کولکتہ میں بھی اردو کے زندہ ہونے پر فخر ہونا چاہئے: پروفیسر صغیر افراہیم


شعبہ اردو، عالیہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز ویبنار کا کامیاب انعقاد ہوا جس کا موضوع ”اکیسویں صدی اور اردو ادب“ دیا گیا تھ اجس میں مختلف جامعات کے 22 اسکالرز نے مقالات پیش کئے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈنمارک میں مقیم نامور اردو صحافی، شاعر، مترجم اور لغت نویس جناب نصر ملک نے کی۔ اجلاس کا آغاز محمد شاداب انصاری کے تلاوت قرآن سے ہوا۔ خیر مقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر درخشاں زریں نے ویبنارکی غرض و غایت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ شعبہ اردو کے تحت یہ پہلا ریسرچ اسکالرز ویبنارہے، جس میں اس شعبہ کے 19اسکالرز کے علاوہ ملک کی دیگر جامعات سے سات اسکالرز شرکت کر رہے ہیں۔ اس ویبنارکا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ان نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ ان کی تنقید اور تحقیق کی سمت و رفتار کا اندازہ لگایا جاسکے تاکہ اردو قلم کاروں کی یہ نسل تازہ کاری کے ساتھ زبان و ادب کے فروغ میں حصہ لے سکیں۔     پروفیسر سید نور السلام (رجسٹرار، عالیہ یونیورسٹی)، پروفیسر میر رضاء الکریم (ڈین برائے انسانیات و لسانیات)  ڈاکٹر اشفاق علی (ڈپٹی رجسٹرار)،پروفیسر امجد حسین(ڈین برائے امور طلبہ) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شعبہ اردو کے اس مستحسن قدم پر انھیں مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اردو شعبہ نہایت فعال ہے اور اپنے طالب علموں اور ریسرچ اسکالرس کے لیے ہمیشہ کوشاں  رہتا ہے۔ انہوں نے شعبہ اردو کی فعالیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ابھی کچھ دنوں قبل ہی مولانا ابولکلام آزاد میموریل لیکچر کا انعقاد کیا اور اب ایسے معاصر موضوع پر ویبنارکا انعقاد کرکے پورے ملک کے اسکالرز کو اکٹھا کردیا گیا جو قابل تحسین قدم ہے۔ پروفیسر صغیر افراہیم نے کلیدی خطبہ پیش کر تے ہوئے پچھلی دو دہائیوں میں لکھی جارہی اہم ادبی نگارشات پر بلیغ اور معلومات افزا گفتگو کی۔ انہوں نے افسانہ، ناول، سوانح، سفر نامہ، خاکہ، شاعری اور غیر افسانوی نگارشات سے متعلق بیش بہا معلومات پیش کیے۔ساتھ ہی کورونا وبا  پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا سامنا ایسے نا مساعد حالات سے ہیں جن سے سماج کا ہر طبقہ متاثر ہوا ہے۔ یہ کیسی مجبوری ہے کہ ہم اپنوں سے ہاتھ نہیں ملا سکتے۔ بچوں سے گلے نہیں مل سکتے۔ غریب طبقہ ایک ایسی ہجرت سے دوچار ہے جو آزادی کے بعد کی نقل مکانی یا پھر روزگار کی تلاش میں غیر ممالک ہجرت کر جانے سے مختلف ہے۔ کیا آج کا فکشن نگار ان موضوعات پر لکھ رہا ہے؟  یہ سوال قائم کرکے صغیر افراہیم صاحب نے تخلیق کاروں کی عصری مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی۔
ڈنمارک میں مقیم نصر ملک نے صدارتی خطبہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اندر مطالعہ کا جو ذوق ہے وہ بد قسمتی سے کم ہے۔ ہمیں صرف جستجو کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کولکتہ کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ”اردو ادب کی تخلیق کے لئے کولکتہ کا جو کردار رہا ہیاسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔”۔ انہوں نے ویبنارکے انعقاد پر ڈاکٹر درخشاں زریں کی ہمت اور مساعی کی داد دیتے ہوئے انہیں کامیابی کی دعا دی۔افتتاحی جلسے کی نظامت شعبہ اردو کی ریسرچ اسکالر طلعت فاطمہ نے انجام دی۔اور اظہار تشکر کے کلمات ریسرچ اسکالر محمد آثار عالم انصاری نے پیش کئے۔
ویبنار کے پہلے اجلاس میں محمد منظر حسین(اکیسویں صدی میں اردو فروغ اور امکانات)، سعدیہ صدف(اکیسویں صدی کی شاعرات بنگالہ اور تانیثی ڈسکورس)، آصف پرویز(شہری مسائل اور ہم عصر اردو افسانے)، فرحت نازیہ(اکیسویں صدی کا ناول ”مانجھی”کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ)، عطائاللہ فیاض(اکیسویں صدی اور منور رانا)، افسری بیگم(اکیسویں صدی اور اقبال مجید کی افسانہ نگاری)، صوفیہ محمود (اکیسویں صدی میں مغربی بنگال کی خواتین مترجمین)، ارشاد احمد(اکیسویں صدی اور اسلوبیاتی تنقید)، رخسار پروین(اکیسویں صدی کے اردو ناولوں میں عصری حسیت)، انعام الرحمن(اکیسویں صدی میں اردو لسانیات اور مرزا خلیل احمد بیگ)، اور توصیف الرحمن (اکیسویں صدی اور مشرف عالم ذوقی کی ناول نگاری) نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے۔ پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جناب نصر ملک نے تمام مقالات پر اظہار خیال کرتے ہوئے اسکالرز کو مفید مشوروں سے نوازا۔
دوسرا اجلاس پروفیسر صغیر افراہیم کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں شاہد اقبال(اکیسویں صدی میں مغربی بنگال کے اردو سفر نامے)، طلعت فاطمہ(اکیسویں صدی کی اردو نظموں میں تنہائی، خوف اور مایوسی کی پرچھائیں)، آثار عالم انصاری(نئی تفہیم، نئی تنقید اور وارث علوی)، محمد عطاء اللہ (چند ہم عصرناولوں کا تاریخی اور تہذیبی مطالعہ)،
ارشد حسین(رحمٰن عباس:اکیسویں صدی کا ناول نگار)، نیلوفر پروین(اکیسویں صدی اور ترنم ریاض کی افسانہ نگاری)، شگفتہ جہان(اکیسویں صدی میں بنگال میں اردو ناول اور ہجور آما)،  تجمل حسین(اکیسویں صدی کا تحقیقی و تنقیدی منظر نامہ اور خلیق انجم)، افسانہ خاتون(اکیسویں صدی کے افسانوں میں تصور وقت اور قرات العین حیدر)، تمنا پروین (اکیسویں صدی میں خواتین کی اردو ادبی خدمات)، مفتی ثاقب رضا(ذکیہ مشہدی کی افسانہ نگاری اکیسویں صدی کے حوالے سے) نے اپنے مقالات پیش کیے۔ صدارت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے پروفیسر صغیر افراہیم نیایک ایک مقالے باتیں کی۔ مقالات میں در آئیں لغزشوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسکالرز کو مفید مشوروں سے بھی نوازا۔
پہلے اور دوسرے اجلاس کی نظامت کا فریضہ شاہد اقبال اور محمد منظر حسین نے انجام دیا۔
شعبہ اردو عالیہ یونیورسٹی کی اساتذہ ڈاکٹر اقلیمہ خاتون اور ڈاکٹر سیدہ مہریہ مرشد القادری (ویبینار کنوینر)نے تمام مہمانان اور اساتذہ و شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ اس ویبنارمیں شعبہ کے دیگر اساتذہ ڈاکٹر سعید احمد، ڈاکٹر نیلوفر فردوس تمام ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات کے علاوہ کثیر  تعداد میں دیگر ریاستوں اور اسکول کالجوں سے سامعین شامل تھے جن میں مولانا آزاد کالج,کولکاتا کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر دبیر احمد اور سنٹر فور انڈین لینگویجز(اردو)، گیا کے پروفیسر جناب احمد کفیل نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس کی کامیابی پر شعبہ کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کی۔