جنرل نیوز

گھر کے ہر صاحبِ نصاب فرد پر الگ قربانی واجب: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

گھر کے ہر صاحبِ نصاب فرد پر الگ قربانی واجب: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

 

حیدرآباد، 23 مئی (پریس ریلیز):شریعتِ مطہرہ کے احکام و مسائل سے صحیح واقفیت ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ عبادات، معاملات اور روزمرہ زندگی کے امور سنت و شریعت کے مطابق انجام دیے جا سکیں۔ خصوصاً دینی سوال و جواب کی مجالس امتِ مسلمہ کے لیے علمی و اصلاحی رہنمائی کا اہم ذریعہ ہوتی ہیں، جہاں عوام کو اپنے پیش آمدہ مسائل کا قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں واضح، مدلل اور اطمینان بخش حل حاصل ہوتا ہے۔ انہی فقہی نشستوں کے ذریعے عبادات میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور مسلمانوں میں دینی شعور بیدار ہوتا ہے۔

 

اسی سلسلہ میں اے او ایل ٹی اے، نامپلی حیدرآباد میں منعقدہ ماہِ ذی الحجہ کی پانچویں فقہی و اصلاحی نشست کے دوران ممتاز و معروف اسلامی اسکالر و عالمِ دین مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے عوام کی جانب سے پوچھے گئے اہم شرعی سوالات کے نہایت مدلل، آسان اور فکر انگیز جوابات عنایت فرمائے۔

گھر کے ہر صاحبِ نصاب فرد پر الگ قربانی واجب

سوال:

اگر ایک ہی گھر میں والدین اور دو شادی شدہ بھائی رہتے ہوں، ایک بھائی سرکاری ملازم ہو، دوسرا بیرونِ ملک برسرِ روزگار ہو، دونوں کی بیویاں سونے کے نصاب کی مالک ہوں اور والد کی بھی مستقل آمدنی ہو، تو کیا پورے گھر کی طرف سے ایک قربانی کافی ہوگی یا ہر صاحبِ نصاب فرد پر الگ قربانی واجب ہوگی؟

جواب:

مولانا نے وضاحت فرمائی کہ قربانی کے وجوب کا نصاب وہی ہے جو صدقۂ فطر کے وجوب کا نصاب ہے۔ لہٰذا جس عاقل، بالغ، مقیم مسلمان مرد یا عورت کے پاس ضروریاتِ اصلیہ اور قرض منہا کرنے کے بعد اتنا مال موجود ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر ہو، اس پر الگ قربانی واجب ہے۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ دونوں خواتین سونے کے نصاب کی مالک ہیں، اس لیے ان پر الگ قربانی واجب ہوگی۔ اسی طرح اگر والد اور دونوں بھائی بھی شرعی نصاب کے مالک ہوں تو ہر ایک پر جداگانہ قربانی لازم ہوگی۔ صرف والد کی طرف سے ایک قربانی پورے گھرانے کی طرف سے کافی نہ ہوگی۔

کیا صاحبِ نصاب گھریلو خاتون پر بھی قربانی واجب ہے؟

سوال:

اگر کسی خاتون کے پاس شادی کا زیور موجود ہو جو ساڑھے سات تولہ سونے سے زائد ہو، اور شوہر نے اسے مکمل طور پر اس کا مالک بنا دیا ہو، تو کیا ایسی خاتون پر قربانی واجب ہوگی؟ جبکہ وہ خود کماتی بھی نہ ہو اور اس کے پاس نقد رقم بھی موجود نہ ہو؟

جواب:

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے فرمایا کہ اگر شوہر نے زیور بیوی کی ملکیت میں دے دیا ہے تو وہ مکمل طور پر اسی کی ملکیت شمار ہوگا اور شوہر اسے واپس لینے کا حق نہیں رکھتا۔ اسی طرح شادی میں دیا گیا زیور بھی عورت ہی کی ملکیت ہوتا ہے۔

اگر عورت کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کے برابر مالیت موجود ہے تو وہ شرعی اعتبار سے صاحبِ نصاب ہے، لہٰذا اس پر قربانی واجب ہوگی۔ اگر نقد رقم موجود نہ ہو تو ضرورت پڑنے پر زیور فروخت کر کے بھی قربانی ادا کی جا سکتی ہے۔ شوہر اپنی قربانی الگ کرے گا اور بیوی کی قربانی الگ واجب ہوگی۔

قربانی کا جانور چوری ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

سوال:

اگر کسی شخص نے قربانی کے لیے جانور خریدا، مدت تک اس کی دیکھ بھال بھی کرتا رہا، لیکن عید سے قبل جانور چوری ہو گیا، تو کیا اب بھی اس پر قربانی واجب ہوگی؟

جواب:

اس سوال کے جواب میں مولانا نے فرمایا کہ اگر وہ شخص بدستور صاحبِ استطاعت اور صاحبِ نصاب ہے تو اس پر دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا لازم ہوگا، کیونکہ قربانی کی اصل ذمہ داری ابھی باقی ہے۔ البتہ اگر وہ شرعی اعتبار سے صاحبِ نصاب نہیں رہا تو اس پر دوبارہ جانور خریدنا ضروری نہیں ہوگا۔

 

آخر میں مولانا نے فرمایا کہ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، اطاعت، تقویٰ اور جذبۂ ایثار کو اپنی زندگی میں پیدا کرنا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ قربانی اور دیگر عبادات کے مسائل میں مستند علماء سے رجوع کریں تاکہ ان کی عبادات سنت و شریعت کے مطابق ادا ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button