مالیگاؤں بم دھماکہ _ کرنل پروہت کی جانب سے پیش کیئے گئے آرمی کے دستاویزات کو ہائی کورٹ نے قبول کرنے سے انکار کردیا


ممبئی3 / مارچ ( پریس ریلیز)مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ کے کلیدی ملزم کرنل شریکانت پروہت کی جانب سے مقدمہ سے ڈسچارج کرنے والی عرضداشت پرآج ممبئی ہائی کورٹ میں ایک بار پھر بحث شروع ہوئی جس کے دوران کرنل پروہت کو آج اس وقت ایک بار پھر مایوسی ہاتھ لگی جب ممبئی ہائی کورٹ نے آرمی کی جانب سے جاری کیئے گئے دستاویزات کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ملزم کی جانب سے عدالت کی منت سماجت کیئے جانے کے بعد عدالت اس شرط پر دستاویزات کو قبول کرنے کے لیئے تیار ہوئی کہ انڈین آرمی ان دستاویزات کو حلف نامہ کے ساتھ عدالت میں داخل کریگا اور ان دستاویزات کو دیگر فریقین کو بھی دیا جائے گا جس میں بم دھماکہ متاثرین بھی شامل ہیں۔اس سے قبل کی سماعت پر بھی کرنل پروہت کی جانب سے پیش کردہ مہر بند لفافہ کو عدالت نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ و سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا بی اے دیسائی نے آج پھر اعتراض کیا کہ بغیر ہوم منسٹر یا آرمی چیف کے حلف نامہ کے ملزم عدالت میں آرمی کا کوئی بھی ریکارڈ پیش نہیں کرسکتا جس پر ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس مینش پٹالے نے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ اگر ملزم چاہتا ہیکہ اس کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کو عدالت قبول کرے تو اسے قانونی عمل سے گذرنا ہوگا اور قانون کے مطابق دستاویزات کو داخل کرنا ہوگا۔
عدالت کا سخت رویہ دیکھتے ہوئے ملزم کرنل پروہت کے وکیل نے عدالت کو کہا کہ وہ معاملے کی اگلی سماعت پر حلف نامہ کے ساتھ آرمی کی جانب سے اسے دیئے گئے دستاویزات کو عدالت میں پیش کرنے کی کوشش کریگا۔
ایڈوکیٹ شیودے نے عدالت کو بتایا کہ وہ دستاویزات بم دھماکہ متاثرین کو دینا چاہتا ہے لیکن بم دھماکہ متاثرین ان دستاویزات کو میڈیا میں دے دیں گے لہذا وہ انہیں دینے سے کترا رہا ہے کیونکہ یہ دستاویزات ملک کی سالمیت کے تعلق سے اہمیت رکھتے ہیں جس پر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے کہا کہ انہیں ایسا کوئی بھی کاغذ نہیں چاہئے جو غیر قانونی طریقے سے عدالت میں پیش کیا جارہا ہو۔
ایڈوکیٹ ششی کانت شیودے نے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو گرفتار کرنے سے قبل اے ٹی ایس نے کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ (2) 197کے تحت ضروری خصوصی اجازت نامہ یعنی کے سینکشن آرڈر حاصل نہیں کیا گیا تھا لہذا ملزم کی گرفتاری ہی غیر قانونی ہے۔
اسی ددرمیان آج عدالتی کارروائی کا اختتام ہوا جس کے بعد عدالت نے بقیہ بحث کے لیئے 17مارچ کو تین بجے کا وقت مقرر کیا۔
دوران کاررائی ممبئی ہائی کورٹ میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ کرتیکا اگروال، ایڈوکیٹ ارشد شیخ، ایڈوکیٹ عادل شیخ و دیگر موجود تھے۔
اسی درمیان آج خصوصی این آئی اے عدالت نے کرنل پروہت کے وکیل کے عدالت سے غیر حاضر رہنے اور گواہ استغاثہ سے جرح نہ کرنے پر دو ہزار روپیہ جرمانہ عائد کیا اور کرنل پروہت کو حکم دیا کہ وہ اس کے وکیل کو عدالت میں حاضر کرے تاکہ وہ گواہ استغاثہ سے جرح کرسکے۔