اولیاء اللہ کی محبت و ادب انسان کے روحانی مقام کو بلند کرتے ہیں، اصحابِ کہف کے کتے کا ذکرِ قرآن اس کی روشن مثال ہے۔ضیائے ملت حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر سید شاہ ضیاء الدین نقشبندی کا ایمان افروز خطاب

حیدرآباد- 22 / اکتوبر( پریس نوٹ ) ضیائے ملت حضرت علامہ حافظ الحاج مفتی ڈاکٹر سید شاہ ضیاء الدین نقشبندی نائب شیخ الجامعہ و صدر مفتی جامعہ نظامیہ نے اپنے ایمان افروز خطاب میں اولیائے کرام کی محبت و عقیدت ، ان کے ادب و احترام ، صحبتِ صالحین کی اہمیت ، اتباعِ شریعت اور اصلاحِ نفس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآنِ حکیم میں اصحابِ کہف کے کتے کا تذکرہ اس حقیقت کی جانب رہنمائی کرتا ہے کہ نیک بندوں کی نسبت اور ان سے وابستگی بھی اللہ جل مجدہُ کی بارگاہ میں ایک خصوصی اہمیت رکھتا ہے ۔
انہوں نے اس امر کا انکشاف کل رآت جامع مسجد سعید آباد میں قطب دکن حضرت سیدمحمد بادشاہ بخاری نقشبندی مجددی قادری المعروف بہ پیر بخاری شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے120 سالہ عرس شریف کے موقعہ پرفیضان حضرت پیر بخاری شاہ صاحبؒ سے مخاطب کرتے ہوئے کیا- جسکی صدارت حضرت مولانا الحاج سید شاہ غوث محی الدین نقشبندی مجددی قادری سجادہ نشین و متولی بارگاہ قطب دکن حضرت پیر بخاری شاہ صاحبؒ نے فرمائ -جلسہء تذکرہء حضرت پیر بخاری شاہ صاحبؒ کا آغاز جناب سید شاہ محمد برہان محی الدین نقشبندی مجددی قادری مرتضیٰ پاشاہ اور مولانا مفتی سید بہاء الدین زبیر نقشبندی مجددی قادری کی قراءت کلام پاک سے ہوا –
حمد باریء تعالیٰ جناب شیخ احمد مصطفٰی ،نعت شریف بلبل باغ مدینہ مولوی محمد اسداللہ شریف نقشبندی، جناب محمد عمرالحق قادری اور جناب مشیر قادری نے پیش کی – ضیائے ملت مولانا مفتی سید شاہ ضیاء الدین نقشبندی نے سلسلہء خطاب جاری رکھتے ہوئے کہاکہ اصحابِ کہف کے کتے کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں یاد فرمایا اور اس کے غار کے دہانے پر اپنے اگلے دونوں پاؤں پھیلائے بیٹھنے کی کیفیت کو بھی بیان فرمایا ۔ اس سے نیک بندوں کی صحبت ، ان سے محبت اور ان کے ادب کی اہمیت کا عظیم سبق حاصل ہوتا ہے ۔ جب ایک جانور کی نیک لوگوں سے وابستگی کا ذکر قرآنِ حکیم میں محفوظ ہوگیا تو انسان کو یہ غور کرنا چاہئیے کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں سے سچی محبت رکھے ، ان کے نقشِ قدم پر چلے اور ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اختیار کرے تو اس کے لئے کس قدر خیر و برکت اور دنیا و آخرت میں نجات و مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے ۔
ضیائے ملت نے کہا کہ ہماری نسبت و محبت اولیائے کرام سے ہے، بالخصوص ہم قطبِ دکن حضرت پیر سید شاہ بخاری شاہ صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدت مند ہیں میں خود سیدی مرشدی مولائی ابوالبرکات حضرت علامہ مولانا الحاج سید خلیل اللہ شاہ صاحب قبلہ نقشبندی مجددی قادری رحمہ اللہ جاشین اعظم و خلف اکبر حضرت ابوالحسنات علامہ مولانا الحاج سید عبداللہ شاہ صاحب قبلہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمہ اللہ کا غلام و مرید ہوں ۔ مولانا نقشبندی نے یہ بھی ببانگ دہل کہاکہ اولیاء اللہ سے محبت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ان کی تعلیمات پر عمل کیا جائے ، شریعتِ مطہرہ کی پابندی کی جائے ، اخلاق و کردار کو سنوارا جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے ۔
مولانا مفتی ضیاء الدین نقشبندی نے قرآنِ حکیم میں اصحابِ کہف اور حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کا تذکرہ سورۂ کہف کی آیت نمبر 18 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کے کتے کی کیفیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ
ترجمہ: ”اور ان کا کتا غار کے دہانے پر اپنے دونوں بازو پھیلائے ہوئے تھا۔“
( سورۃ الکہف: 18 ) اس قرآنی واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف اور ان کے کتے کا ذکر بھی قرآنِ حکیم میں محفوظ ہے ۔ مفسرین نے اس واقعے کے ضمن میں صحبتِ صالحین ، نیک لوگوں سے وابستگی اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کے ساتھ نسبت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ہے ۔ اس واقعے سے ایک اہم اخلاقی سبق یہ بھی ملتا ہے کہ انسان نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے اور ان کے اعلیٰ اخلاق و کردار سے رہنمائی حاصل کرے ۔ مولانا ضیاء الدین نقشبندی نے کہاکہ سورۂ کہف کی آیت نمبر 25 میں اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کے غار میں قیام کی مدت بیان فرمائی :
وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا
ترجمہ: ”اور وہ اپنے غار میں تین سو نو سال رہے ۔“
اس طرح قرآنِ مجید کے بیان کے مطابق اصحابِ کہف کا قیام تین سو نو سال تھا۔ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور اپنے برگزیدہ بندوں کی حفاظت کی عظیم نشانیوں میں سے ہے۔
*محبتِ رسول ﷺ اور اولیائے کرام سے وابستگی کا حقیقی مفہوم*-
ضیائے ملت نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت ایمان کا بنیادی تقاضا ہے اور آپ ﷺ کی اتباع ہی اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا اہم راستہ ہے ۔ قرآنِ حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
ترجمہ: ”فرما دیجیئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو ، اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔“
( سورۂ آلِ عمران: 31 )
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اولیاء اللہ کی محبت بھی اسی وقت حقیقی معنوں میں نفع بخش بنتی ہے جب وہ انسان کو اتباعِ رسول ﷺ ، پابندیٔ شریعت ، درود شریف و ذکرِ الٰہی ، تقویٰ ، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کی طرف راغب کرے ۔ بزرگوں سے عقیدت کا تقاضا محض زبانی اظہار نہیں ، بلکہ ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنا ہے ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
ترجمہ: ”آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔“ ( صحیح البخاری، صحیح مسلم ) یہ حدیثِ مبارک نیک لوگوں سے محبت کی اہمیت کو واضح اور اجاگر کرتی ہے ۔ اس محبت کا اعلیٰ ترین ثبوت یہ ہے کہ انسان اپنے محبوبین کے اخلاق ، تقویٰ ، عبادت ، تواضع اور خدمتِ خلق کو اختیار کرنے کی حتی المقدور کوشش کرے۔
*قطبِ دکن حضرت پیر سید شاہ بخاریؒ کی بارگاہ سے روحانی فیض*
ضیائے ملت نے قطبِ دکن حضرت پیر سید شاہ بخاری شاہ صاحب قبلہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی روحانی عظمت اور ان کی بارگاہ سے وابستہ عقیدت مندوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک سوبیس سال قبل بھی لوگ آپؒ سے اکتسابِ فیض کے لئے دور دراز مقامات سے کشاں کشاں تشریف لاتے تھے ۔ یہ وابستگی اس دور کے روحانی ماحول اور بزرگوں سے عوام کی عقیدت کی عکاسی کرتی ہے ۔ انہوں نے حضرت ابوالحسنات علامہ الحاج سید عبداللہ شاہ صاحب قبلہ نقشبندی مجددی قادری محدثِ دکن رحمۃ اللہ علیہ کی اپنے پیر و مرشد سے بے مثال وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت محدثِ دکنؒ نے چودہ سال تک بلا ناغہ بارہ گلی سے پاپیادہ سعید آباد اپنے پیر و مرشد حضرت پیر سید شاہ بخاری شاہ صاحبؒ کی اقتدا میں نمازِ فجر ادا کی ۔
انہوں نے اپنے شیخ کی صحبت سے طویل عرصے تک روحانی و علمی استفادہ کیا اور آخری عمر تک اپنے پیر و مرشد کی بارگاہ سے قلبی تعلق برقرار رکھا اپنے پیر و مرشد کے حین حیات تک لوگ حضرت محدث دکنؒ سے حلقہء بیعت و ارادت کرنا چاہتے تو اپنے پیر و مرشد حضرت بخاری شاہ صاحبؒ سے رجوع فرمادیتے ۔ اس واقعے سے مریدین و معتقدین ، طلبہ ، علماء اور عام مسلمانوں کو یہ سبق حاصل کرنا چاہیئے کہ روحانی تربیت میں استقامت ، ادب ، وفاداری اور پابندیٔ عبادت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ شیخ سے تعلق کی پختگی کا تقاضا ہے کہ انسان نماز ، ذکر ، اخلاق اور دینی ذمہ داریوں میں مستقل مزاجی اختیار کرے ۔
*نقشبندیہ اکابر کی تعلیمات:* *شریعت ، ذکرِ الٰہی اور اصلاحِ باطن*
نقشبندیہ سلسلے کے اکابر نے ہمیشہ شریعت کی پابندی ، ذکرِ الٰہی ، اخلاص ، تواضع اور اصلاحِ باطن کو روحانی ترقی کی بنیاد قرار دیا ہے ۔ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب معروف تعلیم ”دل بہ یار ، دست بکار“ کا مفہوم یہ ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہے اور ہاتھ جائز کاموں اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف رہیں ۔
اسی طرح نقشبندی تعلیمات میں ذکرِ خفی ، مراقبہ ، اتباعِ سنت ، صحبتِ صالحین اور نفس کی اصلاح پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔ اس روحانی منہج کا مقصد انسان کو دنیاوی ذمہ داریوں سے فرار دلانا نہیں، بلکہ اس کے دل و کردار کو پاکیزہ بناتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور مخلوقِ خدا کی خدمت کے لئے تیار کرنا ہے ۔
قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے:
أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
ترجمہ: ”خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔“( سورۂ الرعد: 28 )
لہٰذا اولیائے کرام سے وابستگی کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ انسان ذکرِ الٰہی کی پابندی کرے ، اپنے باطن کو حسد ، کینہ ، بغض اور تکبر سے پاک کرنے کی کوشش کرے اور مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے ۔
*نمازِ باجماعت ، سچائی اور پاکیزہ کردار پر خصوصی زور*
ضیائے ملت حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر سید شاہ ضیاء الدین نقشبندی نے حاضرین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسلمان کو پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنا چاہیئے ۔ جھوٹ ، غیبت ، چغل خوری ، حسد ، جلن ، کینہ ، کپٹ اور خود پسندی جیسی اخلاقی برائیوں سے بچنا انتہاء ہی ضروری ہے ۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسان کو اپنی موت اور خاتمے کے بارے میں فکر مند رہنا چاہیئے، اللہ تعالیٰ سے حسنِ خاتمہ کی دعا کرتے رہنا چاہیئے اور ایسے اعمال اختیار کرنے چاہییں جو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنیں۔قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
ترجمہ: ”اے ایمان والو! اللہ جل مجدہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔“( سورۂ آلِ عمران: 102 ) انہوں نے واضح کیا کہ روحانی نسبت اور دینی علم اسی وقت انسان کے لئے باعثِ سعادت بنتے ہیں جب اس کے کردار میں عاجزی ، اخلاص ، تقویٰ اور حسنِ اخلاق پیدا ہو۔ محض علم یا کسی بلند دینی منصب کا حامل ہوجانا انسان کو تکبر کا حق نہیں دیتا ۔
*علماء اور طلبہ کو غرور و تکبر سے بچنے کی تلقین*
ضیائے ملت نے علماء کرام ، دینی مدارس کے اساتذہ اور اپنے شاگردوں سے خصوصی طور پر خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ ہم اگر مولوی ، عالم یا دینی علوم کے مدرس بن گئے ہیں تو اس پر غرور و تکبر کا ہرگز شکار نہیں ہونا چاہیئے ۔ علم اللہ تعالیٰ کی عطا اور ایک عظیم امانت ہے؛ اس کا مقصد شہرت ، برتری یا دوسروں کو حقیر سمجھنا نہیں، بلکہ دین کی خدمت ، حق کی وضاحت ، اصلاحِ معاشرہ اور انسانیت کی رہنمائی ہے ۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
ترجمہ: ”جو رحم نہیں کرتا ، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“
( صحیح البخاری ، صحیح مسلم ) علماء اور طلبہ کے لئے اس تعلیم میں یہ رہنمائی موجود ہے کہ علم کے ساتھ رحمت ، نرمی ، تواضع اور خیر خواہی بھی ضروری ہیں ۔ ایک حقیقی عالم وہ ہے جو اپنے علم کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کرے ، ان کے لئے آسانی پیدا کرے اور اپنے عمل سے دین کی خوب صورتی کو نمایاں کرے۔
قرآنِ حکیم میں تکبر اور خود پسندی سے بچنے کی ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا:
وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا
ترجمہ: ”اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو ، بے شک تم ہرگز زمین کو پھاڑ نہیں سکتے اور نہ بلندی میں پہاڑوں تک پہنچ سکتے ہو۔“
( سورۂ بنی اسرائیل: 37 )
اس قرآنی ہدایت کی روشنی میں ہر صاحبِ علم اور صاحبِ منصب کو اپنے اندر عاجزی ، انکساری اور خدمت کا جذبہ پیدا کرنا چاہیئے ۔
*اولیائے کرام کی محبت کا پیغام: اتباعِ سنت اور اصلاحِ معاشرہ*
اپنے خطاب کے اختتام پر ضیائے ملت نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ قطبِ دکن حضرت پیر سید شاہ بخاری شاہ صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ اور محدثِ دکن حضرت علامہ سید عبداللہ شاہ صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ جیسے اکابر کی زندگیوں سے ہمیں ادب ، استقامت ، عبادت ، علم ، روحانیت اور شریعت کی پابندی کا درس حاصل کرنا چاہیئے ۔
انہوں نے عقیدت مندوں کو ترغیب دی کہ بزرگوں کی بارگاہوں میں حاضری کو اپنی اصلاح ، ذکرِ الٰہی ، دعا اور دینی عہد کی تجدید کا ذریعہ بنائیں ۔ انہوں نے بالخصوص قطبِ دکن حضرت پیر سید شاہ بخاری شاہ صاحب قبلہؒ کی بارگاہ میں کم از کم ماہانہ ایک مرتبہ حاضری دینے کی ترغیب دی اور کہا کہ حضرت محدثِ دکنؒ کی بارگاہ میں بھی باقاعدگی سے حاضری دے کر ان کے علمی و دینی فیضان سے استفادہ کرنا چاہیئے ۔
انہوں نے زور دیا کہ اولیاء اللہ سے سچی محبت وہ ہے جو انسان کو نماز کا پابند ، زبان کا سچا ، معاملات میں دیانت دار ، اخلاق میں نرم خو ، دل میں کینہ و حسد سے پاک اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لئے نفع بخش بنائے ۔ شہہ نشین پر حضرت مولانا خواجہ بہاء الدین نقشبندی فاروق انجینیئر ، حضرت مولانا سید شاہ سلمان بخاری نقشبندی مجددی قادری برادر سجادہ نشین حضرت بخاری شاہ صاحبؒ ، اولاد امجاد حضرت خواجہ بندہ نوازؒ حضرت مولانا سید شاہ رحمت محمد محمد الحسینی المعروف بہ رحمت بابا بندہ نوازی چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل ، حضرت مولانا ابوعمار عبدالقادر سیفی عرفان اللہ شاہ نوری نقشبندی مجددی قادری بانی و صدر مرکزی انجمن سیف الاسلام ، مولانا حافظ ڈاکٹر مفتی الحاج سید شاہ احمد غوری نقشبندی نائب شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ ، اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر ضلع، مولانا حافظ محمد احمد نقشبندی ، مولانا حافظ محمد افتخار الدین نقشبندی امام و خطیب جامع مسجد ابوالحسناتؒ ، مولانا محمد ظہیر الدین نقشبندی ، امیرامارت امت اسلامیہ حضرت مولانا الحاج قاضی محمد عبدالرزاق نقشبندی مجددی قادری مداری چشتی سہروردی جامع السلاسل بانی و صدر آل انڈیا ایس ایس اُو ،مولانا حافظ محمد جعفر محی الدین نقشبندی رائچور ، مولانا حافظ محمد عبدالرشید جنید قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ، مولانا حافظ محمد انوار اللہ نقشبندی مولوی کامل جامعہ نظامیہ شادنگر کے علاوہ
سینکڑوں مریدین و معتقدین سلسلہء نقشبندیہ ، مجددیہ قادریہ و دیگر سلاسل کے حضرات موجود تھے – 4 / بجے ختم القرآن حکیم ، بعد نماز عصر ختم قرآن شریف ، برآمدگی صندل مبارک ، بعد نماز مغرب خدمت صندل مالی و گلہائے عقیدت ،صلوٰۃ و سلام پیش کیا گیا – بعدنماز عشاء ساڑھے دس بجے تمام شرکاء کے لئے تناول طعام کا اہتمام کیا گیا تھا –



