معاشی آزادی ہی خواتین کی ترقی کی ضامن ہے: پروفیسر فاروق بخشی

حیدرآباد، 5 مارچ (پریس ریلیز) معاشی ترقی کے بغیر عورت کی آزادی کاہر خواب ادھورا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر فاروق بخشی نے گذشتہ اتوار کو اردو ہال، حمایت نگر میں منعقدہ حیدرآباد کی معروف ادیبہ و شاعرہ اور سماجی جہد کار فیعہ نوشین کے رپورتاژ کے مجموعے ”کوئی بات اٹھا نہ رکھنا“ کی رسمِ اجرا کے موقع پر کیا۔ پروفیسر موصوف نے انجمن ترقی پسند مصنفین تلنگانہ اسٹیٹ کے زیر اہتمام اس تقریب میں رفیعہ نوشین کو ان کی بہترین تصنیف پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل ان کے مضامین اور افسانوں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، وہ ایک معروف شاعرہ بھی ہیں جو تمام سماجی مسائلوں پر حساس نقطہ ¿ نظر رکھتی ہیں۔ وہ حیدرآباد کے سماجی حلقوں میں ایک جہد کار کی حیثیت سے بھی شناخت رکھتی ہیں۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کی مالک ہیں۔ ان کے دم سے حیدرآباد کے سماجی اور ادبی حلقوں میں بڑی ہلچل ہے۔ ان کے رپورتاژ کے مجموعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے جامعہ عثمانیہ کی سابق صدر شعبہ ¿ اردو پروفیسر اشرف رفیع نے فرمایا کہ زبان و ادب کی کسوٹی پر یہ رپورتاژ کھرے اترتے ہیں۔ سینئر ادیبہ پروفیسر فاطمہ پروین نے خواتین کی آزادی کے تصور کو اسلام سے جوڑا اور رفیعہ نوشین کو اس کی ایک روشن مثال بتایا۔ سابق ڈائرکٹر تلنگانہ اردو کادمی پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ رفیعہ نوشین کا تمام خانوادہ اردو زبان و ادب کے خدمت گاروں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سلسلہ جاری و ساری رہے بس یہی دُعا ہے۔ معروف افسانہ نگار قمر جمالی نے بڑی سوجھ بوجھ سے رفیعہ نوشین کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب اردو رپورتاژ نگاری کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کرے گی۔ رفیعہ نوشین کے تحقیقی مقالے کی نگراں ڈاکٹر آمنہ تحسین نے ان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑی بے باکی اور صاف گوئی سے خواتین کے مسائل کو اٹھاتی ہیں۔ اس موقع پر بزم سخن شکاگو کے صدر ڈاکٹر منیر الزماں منیر نے بھی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر تاریخی قطعہ نگار استاد سمیع اللہ سمیع نے تاریخی قطعات اور استاد یوسف روش نے اپنا تہنیتی کلام سنا کر محفل کی رونق کو دو بالا کردیا۔ معروف ادیبہ ڈاکٹر اودھیش رانی محترمہ رفیعہ نوشین کی شال پوشی کرتے ہوئے کہا کہ رفیعہ نوشین انجمن ترقی پسند مصنفین کی فعال رکن ہیں۔ انجمن ترقی پسند مصنفین تلنگانہ حیدرآباد نے اس تقریب کا اہتمام کر کے اپنا فرض پورا کیا ہے۔
صاحب کتاب محترمہ رفیعہ نوشین نے انجمن ترقی پسند مصنفین تلنگانہ اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی محبت ہی میرے قلم کی طاقت ہے۔ آپ کی تاثیر مجھے جہد مسلسل کے لیے اکساتی رہتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں شرکت کر کے آپ نے جو میری حوصلہ افزائی کی ہے وہ میرے قلم کی دھار کو تیز تر کر دے گی۔ بعد ازاں شہر کی بہت سی ادبی اور سماجی تنظیموں کی طرف سے رفیعہ نوشین صاحب کی شال پوشی کی گئی اور پھول پیش کیے گئے۔ اس تقریب میں حیدرآباد کی تین بڑے دانش گاہوں کے طلبا، اساتذہ اور شہر کے ادیبوں ، شاعروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ایسی یادگار تقریب اب اردو والوں کے درمیان خال خال ہی ہوتی ہے