جنرل نیوز

بھینسہ شہر کے اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر میں بنیادی طبی سہولتوں کا زبردست فقدان

بھینسہ شہر کے اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر میں بنیادی طبی سہولتوں کا زبردست فقدان اور بحران

عوام بلخصوص مریض شدید مشکلات سے دوچار ، ارباب مجاز کی توجہ بےحد ضروری۔

 

بھینسہ 19 / اکتوبر (اظہر احمد خان کی خصوصی رپورٹ) النینو کے اثرات کے سبب وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا خدشہ لاحق ہے ایسی سنگین صورتحال کے باوجود بھینسہ شہر کے عمر فاروق کالونی کنٹہ ایریا فلٹر بیڈ میں واقع اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر میں طبی بنیادی سہولتوں کا فقدان اور بہران ہے بتادیں کہ اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر میں کنٹہ ایریا ، نئی آبادی ، پانڈری گلی ، کسان گلی کے علاوہ دیگر علاقوں کی عوام بلخصوص مریض طبی سہولیات سے استفادہ حاصل کرتے ہیں لیکن اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر کے میڈیکل آفیسر کے بشمول تقریبا اسٹاف اپنے مطالبات کی یکسوئی کے لیے احتجاج اور ہڑتال میں مصروف ہے جبکہ اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر میں عوام بلخصوص خواتین مختلف امراض کے ٹیسٹوں کی جانچ کروانے کے لیے پہنچتے ہیں لیکن لیاب ٹیکشن ونود کی جانب شوگر اور تھائیرائیڈ کے علاوہ دیگر اہم و ضروری ٹیسٹ دستیاب نہ ہونے کی اطلاع دی جارہی ہے

 

جس سے خواتین مجبوری میں واپس لوٹتے دیھکے جارہے ہیں اور جو ٹیسٹ دستیاب ہے انکی جانچ کے لیے خون کے نمونے حاصل کرنے کے لیے انجکشن سرنچ دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام بلخصوص خواتین کنٹہ ایریا اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر سے مارکیٹ پہنچکر میڈیکل اسٹور سے انجکشن سرنچ خرید کر لانے پر مجبور ہے ایسی مجبور صورتحال کا اصل ذمہ دار کون ہے کیا محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیدار ؟ یا بلند بانگ دعویٰ کرنے والی ریاستی اور مرکزی حکومتیں ؟

 

علاوہ ازیں ٹیسٹوں کی رپورٹ جاری کرکے مریضوں کو فراہم کی جانے والی کاپی کی بھی سہولت دستیاب نہیں کیونکہ لیاب ٹیکنیشن ونود نے بتایا کہ گذشتہ پانچ ماہ سے کمپیوٹر غیرکارکرد ہے جس کی وجہ مریضوں کو ٹیسٹ رپورٹ فراہم نہیں کی جاری دیکھا گیا ہیکہ ٹیسٹ رپورٹ مریضوں کے موبائل فون پر ہی ڈاون لوڈ کی جارہی ہے جو کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے علاوہ ازیں عوام اور مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے بجانے طبی بنیادی اشیاء اور ادویات خریدنے کے لیے سرکاری پرائمری ہیلتھ سنٹر سے کمرشل میڈیکل اسٹورس تک روانہ کرنا کس حد تک درست ہے اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر کے اصل ذمہ دار اور نگرانکار ڈپٹی ڈی ایم اینڈ ایچ او ہوتے ہیں اور حکومت نے بھینسہ کے لیے ایک ڈپٹی ڈی ایم اینڈ ایچ او مقرر بھی کیا ہے جو کہ ڈاکٹر آکاش ہے لیکن ڈپٹی ڈی ایم اینڈ ایچ او ڈاکٹر آکاش اپنی خدمات اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر میں انجام دینے کے بجائے باوثوق ذرائع سے موصول شدہ ایک اطلاع کے مطابق بھینسہ گورنمنٹ ایریا ہاسپٹل میں ٹھکانہ لاکر اپنی ڈیوٹی کا وقت گذار رہے ہیں

 

ایک اور اطلاع کے مطابق ڈپٹی ڈی ایم اینڈ ایچ او ڈاکٹر آکاش اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر پر مہینے میں صرف ایک یا دو مرتبہ ہی ضابطہ کی کاروائی کے تحت دورہ کرتے ہیں جس پر عوام نے ڈپٹی ڈی ایم اینڈ ایچ او ڈاکٹر آکاش کی مجرمانہ کوتاہی ، غفلت اور لاپرواہی کے علاوہ ڈیوٹی سے ناانصافی کرنے کا الزام عائد کیا ایسی سنگین صورتحال میں ضلع کے اعلی عہدیدار بلخصوص ضلع ڈی ایم اینڈ ایچ او ، ضلع کلکٹر کے علاوہ ریاستی وزیر صحت اور تلنگانہ حکومت کو ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے عوام بلخصوص مریضوں کو طبی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button