تلنگانہ حکومت کا خاندان رجسٹر سرٹیفکیٹ پر قانونی رائے لینے کا فیصلہ، شبیر علی کا اعلان

حیدرآباد، 12 اگست: تلنگانہ حکومت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے نئے متعارف کردہ خاندان رجسٹر سرٹیفکیٹ (ایف آر سی) کو انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران قابل قبول دستاویز نہ ماننے کے فیصلے پر قانونی رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے چہارشنبہ کو یہ بات کہی۔
شبیر علی نے کہا کہ حکومت الیکشن کمیشن کے آئینی اختیار کا احترام کرتی ہے، تاہم ایف آر سی کو راشن کارڈ کے مساوی قرار دینے کی دلیل کا قانونی جائزہ ضروری ہے۔ حکومت قانونی طور پر ممکن تمام راستوں پر غور کرے گی تاکہ غریب اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے حقیقی ووٹروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
الیکشن کمیشن نے 11 اگست کو تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے طلب کردہ وضاحت کے جواب میں کہا تھا کہ 25 جولائی 2026 کے سرکاری حکم نامہ نمبر 172 کے تحت جاری کیا گیا ایف آر سی، فوڈ سکیورٹی کارڈ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، اس لیے اسے راشن کارڈ کے مساوی ہی سمجھا جائے گا۔ اسی بنیاد پر اسے ایس آئی آر کے دوران مقررہ قابل قبول دستاویزات میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔
شبیر علی نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ فوڈ سکیورٹی کارڈ کے سرکاری ریکارڈ سے حاصل ہونے والی معلومات صرف اس وجہ سے اپنی اہمیت کھو دیں کہ ان کا ذریعہ راشن کارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ راشن کارڈ حکومت کی جانب سے مقررہ طریقہ کار اور جانچ کے بعد جاری کئے جاتے ہیں اور مرکزی و ریاستی حکومتیں کروڑوں مستحقین کی شناخت اور انہیں غذائی اجناس فراہم کرنے کے لیے انہی ریکارڈز پر انحصار کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ راشن کارڈ کو شہریت کا حتمی ثبوت قرار دینے اور حکومت کے تصدیق شدہ ریکارڈ کو انتخابی جانچ کے دوران معاون ثبوت کے طور پر استعمال کرنے میں واضح فرق ہے۔ ان کے مطابق کسی ایک راشن کارڈ کو شہریت کا حتمی ثبوت بنانے کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کسی شخص کے خاندان، شناخت اور رہائش سے متعلق مستند سرکاری ریکارڈ کو دیگر دستیاب دستاویزات کے ساتھ مناسب اہمیت دی جائے۔
شبیر علی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 27 مئی 2026 کے بہار ایس آئی آر سے متعلق فیصلے میں الیکشن کمیشن کو انتخابی فہرستوں کی جانچ کے لیے دستاویزات اور ثبوت کے معیار طے کرنے کا اختیار تسلیم کیا ہے۔ اسی لیے تلنگانہ حکومت ماہرین قانون سے رائے لے گی کہ موجودہ آئینی اور قانونی دائرہ کار میں دستاویزات کی کمی کا سامنا کرنے والے حقیقی ووٹروں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی 11 اگست کی وضاحت میں نئے ایف آر سی اور محکمہ محصولات کی جانب سے 2013 میں جاری کئے گئے سابقہ فیملی ممبر سرٹیفکیٹ میں بھی فرق واضح کیا گیا ہے۔ سابقہ سرٹیفکیٹ میں دستاویزات کی جانچ اور مقامی سطح پر تحقیقات شامل تھیں، اس لیے اسے ایس آئی آر کے دوران قبول کیا جاسکتا ہے، جبکہ نئے ایف آر سی کو فوڈ سکیورٹی کارڈ کے اعداد و شمار پر مبنی ہونے کی وجہ سے مقررہ دستاویز نہیں مانا گیا۔
شبیر علی نے کہا کہ حکومت قانونی رائے حاصل کرتے ہوئے اس فرق کا بھی جائزہ لے گی اور یہ دیکھے گی کہ اضافی جانچ یا کسی مناسب تصدیقی طریقہ کار کے ذریعے الیکشن کمیشن کے خدشات کو دور کیا جاسکتا ہے یا نہیں، تاکہ عام شہریوں پر غیر ضروری دستاویزات کا بوجھ نہ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد واضح ہے کہ کوئی بھی حقیقی ووٹر صرف غریب ہونے، عمر رسیدہ ہونے، رہائش تبدیل کرنے، کئی دہائیوں پرانے ریکارڈ دستیاب نہ ہونے یا کسی ایک مخصوص دستاویز کے نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی فہرست سے خارج نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی جانچ سخت ضرور ہونی چاہیے، لیکن اسے عام لوگوں کے لیے عملی، منصفانہ اور آسان بھی ہونا چاہیے۔
شبیر علی نے بتایا کہ انہوں نے اس سے قبل چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو کرناٹک کے طرز پر مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی تجویز پیش کی تھی، تاکہ ایس آئی آر کے دوران دستاویزات کی کمی کا سامنا کرنے والے حقیقی رہائشی اپنی اہلیت ثابت کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ہر اہل ووٹر کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور الیکشن کمیشن کے آئینی کردار کا مکمل احترام کرتی ہے۔ حکومت حقیقی جانچ میں کسی قسم کی نرمی نہیں چاہتی بلکہ ایسا قانونی حل تلاش کرنا چاہتی ہے جس سے بالخصوص غریب اور حقیقی شہریوں کے لیے تصدیق کا عمل آسان ہو اور انتخابی فہرستوں کی شفافیت بھی برقرار رہے۔




