ہندوستان کے چیف جسٹس کا ذہن ایسا ہے توپھر انصاف کس طرح قائم ہوگا۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ

نئی دہلی 4 مارچ(پریس ریلیز)۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ (WIM) چیف جسٹس آف انڈیا کی ذہنیت پر دنگ رہ گئی ہے جنہوں نے عصمت دری کی متاثرہ سے عصمت دری کے ملزم سے شادی کرنے کو کہا تاکہ ملزم کی مدد کی جاسکے۔ یہ نہ صرف انصاف کی تضحیک ہے بلکہ خواتین کی وقارکی بھی توہین ہے۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر مہرالنساء خان نے خواتین کے وقار اور خود مختاری کی قیمت پر عصمت دری کے ملزم کو مدد کی پیش کش کرنے والے چیف جسٹس کی ا س نرمی اور بداخلاتی کی مذمت کی ہے۔ ہمارے ملک کی عدالت عظمی میں اس طریقے کی کارروائی سے خاص طور پر خواتین اور عام طور پر لوگوں کیلئے انصاف کی فراہمی میں پوری عدلیہ پر اثر پڑے گا۔ اس سے پولیس اور دیگر ایجنسیوں کو عصمت دری کے مقدمات اور اس کی کارروائی کو رجسٹر کرنے میں غلط اشارے ملیں گے۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر مہرالنساء خان نے مزید کہا ہے کہ چیف جسٹس کا خواتین کے بارے میں پہلے کے تبصرے بہت ہی توہین آمیز اور عورتوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو پامال کررہے تھے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ‘کسانوں کے احتجاج میں خواتین کسانوں کو کیوں رکھا جارہا ہے اور انہیں گھر واپس بھیج دیا جائے گا ‘۔ سابقہ چیف جسٹس کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے معاملے میں، چیف جسٹس نے شکایت کنندہ پر ہتک آمیز اور جھوٹے حملے کئے۔ یہ سب خواتین کی آوازوں، حقوق اور وقار کو دبانے کی کوششیں ہیں۔ چیف جسٹس کو یہ جاننا ہوگا کہ عورت ایک انسان ہے اور سماج کے ایک حصہ کے طور پر اس کو بھی مرد کے برابر تمام بنیادی اور آئینی حقوق حاصل ہیں۔ چیف جسٹس نے خواتین کے وقار پر جان بوجھ کر حملے کئے ہیں۔ اور عصمت دری کے ملزم کی مدد کرکے عورت کی عزت کو ترک کیا ہے۔ لہذا، عدلیہ کو اس بے ہودگی کی طرف دیکھنا چاہئے اور ا علی اخلاقیات کو برقرار رکھنے کیلئے اورعدالت عظمی کے امتیازی مقام اور وقار کو برقرار رکھنے کیلئے غلطیوں اور تضادات سے باز آنا چاہئے۔