اسلامی نقطہ نظر سے عورت کے عظمت و وقار کو سمجھانا وقت کا اہم تغاضہ

 

از: ڈاکٹر تبریز حسین تاج
صحافی و اسکالر حیدرآباد

عالمی یوم خواتین کے موقع پر چند کلمات کے ساتھ آپ کے سامنے پیش ہورہا ہوں۔ مجھے یہ یقین ہے کہ یہ مضمون پڑھنے والے اردو قارئین کی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔اسلام نے بھی عورت کو نمایاں مقام دیا ہے۔علم سیکھنے کی جب بات آتی ہے تو اسلام میں ہر مرد اور عورت پر علم کا حاصل کرنا فرض ہے۔نبی کریم ﷺ کی اس حادیث مبارک سے یہ واضح پیام ملتا ہے کہ علم کے حصول میں جنس کی بنیاد پر ہمیں کوئی امتیاز نہیں کرنا چاہئے۔اگر ہم تعلیمات اسلامی کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اِس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے اسلام میں داخل ہونے والی خاتون اُم المومنین حضرت خدیجہ الکبرا ؓایسی باصلاحیت خاتون رہیں جن کی تجارت ایک مثالی رہی ہے۔ اُم المومنین حضرت خدیجہ الکبراؓ کی حیات پاک سے ہمیں خواتین کے آزادانہ تجارت کا درس ملتا ہے۔آپ ﷺ نے بھی اُم المومنین حضرت خدیجہ الکبر ا ؓ کے تعلق سے فرمایا ہے کہ آپ جہانوں کی عورتوں میں افضل ہیں۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اُم المومنین حضرت خدیجہ الکبرا ؓ کی ذہانت نے تاریخ کو بدل دیا ہے۔
اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالیں تو ہمیں کئی کامیاب خواتین کے نام ملتے ہیں۔جن میں ایک نام حضرت رابعہ بصریؒ کابھی شامل ہے۔جن کا ذکر ہندوستان کے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے بھی اپنی تصنیف میں کرچکے ہیں۔حضرت رابعہ بصری ؒ کی تعلیمات سے اللہ پر توکل کا درس ملتا ہے۔ہمیں اپنی آنے والی نسل کو ایسی کامیاب خواتین کی زندگیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ضروزت ہے۔کیونکہ سماج میں مرد اور خواتین کا برابر کا حصہ ہے۔ اسلام نے اخلاقیات کے دائرے میں خواتین کو بھی اُن کے حقوق عطاکیے ہیں۔شادی کے موقع پر عورت کیلئے مرد کی جانب سے مہر مقرر کیا گیا ہے۔ساتھ ہی ساتھ شوہر پر بیوی کی کفالت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔آج کل ہم مہر کو رسمی ادائیگی تک محدود کردئیے ہیں۔لاکھوں روپئے غیر شرعی طریقوں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ لیکن مہر صرف معمولی رقم رکھی جاتی ہے۔اسلام میں جہیز اور لین دین کا کوئی تصور نہیں ہے لیکن آج بھی ہمارے معاشرے میں جہیزلازمی بن گیا ہے۔تلنگانہ کے چند اضلاع کا دورہ کرنے کا راقم کو موقع ملا۔ میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے کہ کئی والدین نے اپنی لڑکیوں کی شادی کیلئے اپنے اسلاف سے ملی جائیدادوں کو فروخت کردیا ہے۔والدین بے گھر بے زمین ہوکر ایک بیٹی کاگھر بسایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی کئی دلہنوں کو اُنکے سسرال میں خوشیاں حاصل نہیں ہوسکیں۔جہیز کے نام پر ہراسانیوں کا سلسلہ تھم نہیں رہا ہے۔
دکنی زبان کے مشہور شاعر سلیمان خطیب نے بھی اپنی منفرد شاعری میں جہیز کے خلاف آواز بلند کی تھی۔اُنہوں نے اپنی نظم چھورہ چھوری میں والد کے دکھتے ہوئے دل کی فریاد کو منفرد انداز سے بیان کیا ہے۔جب ہم نارائین پیٹ کے گورنمنٹ اسکول لعل مسجد میں 7ویں جماعت میں زیرتعلیم تھے تو اُس وقت مارکٹ لائین ہائی اسکول میں ایک ڈرامہ پیش کیا گیا تھا جو ڈرامہ سلیمان خطیب کی نظم چھورہ چھوری پر مبنی تھا۔والد کا جو درد بھرا انداز آج بھی مجھے یادہے۔اُس وقت جس طالب علم نے والد کا کردار اداکیا تھااُس نے سنجیدگی اور درد بھرے لب ولہجے میں اسے پیش کیا تھا۔ جو کچھ اس طرح تھا۔
خالہ جس کی بچی جوان ہوتی ہے۔
کس مصیبت میں جان ہوتی ہے۔
بوڈھے ماں ماپ کے کلیجے پر
ایک بھاری چٹان ہوتی ہے۔
بہنیں گھر میں جوان بیٹھی ہیں
بھائی چپ ہے کہ کہہ نہیں سکتا
ماں تو گل گل کے خود ہی مرتی ہے
باپ بیٹی کو سہہ نہیں سکتا
جی میں آتا ہے اپنی بچی کو
اپنے ہاتھوں سے خود دفنا دوں
لال جوڑے تو دے نہیں سکتے
لال چادر میں کیوں نہ دفنا دے
یہ بھی دلہن ہے گھر سے جاتی ہے
موت مفلس کو کیا سناتی ہے
یہ سہاگن ہے اس کو کاندھا دو
ہم نے خون ِ جگر سے پالا ہے
اس کی تربت پہ یہ بھی لکھ دینا
سرپرستوں نے مارا ہے۔۔۔
کئی برس پہلے ہی دکنی شاعر سلیمان خطیب کے بشمول دیگر شعرا اورسماجی مصلح نے جہیز کے خلاف آوازبلند کرچکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجودہر گزرتے دن کے ساتھ یہ لعنت کم نہیں بلکہ اور بڑھ رہی ہے۔جس کی نذر ہزاروں لڑکیاں ہورہی ہیں۔کوئی شادی کے بعد خودکشی کررہی ہیں تو کوئی شادی کے بغیر ہی اپنی جوانی یوں ہی گزارنے پر مجبور ہورہی ہیں۔
خودکشی حرام ہے۔ہمیں کسی کو خود کشی کے لئے مجبور کرنا نہیں چاہئے۔سماجی سائٹ پر خودکشی کے جو ویڈیو زوائرل ہورہے ہیں۔اُن ویڈیو ز کو سائٹس سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ایسے ویڈیوز دیکھنے سے کمزور اورمصیبت کا شکار افراد خاص کر لڑکیاں خودکشی کرسکتی ہیں۔ہاں میں یہ بھی مانتا ہوں کہ سماجی رابطے کی سائٹس سے ویڈیوز ہٹانا ایک ذیلی عمل ہے۔ لیکن حقیقی عمل عورت کو سماج میں اُس کا مقام دینا ہے۔اسلام کے مطابق ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔اللہ نے جنت کو بھی عورت کے قدموں تلے رکھ دیا ہے۔اِس سے عورت کے مقام ومرتبہ،عظمت و وقار کا پتہ چلتا ہے۔اللہ سبحان وتعالیٰ نے عورت کے شکم میں زندہ بچے کی پروش کی نظم رکھا ہے۔یہ عمل بھی عورت کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔آج کیا ہم معاشرے میں عورت کو اُس کا حقیقی مقام دے رہے ہیں۔ایک عورت محنت مزدوری کرکے اپنے چار پانچ بچوں کی پرورش کرلیتی ہے لیکن وہ چار پانچ بچے مل کر ایک ماں کو پال نہیں سکتے ہیں۔یہی آج کے ہمارے سماج کی حقیقت ہے۔

میرا یہ ماننا ہے کہ عورتوں کو کمزور سمجھنا یہ مردوں کی سب بڑی کمزوری ہے۔کیونکہ عورت بہ حُسن خوبی نظم ونسق چلانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔مغلوں کی تاریخ پر نظرڈالیں تو یہ بات ہمیں واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ حرم تک خواتین کو محدود رکھنے کے باوجود بھی خواتین نے حرم سے ہی اقتدار کو سنبھالتے ہوئے کب سکہ پرتصویر بن کر اُبھریں اور کب تحت کے بازوبرجمان ہوگئیں پتہ ہی نہیں چلا۔اس سے اس بات کا واضح اشارہ ملتا ہے کہ عورتیں اپنا مقام آپ خود حاصل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہیں۔سیاسی سماجی اقتصادی سے لیکر عورتیں سب شعبہ جات میں اپنا کامیاب کردار اداکیا ہے۔
آج کے اس پُرآشوب دورمیں عورتوں کے حقوق کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ساز ش کی جارہی ہے۔یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمان عورت کو صرف بچے پیدا کرنے کی مشن بنا دیا ہے۔خواتین کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن مسلمان دانشوروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی کہ وہ اس طرح کے مفروضوں اور پروپگنڈے کا موثر جواب دیں۔ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنرایس وائی قریشی نے اس کی پہل کرتے ہوئے اپنی تصنیف The Population Myth: Islam, Family Planning and Politics in Indiaمیں بہترین انداز سے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔اُنہوں نے واضح طور لکھا ہے کہ اسلام خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف نہیں ہے بلکہ مسلمان ہی کم شادیاں کرتے ہیں۔قران و حدیث کی روشنی میں چھوٹے خاندانوں کے بارے میں سمجھایا گیا ہے۔جس میں مختلف مسلم اقوام کی آبادی کی پالیسیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
تین طلاق پر پابندی کے بعد اغیار میں اسلامی نقطہ نظر سے طلاق اور خواتین کے تعلق سے جانکاری کا رجحان بڑا ہے۔ایسے میں دانشواران ملت پر یہ ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ ہندوستانی زبانوں میں قران و حدیث کی روشنی میں اسلامی نظریات میں خواتین کی اہمیت اور اُنکے حقوق کو اجاگر کریں۔آج کے اس مضمون کا اختتام میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے اس شعر سے کرتا ہونکہ
وجود زن سے تصو ر میں کائنات میں رنگ
اُسی کے ساز سے ہے زندگی کاسوزدرُوں

جئے ہند جئے جئے ہند