شفیق الرحمٰن نے اردو طنزومزاح کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایا


شفیق الرحمن بہت ہی اہم مزاح نگار تھے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انھوں نے افسانے، پیروڈیاں، سفر نامے، رپورتاژ لکھے اور ایک انگریزی ناول ہیومن کامیڈی کا ترجمہ اردو میں ”انسانی تماشا“ کے نام سے کیا۔ان کے مزاحیہ مضامین پر رومانیت کا غلبہ نظر آتا ہے۔ انھوں نے کئی یادگار کردار تخلیق کیے اور یادگار پیروڈیاں لکھیں جن میں سفر نامہ جہاز باد سندھی، تزک نادری عرف سیاحت نامہئ عہد، قصہ حاتم طائی بے تصویر، چہاردرویش وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ”تزک نادری“ لکھ کر انھوں نے مغل بادشاہوں کا مذاق اڑایا جو تزک کے نام سے اپنے حالات زندگی لکھا کرتے تھے۔“ ان خیالات کا اظہار پروفیسرمحمد نسیم الدین فریس،ڈین اسکول براے السنہ، لسانیات و ہندوستانیات اور صدر شعبہئ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی نے بازگشت آن لائن ادبی فورم کی جانب سے ممتاز طنزومزاح نگار شفیق الرحمٰن کی کتاب ”مزید حماقتیں“ سے منتخب اقتباسات کی پیش کش اور گفتگو پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ بازگشت کی جانب سے بھولی بسری تخلیقات کی پیش کش کا سلسلہ قابل قدر ہے۔ اس کے ذریعے ہمیں کلاسیکی متون کے مطالعے اوران پر غوروفکر کا موقع حاصل ہو رہاہے۔ڈاکٹر بی بی رضا خاتون،استاد شعبہ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی نے بحیثیت مہمان خصوصی کہا کہ اردو نثر میں طنز مزاح کی روایت بہت قدیم ہے۔ داستانوں میں لطائف کے ذریعے مزاح پیدا کیا جاتا تھا۔ پھر خطوط غالب اور اودھ پنچ کی روایت موجود ہے۔ شفیق الرحمن کا تعلق شوکت تھانوی، کنھیا لال کپور وغیرہ کی نسل سے ہے۔ وہ ایک منفرد مزاح نگار تھے اور اعلیٰ درجے کی پیروڈیاں لکھیں۔ ان کے مضامین افسانوی رنگ لیے ہوئے ہیں۔ وہ لطائف سے مزاح پیدا کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہلکی پھلکی ہوتی ہیں۔ ان میں فکر وفن کی وہ گہرائی نہیں تھی جو ان کے معاصرین کی تحریروں میں پائی جاتی ہیں۔ ان کے مضامین ہلکی پھلکی تفریح کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ انھوں نے ایسے کردار تخلیق کیے جو حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔ انھوں نے ناقابلِ فراموش کردار اردو ادب کو دیے۔ ڈاکٹر بی بی رضا نے کہا کہ طنزو مزاح انسانی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے اور مبالغہ آمیز انداز اختیار کرتا ہے۔ اس لیے عورت کو ایک موضوع سمجھنا چاہیے۔ طنز ومزاح کا جائزہ فیمنسٹ یا نسائی نقطہئ نظر سے نہیں لینا چاہیے۔ ابتدا میں ڈاکٹر مریم فاطمہ، استاد، گورنمنٹ گرلز جونیئر کالج، نظام آباد نے شفیق الرحمن کے مزاحیہ مضامین کے مجموعے ”مزید حماقتیں“ سے مضمون ”زنانہ اردو خط و کتابت“ عمدگی سے پیش کیا۔پروگرام کی کنوینربازگشت آن لائن ادبی فورم کے مجلس منتظمہ کی رکن ڈاکٹر گل رعنا، استاد شعبہ اردو، تلنگانہ یونی ورسٹی، نظام آبادنے حاضرین کا خیر مقدم کیااور ڈاکٹر مریم فاطمہ کا تعارف کرایا۔ شفیق الرحمٰن کا مختصر تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر گل رعنا نے بتایا کہ وہ  9نومبر 1920کو کلانور ضلع روہتک(ہریانہ)  میں پیدا ہوئے۔انھوں نے پنجاب سے ایم بی بی ایس اور برطانیہ کی ایڈنبرا یونی ورسٹی سے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ اکیس برس کی عمر میں انڈین آرمی سے وابستہ ہوگئے۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان آرمی میں جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ بعد ازاں انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا چیئر مین مقرر کیا گیا۔انھیں فوجی اور شہری خدمات کے عوض ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔کرنیں، شگوفے، لہریں، مدو جزر، پرواز، پچھتاوے، حماقتیں، مزید حماقتیں وغیرہ ان کی اہم تصانیف ہیں۔19مارچ 2000کو راول پنڈی(پاکستان) میں ان کی وفات ہوئی۔مجلسِ منتظمہ کی رکن ڈاکٹر حمیرہ سعید، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن، سنگا ریڈی نے ڈاکٹر بی بی رضا خاتون کا تعارف کرایا اور آخر میں اظہار تشکر کیا۔اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب، اساتذہ اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں پروفیسر صدیقی محمد محمود،رجسٹرار مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی،پروفیسر حمید اکبر، پروفیسر ستار ساحر،جناب سید امتیاز الدین، پروفیسرحبیب نثار،ڈاکٹر حلیمہ فردوس، ڈاکٹر عقیل ہاشمی، پروفیسرغلام شبیر رانا،جناب ملکیت سنگھ مچھانا، ڈاکٹر سید محمود کاظمی، جناب سردار علی،جناب غوث ارسلان،ڈاکٹر تلمیذ فاطمہ نقوی، محترمہ افشاں جبیں فرشوری، ڈاکٹر رحیل صدیقی، ڈاکٹر عشرت ناہید، ڈاکٹر ہادی سرمدی،محترمہ صائمہ بیگ، محترمہ فرح تزئین،جناب نوشاد انجم، محترمہ عصمت خاں انجم، ڈاکٹرناظم علی، ڈاکٹر اسلم فاروقی،محترمہ عظمت دلال، محترمہ انجمن النسا، محترمہ عظمیٰ تسنیم،جناب فرید احمد،جناب قدیر پرویز وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔