امیر شریعت کے انتقال پر مرکز تحفظ اسلام ہند کی تعزیتی و دعائیہ نشست!


بنگلور، 07/ اپریل (پریس ریلیز) عالم اسلام کی مایہ ناز اور عظیم شخصیت، مسلمانانِ ہند کے قدآور اور عظیم رہنما، مفکر اسلام، امیر شریعت حضرت اقدس مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ 03 /اپریل 2021ء بروز سنیچر کو اس دارفانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کرگئے۔انکے انتقال کی خبر پھیلتے ہی عالم اسلام بالخصوص مسلمانانِ ہند پر غم و افسوس کا بادل چھا گیا۔ ہنگامی طور پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین نے اسی رات ایک آن لائن زوم پر تعزیتی و دعائیہ نشست منعقد کی۔ جس میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان، ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی، آرگنائزر حافظ حیات خان، اراکین شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی، قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی، مولانا محمد نظام الدین، مفتی جلال الدین قاسمی، مولانا ایوب مظہر قاسمی، اراکین احمد خطیب خان، شبیر احمد، سید توصیف، عمیر الدین، حافظ شعیب اللہ خان، حافظ نور اللہ، شیخ عدنان احمد، محمد عاصم، حارث پٹیل، عمران خان اور جمعیۃ الحفاظ فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری حافظ محمد ادریس مصباحی وغیرہ نے شرکت کی۔اس موقع پر حضرت امیر شریعت کے ایصال ثواب کیلئے مرکز کے اراکین نے دو قرآن مجید کی تلاوت کی۔ مرکز کے ڈائریکٹر، ناظم اعلیٰ و دیگر اراکین نے حضرت کی شخصیت پر مختصر روشنی ڈالی بعد ازاں ایک تعزیتی مکتوب میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ حضرتؒ کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ انکی پوری زندگی ملت کی خدمت سے عبارت تھی۔ وہ ایک جید عالم دین، ماہر تعلیمات، لاکھوں علماء کے استاذ، لاکھوں مریدین کے کامل شیخ طریقت، خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین، جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست، بہار، اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے امیر شریعت، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری، درجنوں مدارس عربیہ کے سرپرست اور درجنوں کتابوں کے مصنف تھے۔انہوں نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کیلئے وقف کردی تھی۔ انکا شمار ان بزرگ ترین ہستیوں میں ہوتا ہے جن کے علمی و دینی خدمات سے تاریخ کے نے شمار باب روشن ہیں۔ آپکی شخصیت تواضع و انکساری، خوش مزاجی و سادگی، تقویٰ و پرہیزگاری، شستہ و شگفتہ اخلاق کی حامل تھی۔ آپکی ذات عالیہ مسلمانان ہند کے لئے قدرت کا عظیم عطیہ تھی، جو انقلابی فکر اور صحیح سمت میں صحیح اور فوری اقدام کی جرأت رکھتے تھے۔ استقلال، استقامت، عزم بالجزم، اعتدال و توازن اور ملت کے مسائل کیلئے شب و روز متفکر اور رسرگرداں رہنا حضرت امیر شریعت کی خاص صفت تھی۔انکی بے باکی اور حق گوئی ہر خاص و عام میں مشہور تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت امیر شریعت ؒکا اس طرح اچانک پردہ فرما جانے سے ملت اسلامیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، بلکہ علمی و عملی میدان میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ انکا انتقال ایک عظیم خسارہ ہے بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس رنج و ملال کے موقع پر ہر ایک تعزیت کا مستحق ہے۔لہٰذا وہ عموماً پوری ملت اسلامیہ اور خصوصاً تمام محبین، متعلقین، تلامذہ و مریدین بالخصوص حضرت والا کے فرزندان جانشین مفکر اسلام مولانا احمد فیصل رحمانی صاحب، محترم حامد فہد رحمانی صاحب، مولانا نے خلیفہ اجل حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی صاحب، و جمیع اراکین بورڈ، امارت شرعیہ، خانقاہ رحمانی و جامعہ رحمانی، و جملہ پسماندگان کے غم و افسوس میں برابر کے شریک ہیں اوروہ اپنی اور مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین کی جانب سے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں۔ اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت والا کی مغفرت فرماتے ہوئے انکی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور انکے نہ رہنے سے جو کمی ہوئی ہے اسکی تلافی فرمائے، اسکا نعم البدل عطاء فرمائے۔نیز مرحوم کو جوار رحمت اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ تعزیتی و دعائیہ نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی کی دعا سے اختتام پذیر ہوئی۔