دیوالی کا اشتہار مانگنے کے لئے گئے 60 سالہ صحافی نسیم احمد کا پیٹ پیٹ کر قتل – فلور مل مالک سمیت تین ملزمین گرفتار
اترپردیش: اترپردیش کے ضلع ہاپوڑ میں دیوالی کے اشتہار کے سلسلے میں فلور مل پہنچنے والے 60 سالہ صحافی نسیم احمد کو مبینہ طور پر فلور مل مالک اور اس کے ساتھیوں نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا۔ اس واقعہ کے بعد صحافتی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ پولیس نے معاملے میں فلور مل مالک سمیت تین نامزد ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے۔
محلہ کوٹھی گیٹ، ہاپوڑ نگر کے ساکن نسیم احمد ایک ہندی روزنامہ ڈائینک جن وانی کے بیورو چیف تھے۔ وہ اتوار کو اپنے ساتھی اور ڈرائیور علاؤالدین کے ساتھ دیوالی کے اشتہار کے سلسلے میں جروٹھی روڈ پر واقع اشوک کمار گپتا کی فلور مل گئے تھے۔ عینی شاہد علاؤالدین کے مطابق، اشتہار طلب کرنے کے معاملے پر مل کے احاطے میں تنازعہ شروع ہوگیا۔ الزام ہے کہ ملزمین نے نسیم احمد کو فرضی صحافی قرار دیتے ہوئے وہاں سے بھگانے کی کوشش کی اور پھر فلور مل مالک اشوک گپتا سمیت 8 سے 10 افراد نے ان پر لاتوں، گھونسوں اور ڈنڈوں سے حملہ کردیا۔ شدید پٹائی کے بعد نسیم احمد کی طبیعت بگڑ گئی۔ انہیں فوری طور پر گڑھ روڈ پر واقع کمیونٹی ہیلتھ سنٹر لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
ایس پی مدھوبن کمار سنگھ نے بتایا کہ جروٹھی روڈ پر واقع آٹے کی مل میں اشتہار لینے گئے صحافی کے ساتھ مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا تھا اور اسپتال لے جاتے وقت ان کی موت ہوگئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ایڈیشنل ایس پی مہیش کمار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ متوفی کے داماد کی شکایت پر ہاپوڑ دیہات پولیس اسٹیشن میں سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے تین نامزد ملزمین اشوک کمار گپتا، کپل اگروال اور نریش کمار کو رائل انکلیو کالونی کے قریب سے گرفتار کرلیا ہے۔ معاملے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
صحافی نسیم احمد کی موت سے ان کے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ان کی چھوٹی بیٹی منتاشا کی شادی 14 نومبر کو مقرر تھی اور گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں کہ یہ افسوسناک واقعہ پیش آگیا۔ ان کی بڑی بیٹی ادیبہ کی پہلے ہی شادی ہوچکی ہے۔ نسیم احمد کی اچانک موت نے شادی کی خوشیوں کو ماتم میں تبدیل کردیا اور خاندان کی خوشیاں غم میں بدل گئیں۔




