شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انوار اللہ فاروقیؒ: علم و عرفان کے آفتاب، جامعہ نظامیہ کے بانی اور دکن کی عظیم علمی و روحانی میراث
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انوار اللہ فاروقیؒ: علم و عرفان کے آفتاب، جامعہ نظامیہ کے بانی اور دکن کی عظیم علمی و روحانی میراث
حیدرآباد، 19 اکتوبر (پریس ریلیز)
خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے بانیٔ جامعہ نظامیہ، شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا حافظ محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ کی علمی، دینی، اصلاحی اور تصنیفی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سرزمینِ دکن کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کو جنم دیا جن کے علم و فضل، اخلاص و للہیت اور دینی خدمات کی روشنی آج بھی عالمِ اسلام کو منور کر رہی ہے۔ انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انوار اللہ فاروقیؒ کا نام نہایت نمایاں، روشن اور تابندہ ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اشاعتِ اسلام، تحفظِ عقائد، فروغِ علم، اصلاحِ معاشرہ اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دی۔
انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ محض ایک عالمِ دین یا مدرسہ قائم کرنے والے بزرگ نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ہمہ جہت علمی و روحانی شخصیت، بلند پایہ محقق، صاحبِ طرز مصنف، قادرالکلام شاعر، محدث، مفسر، فقیہ، متکلم اور صاحبِ بصیرت مفکر تھے۔ آپ کی شخصیت میں علم و عمل، عقل و نقل، تحقیق و تدقیق، شجاعتِ ایمانی اور اخلاص و استقامت کا ایسا حسین امتزاج موجود تھا جس نے آپ کو اپنے عہد کی ممتاز ترین علمی شخصیات میں شامل کر دیا۔
ولادت، تعلیم اور علمی کمالات
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے بتایا کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اللہ فاروقیؒ کی ولادت 4 ربیع الثانی 1264ھ کو موضع قندھار، ضلع ناندیڑ میں ہوئی۔ آپ کے والدِ ماجد حضرت قاضی حافظ ابو محمد شجاع الدینؒ تقویٰ و پرہیزگاری کے پیکر تھے۔ آپ کا نسب امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ نے کم عمری ہی میں غیر معمولی ذہانت، قوتِ حافظہ اور شوقِ علم کا مظاہرہ کیا۔ پانچ برس کی عمر میں قرآنِ مجید ناظرہ مکمل کیا اور گیارہ برس کی عمر میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔
آپ 1282ھ میں حیدرآباد تشریف لائے اور جلیل القدر عالم حضرت مولانا عبدالحی فرنگی محلیؒ سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ تفسیر، حدیث، فقہ، ادب اور علومِ عقلیہ میں مہارت حاصل کرکے اپنے عہد کے ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوئے۔ اساتذۂ کرام آپ کی ذہانت، علمی استعداد، ذوقِ تحقیق اور غیر معمولی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ علومِ ظاہری کی تحصیل کے ساتھ آپ نے اپنے والدِ گرامی سے سلوک و تصوف کی تکمیل کی اور بعد ازاں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے بھی تجدیدِ بیعت و تکمیلِ سلوک کی سعادت حاصل کی۔
استاذُ السلاطین اور حضرت فضیلت جنگ کے علمی عہد کی یادگار شخصیت
انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ کی علمی عظمت، دینی بصیرت اور بلند پایہ صلاحیتوں نے آپ کو ریاستِ حیدرآباد دکن کے علمی و مذہبی حلقوں میں غیر معمولی مقام عطا کیا۔ آپ کی شخصیت کا امتیاز یہ تھا کہ آپ نے علم کو محض درس و تدریس تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے اصلاحِ معاشرہ، استحکامِ دینیات، تحفظِ عقائد اور ادارہ سازی کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ حضرت فضیلت جنگ جیسے اہلِ علم و اربابِ اقتدار کے عہد میں آپ کی علمی و دینی خدمات نے دکن کی تہذیبی و علمی تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کیے۔ آپ کے لیے استاذُ السلاطین جیسے اعزازی القابات کا ذکر بھی علمی و تاریخی تذکروں میں ملتا ہے؛ تاہم ان القابات کے تاریخی پس منظر اور مستند نسبت کو اصل ماخذ سے دیکھنا ضروری ہے۔
جامعہ نظامیہ: علم و فضل کا عظیم مرکز
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ کا سب سے نمایاں اور دیرپا کارنامہ جامعہ نظامیہ کا قیام ہے، جو آج بھی حیدرآباد دکن کی علمی شناخت اور دینی عظمت کی علامت ہے۔ اس ادارے نے علومِ اسلامیہ کی اشاعت، فقہ و حدیث کی تدریس، اسلامی تہذیب کے تحفظ اور علماء و فضلاء کی تیاری میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ جامعہ نظامیہ کے فیض یافتگان نے ملک و بیرونِ ملک دینی، علمی، تدریسی، افتائی اور اصلاحی میدانوں میں اپنی خدمات کے ذریعے اس ادارے کے علمی وقار کو مستحکم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ کی نگاہ محض ایک درس گاہ کے قیام تک محدود نہ تھی، بلکہ آپ ملت کے لیے ایسے علمی مراکز اور اداروں کی تشکیل چاہتے تھے جو آنے والی نسلوں کی فکری و دینی رہنمائی کا مستقل ذریعہ بنیں۔ اسی وسیع النظر فکر کے تحت آپ کی ادارہ جاتی اور علمی خدمات کا دائرہ مختلف اہم علمی و تحقیقی مراکز تک پھیلا، جن میں دائرۃ المعارف النظامیہ، کتب خانہ آصفیہ اور اشاعت العلوم جیسے اداروں کا ذکر دکن کی علمی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے۔
تصنیف و تالیف اور تحفظِ عقائد کی بے مثال خدمات
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ نے قلم کو حق کی سربلندی اور باطل نظریات کے علمی محاسبے کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ آپ کی تصانیف میں مقاصد الاسلام کو نمایاں مقام حاصل ہے، جو مختلف حصوں پر مشتمل ایک اہم علمی و تحقیقی سلسلہ ہے۔ اس کے ذریعے آپ نے اپنے عہد کے فکری، اعتقادی اور مذہبی مسائل کا مدلل جائزہ لیا اور اسلامی تعلیمات کی توضیح و تشریح کی۔
اسی طرح قادیانیت کے رد اور عقائدِ اسلام کے دفاع کے سلسلے میں آپ کی تصانیف افادۃ الافہام، مفاتیح الاعلام، فہرست افادۃ الافہام اور انوار الحق کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ ان تصانیف سے آپ کے وسعتِ مطالعہ، قوتِ استدلال، تحقیقی بصیرت اور مذہبی غیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے دور کے ان فکری رجحانات پر بھی تنقیدی گفتگو کی جنہیں آپ اسلامی عقائد و تعلیمات سے متصادم سمجھتے تھے۔ آپ کی تحریروں کا بنیادی مقصد اسلامی حقائق کی توضیح، دینی تشخص کا تحفظ اور امت میں علمی شعور کی بیداری تھا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ کی علمی عظمت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ آپ نے مخالف نظریات کا جواب جذباتی ردِعمل کے بجائے علمی استدلال، تحقیق اور تحریر کے ذریعے دینے کی روایت کو مضبوط کیا۔ آپ کی تصنیفات آج بھی سنجیدہ علمی مطالعے، تحقیق اور دینی فکر کی تشکیل کے لیے قابلِ توجہ سرمایہ ہیں۔
شعر و ادب میں بھی نمایاں مقام
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ کی شخصیت صرف علومِ دینیہ تک محدود نہ تھی، بلکہ آپ فارسی و اردو ادب میں بھی بلند مقام رکھتے تھے۔ آپ کے فارسی اور اردو کلام کا مجموعہ شمیم الانوار آپ کے ادبی ذوق، فکری گہرائی اور زبان و بیان پر قدرت کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ تدریس، تصنیف، تحقیق اور دیگر دینی مصروفیات کے باعث آپ کو شعر و شاعری کے لیے زیادہ وقت میسر نہ آیا، تاہم آپ کے کلام میں فطری روانی، برجستگی اور علمی وقار نمایاں ہے۔
نئی نسل کے لیے پیغام
انہوں نے کہا کہ آج جب نئی نسل اپنے اسلاف کی علمی و دینی میراث سے دور ہوتی جا رہی ہے، تو حضرت شیخ الاسلامؒ کی زندگی اور خدمات کا مطالعہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قوموں کی عظمت محض ماضی کے کارناموں پر فخر کرنے سے نہیں، بلکہ اپنے اکابر کے علمی اصولوں، اخلاقی اقدار، دینی بصیرت اور خدمتِ خلق کے جذبے کو اپنانے سے قائم رہتی ہے۔ حضرت شیخ الاسلامؒ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ علم کے ساتھ عمل، تحقیق کے ساتھ دیانت، اختلاف کے ساتھ تہذیب اور دینی غیرت کے ساتھ حکمت و بصیرت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں، جامعات، مدارس اور علمی مجالس میں حضرت شیخ الاسلامؒ کی سوانح، تصانیف اور اصلاحی افکار کو عام کیا جائے، تاکہ نوجوان نسل اپنے علمی اسلاف سے واقف ہو اور ان کے روشن نقوشِ قدم پر چلنے کا جذبہ پیدا کرے۔ آپ کی زندگی کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، اخلاص، علم، استقامت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے ملت کے لیے دیرپا علمی و دینی خدمات انجام دی جا سکتی ہیں۔
وفات اور علمی میراث
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اللہ فاروقیؒ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ دین کی خدمت، علم کی اشاعت اور ملت کی اصلاح میں صرف کیا۔ آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے قائم کردہ ادارے، تصانیف، علمی افکار اور تربیت یافتہ اہلِ علم آپ کی حیات بخش خدمات کی گواہی دے رہے ہیں۔ جامعہ نظامیہ آج بھی اس عظیم بانی کے اخلاص، بلند نظری اور دینی بصیرت کی زندہ یادگار ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ جیسے اکابر کی حیات و خدمات کو یاد کرنا محض ماضی کی یاد تازہ کرنا نہیں، بلکہ اپنے حال کی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ اگر ہم ان کے علمی و اخلاقی اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو امت میں علمی بیداری، دینی استحکام اور اخلاقی اصلاح کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الاسلامؒ کے درجات بلند فرمائے، ان کے فیوض و برکات سے ہمیں مستفید فرمائے اور ان کی علمی و دینی میراث کی حفاظت و اشاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



