راہول گاندھی کو ’ناکام پراڈکٹ‘ کہنے پر مودی پر شبیر علی کا جوابی حملہ، ’ناکام وزیراعظم‘ کو تنقید کا حق نہیں

حیدرآباد، 23 اکتوبر (اردو لیکس) تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتیں محمد علی شبیر نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی کو ’ناکام پروڈکٹ‘ قرار دینے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جمہوری اور حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے والے قائد کا مذاق اڑانے کا اخلاقی حق ایک ’ناکام وزیراعظم‘ کو حاصل نہیں ہے
شبیر علی نے کہا کہ وزیراعظم حکومت کی کارکردگی، بے روزگاری، معاشی بدحالی، انتخابی شفافیت اور جمہوری اداروں سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے بجائے راہول گاندھی اور نہرو۔گاندھی خاندان پر ذاتی حملے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی راہول گاندھی یا کانگریس حکومت کو بے روزگاری، مہنگائی، انتخابی بے ضابطگیوں، سرمایہ داروں کی سرپرستی اور اداروں کی خودمختاری کے معاملات پر گھیرتے ہیں تو مودی نہرو اور گاندھی خاندان کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں۔
انہوں نے مودی کے اس دعوے کو کہ نہرو۔گاندھی خاندان کانگریس پر بوجھ بن چکا ہے، سیاسی طور پر مضحکہ خیز اور تاریخی حقائق کے منافی قرار دیا۔ شبیر علی نے کہا کہ ملک پنڈت جواہر لعل نہرو کی قومی تعمیر میں خدمات، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرسکتا۔ نہرو نے نوآبادیاتی دور کے بعد غربت، تقسیم اور کمزور بنیادی ڈھانچے کے مسائل سے دوچار ملک میں جمہوری اداروں، صنعتوں، سائنسی مراکز اور جامعات کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے ملک کی خدمت کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔
انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے بھی بڑے ذاتی صدمات برداشت کئے، جبکہ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی وڈرا نے اپنی دادی اور والد کے قتل کے صدمے کے سائے میں پرورش پائی۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ان قربانیوں کو ہندوستان کی تاریخ سے مٹایا نہیں جاسکتا۔
شبیر علی نے وزیراعظم کو اپنے سیاسی سفر کا جائزہ لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی آر ایس ایس کے پرچارک تھے اور بی جے پی قیادت نے انہیں گجرات کا چیف منسٹر بنایا، حالانکہ اس سے پہلے وہ رکن اسمبلی یا وزیر نہیں رہے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ لال کرشن اڈوانی جیسے قائدین نے مودی کے سیاسی عروج میں اہم کردار ادا کیا، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2014 کے بعد اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے سینئر قائدین کو سرگرم فیصلہ سازی سے دور کرکے مارگ درشک منڈل تک محدود کردیا گیا۔ ان کے مطابق 75 سال سے زائد عمر کے قائدین کو سیاسی تبدیلی کے نام پر عملاً سبکدوش کردیا گیا، لیکن مودی کے خود 75 سال کی عمر کو پہنچنے پر یہ اصول نظرانداز کردیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی، حکومت، تشہیری نظام اور انتخابی مہمات ایک ہی شخصیت کے گرد گھوم رہی ہیں، جہاں ہر کامیابی کا سہرا مودی کو دیا جاتا ہے اور ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے۔
شبیر علی نے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کی سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تصاویر کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعہ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دورۂ ہند کے دوران مودی کے بیان پر بھی سوال اٹھائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی تصویر یا سابقہ تعلق کی بنیاد پر کسی کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا اور ایسے معاملات کا فیصلہ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت جب بھی کسی معاملے پر گھرتی ہے تو بی جے پی راہول گاندھی اور ان کے خاندان کو نشانہ بناکر عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔
شبیر علی نے کہا کہ انتخابی بے ضابطگیوں اور حق رائے دہی کے تحفظ سے متعلق راہول گاندھی کی مہم نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو بے چین کردیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر راہول گاندھی واقعی ’ناکام پروڈکٹ‘ ہیں تو وزیراعظم ان پر بار بار حملے کیوں کرتے ہیں اور جب بھی وہ کوئی مسئلہ اٹھاتے ہیں تو بی جے پی کا پورا نظام متحرک کیوں ہوجاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ مودی راہول گاندھی کے نظریات، پالیسیوں اور کارکردگی پر تنقید کرسکتے ہیں، لیکن ان کے والد، دادی اور پردادا کو نشانہ بنانا سوالات کے جواب دینے کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ شبیر علی نے کہا کہ اگر راہول گاندھی ووٹروں کے حقوق کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں تو حکومت کو ووٹروں کے مسائل پر جواب دینا چاہئے، بے روزگاری پر سوال ہو تو روزگار کے اعداد و شمار پیش کئے جائیں اور معیشت پر سوالات کا جواب حقائق کے ساتھ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی حملے نہ تو اچھی حکمرانی کی علامت ہیں اور نہ ہی سیاسی بصیرت کا ثبوت۔ راہول گاندھی عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور ذاتی حملے حکومت کی ناکامیوں کو ہمیشہ نہیں چھپا سکتے۔



