ایڈوکیٹ خواجہ معز الدین کے بیٹے کا بیان بتائی قتل کی وجہہ

حیدرآباد ۔ حیدرآباد کے سینئر ایڈوکیٹ خواجہ معز الدین کے فرزند اور ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ ثناء اللہ فرحان نے الزام عائد کیا کہ یہ ان کے والد پر یہ چھٹواں حملہ تھا
اس سے پہلے بھی ان پر جان لیوا حملے کئے جاچکے ہیں اور دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے والد انور العلوم وقف ، ممتاز الدولہ وقف اور مدرسہ اعزہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لئے قانونی لڑائی لڑ رہے تھے۔ان کے والد پر گن فاونڈری میں واقع ان کے دفتر کے پاس حملہ کی کوشش کی گئی تھی۔
اسی طرح تین سال قبل بھی مسجد کے پاس فجر کی نماز کے بعد حملہ کیا گیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلسل دھمکیاں دی جا جارہی تھیں اور کہا جا رہا تھا کہ وقف جائیدادوں کے مقدمات سے دستبرداری اختیار کرلی جائے ، شہر چھوڑ دیا جائے ورنہ سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
نوجوان نے مزید کہا کہ 6 ماہ قبل ان کے دفتر واقع حمایت نگر کے دفتر پہنچ کر مجاہد عالم خان نے سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے والد کو اس مقدمہ سے ہٹنے کو کہا جائے ، ورنہ آگے جو کچھ ہو گا وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے ۔ نوجوان نے الزام لگایا کہ انہیں بھاری رقم کی پیشکش بھی کی گئی ۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس واقعہ میں محبوب عالم خان اور ان کے بیٹے مجاہد عالم خان ملوث ہیں جن کے خلاف ان کے والد قانونی لڑائی لڑ رہے تھے۔ نوجوان نے مطالبہ کیا کہ ان کے اور ان کے ارکان خاندان کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس دوران خیریت آباد زون انچارج ڈی سی پی رکشیتا مورتی نے بتایا کہ ابتدائی طور پر اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا تا ہم
معز الدین کی موت کے بعد کیس کو قتل میں تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جارہی ہے۔



