعلیم کی ہی وکالت کرتے ہیں۔کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے بیشتر ماہرین اِس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مادری زبان میں ہی بچے اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں بلکہ اپنے احساسات اور جذبات کو بھی اپنی مادری زبان میں ہی اچھی طرح سے پیش کرسکتے ہیں۔فطری طورپر ہر شخص کسی بھی چیز یاپھر کچھ بھی اپنی مادری زبان میں ہی سمجھتا اور اُسے دوسری زبان میں ترجمہ کرکے بولتا ہے اور سمجھ لیں کے اُسے اُس کی مادری زبان میں ہی بولنے کا موقع ملے تواُس کیلئے وہ سونے پر سہاگا ثابت ہوگا۔
حیدرآباد شہر نے دنیا علم کو جامعہ عثمانیہ کی شکل میں اردو زبان میں علم و ادب کا قیمتی اثاثہ دیا تھا۔ تاہم سقوط حیدرآباد کے بعد چند متعصب افراد نے اس خزانے کی شکل وصورت کو بدل دیا۔جبکہ جامعہ کی کیمپس میں موجود دائرۃ المعارف آج بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔ جامعہ عثمانیہ سے طب کی جدید تعلیم اردو میں حاصل کرنے والے بزرگ رہنماء وسابق رکن راجیہ سبھا آنجہانی ڈاکٹر راج بہادر گوڑ کا جب راقم نے ایک انٹر ویو لیا تھا۔ اُن کی اردو گفتگو سے کافی متاثر ہوا تھا۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں جرنلزم کے کورس کے دوران کورس ورک کے طور پر یہ انٹر ویو ریڈیو ڈاکو منٹری کیلئے لیا گیا تھا۔تب میں فون پر محترم راج بہادر گوڑ سے اُن کے قیام گاہ کاپتہ پوچھا تو اُنہوں نے مخدوم کی شاعری میں یوں جواب دیا کہ میکدے سے ذرا یک موڑ پر آپکو چنبیلی کا منڈواملے گا۔پہلے تو میں سمجھ نہیں پایا پھر دوبارہ پوچھا تو وہی جواب ملا جناب آپ اِس وقت جہاں کھڑے ہیں وہاں میکدہ ہے او ر اُسی کے بازو سے جو راستہ نکلتا ہے وہ میرے چنبیلی کے منڈوے کو لے آئیگا۔یہاں میں یہ بتادؤں کہ ”چنبیلی کا منڈوا“ جناب ڈاکٹر راج بہادرگوڑ صاحب کے گھر کا نام ہے۔راج بہادر گوڑ صاحب مخدوم صاحب کے قریبی دوستوں میں شمار کیے جاتے تھے اسی لئے اُنہوں نے اپنے گھر کا نام ”چنبیلی کا منڈوا“ رکھا۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے دور طالب علمی کا ذکر کرتے ہوئے جامعہ عثمانیہ کے اردو ماحول اور شیروانی کلچرکی یادیں تازہ کیں اور کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں دنیا بھر سے ماہر یں کو لا یا گیا تھااورتمام علوم کا اردو میں ترجمہ کرایا گیا تھا۔جس میں فلکیات سے لیکر کرہ ارض کی جانکاری جغرافیا وغیرہ سب کچھ اردو میں دستیاب تھا۔
تلنگانہ تشکیل سے اردو داں طبقے میں یہ اُمید پیدا ہوئی تھی کہ تلنگانہ ریاست میں اردو زبان کو اُسکا مقام حاصل ہوگا۔ لیکن تلنگانہ تشکیل کے بعد بھی اردو میڈیم اسکول بند ہونے کا سلسلہ تھم نہیں رہاہے۔یہاں میں اردو میڈیم اسکولوں کے بند ہونے کیلئے صرف حکومت کو ہی ذمہ دار نہیں مانتا ہوں بلکہ اہل اردو کو بھی ذمہ دار مانتا ہوں کیونکہ ہم نے اپنے بچوں کو اردو میڈی میں تعلیم دلانے کے بجائے انگریزی میڈی میں تعلیم دلانے کو قابل فخر سمجھا۔حالانکہ یہ ایک تسلیم شدی حقیقت ہے کہ جرمن میں صرف جرمنی بولی جاتی ہے۔ جاپان میں جاپانی بولی جاتی ہے۔ چین میں چینی بولی جاتی ہے۔ ترکی ترکی زبان اور ایران میں فارسی ہی بولی جاتی ہے۔

لیکن ہم اہلیان اردو کو پتہ نہیں کیا ہوا ہم اپنی مادری زبان کے بجائے اغیاروں کی زبان کو پسند کرتے ہیں۔میرا ایک ہی سوال ہے اِن افراد سے کہ کیا اغیار کی زبان میں تعلیم حاصل کرنے والا اپنی تہذیب اور تمدن کا نگہبان بن سکتا ہے؟ اُسکے بچپن سے جو زبان سکھائی جارہی وہ اُسی زبان کا مجاہد بنے گا، یعنی خود ہم اپنے گھروں میں اپنی مادری زبان کے باغیوں کو جنم دے رہے ہیں۔میں واضح کردینا چاہتاہونکہ میں کسی بھی زبان کامخالف نہیں ہوں۔ کیونکہ میں خود اردو ہندی کے بشمول علاقائی زبانیں تلگو کنڈی مراٹھی تمل کے ساتھ ساتھ اور انگریزی بھی جانتا ہوں۔لیکن مجھے لطف اور مزہ اردو بولنے اور سننے میں آتا ہے کیونکہ میں نے اسی زبان میں ماں سے لوری اور ابو سے ڈانٹ سنی تو دوستوں سے مذاق بھی اسی زبان میں ہی کیا ہے۔غصے میں گالیاں بھی اسی زبان میں سنیں ہیں۔یعنی اردو میری رگ رگ میں بسی ہے۔
میں اپنے اس مضموں میں ملک کے موجودہ نائب صدر جمہوریہ ہند عزت مآب جناب ایم وینکیا نائیڈو صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہونکہ انہوں نے عالمی مادری زبا ن کے موقع پرمیری ماں کی زبان اردو میں بھی اپنا مضمون شائع کراکے ہم اہلیان اردو کو احسان مند بنا دیا بلکہ ہماری حس کو جگادیا ہے۔ ہم کویہ سمجھا دیا کہ ہمیں مادری زبان میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔بلکہ اُن کمزور ذہینوں کو بھی سبق دیا کہ کوئی زبان کمزور نہیں ہوتی بلکہ زبان سمجھنے کا ایک سورس یعنی کمونی کیشن ٹول ہے۔اللہ کے بنی ﷺ کا فرمان بھی ہے کون کہے رہا ہے مت دیکھو بلکہ کیا کہے رہا ہے یہ دیکھو۔
میں یہاں محترم ڈاکٹر محمد قطب الدین بھاگ نگری صاحب کا ذکر بھی کرونگا کیونکہ اُنہوں نے مادری زبان، اردو زبان کے تحفظ کی مہم شروع کی ہے۔ حیدرآباد کے مایہ ناز سپوت جو اِس وقت امریکہ کے شکاگو میں مقیم ہیں ایک ماہر نفسیات ہیں۔اُنہوں نے اپنی کالج تک کی تعلیم اردو زبان میں حاصل کی ہے۔اُنکے ایک قریبی رشتہ دار جو اس وقت جوبائیڈن انتظامیہ میں اٹارنی کے طور پر فائز ہیں وہ بھی اردو دان ہی ہیں۔میری اکثر ڈاکٹر قطب الدین صاحب سے ٹیلی فونک بات چیت ہوا کرتی ہے۔ہمیشہ وہ اردو کے فروغ کیلئے ہی کام کرنے کی تلقین کیا کرتے ہیں۔اُنہوں نے ایسے اسکولوں کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی جہاں مادری زبان یعنی اردو کی تعلیم کانظم نہیں ہے۔
میں یہ بات اس سے قبل تحریر کردی مضامین میں بھی کرچکا ہوں کہ آج کل آن لائن کا دور ہے۔ اور آن لائن پر اردو دستیاب ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر کے بشمول سماجی رابطے کی تمام سائٹس پر اردو کے استعمال کو یقینی بنائیں۔کیونکہ آج اردو صرف برصغیر کی ہی زبان نہیں بلکہ دنیا کے سینکڑوں ملکوں میں اردو کی آبادیاں قائم ہورہی ہیں۔ آخر میں بس یہی کہونگا کہ اردو زبان کے تحفظ سے ہی ہماری تہذیب کی بقاء ہے۔ورنہ ہمیں صرف تاریخ میں ہی یاد کیا جائیگا۔۔۔۔