نیشنل

کولکتہ ایرپورٹ کے احاطہ میں واقع 136 سالہ قدیم مسجد کی منتقلی کا مطالبہ پھر شروع

کولکتہ – کولکتہ ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب واقع صدیوں پرانی مسجد کی منتقلی کا عمل فی الحال روک دیا گیا ہے۔ اعلیٰ سطحی انتظامی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ 28 مئی کو ہونے والی بقرعید سے قبل اس معاملے میں کوئی حتمی اقدام نہیں کیا جائے گا۔ عید کے بعد تمام متعلقہ فریقوں سے دوبارہ بات چیت کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

 

یہ فیصلہ جمعہ کو ایئرپورٹ سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں لیا گیا۔ اس سے قبل شمالی 24 پرگنہ ضلع مجسٹریٹ دفتر میں ریاستی انتظامیہ اور مسجد کمیٹی کے نمائندوں کے درمیان میٹنگ ہوئی تھی، جبکہ اگلے دن ایک خصوصی ٹیم نے مسجد کا معائنہ بھی کیا۔

 

کولکتہ ایئرپورٹ کے احاطہ میں واقع 136 سال قدیم یہ تاریخی عبادت گاہ “گوری پور جامع مسجد” یا “بنکرا مسجد” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق رن وے کے انتہائی قریب ہونے کے باعث یہ مسجد فضائی سلامتی کے نقطۂ نظر سے ایک بڑا چیلنج سمجھی جارہی ہے، کیونکہ اس سے طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف میں حفاظتی خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق گزشتہ 30 برس سے مسجد کی منتقلی کا معاملہ وقتاً فوقتاً زیرِ بحث آتا رہا ہے، تاہم ریاست میں سیاسی تبدیلی اور بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد اس مسئلے نے دوبارہ زور پکڑ لیا ہے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ سویند ادھیکاری اور بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ بھی اس مسئلے کو اٹھا چکے ہیں۔

 

مسجد کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ مسجد کی منتقلی یا انہدام سے متعلق اکیلے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی، تاہم حکومت کی ترقیاتی اور حفاظتی تجاویز کی مخالفت بھی نہیں کررہی۔ کمیٹی کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ مسجد کی وجہ سے ایئرپورٹ کی سلامتی یا کام کاج متاثر ہو۔ ایئرپورٹ حکام نے مسجد کے بدلے ایئرپورٹ کے باہر ایک بڑی مسجد تعمیر کرنے کی پیشکش بھی کی ہے، لیکن کمیٹی نے کہا کہ فی الحال وہ حتمی فیصلہ لینے کے موقف میں نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button