جرائم و حادثات

چینی مانجہ کا قہر: جونپور میں فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر سمیر ہاشمی کی گردن کٹنے سے موقع پر ہی موت

اترپردیش کے جونپور میں اعظم گڑھ شاہراہ پر پچہٹیا تراہے کے قریب چہارشنبہ کی دوپہر تقریباً پونے ایک بجے پتنگ کے چائنیز مانجہ کی زد میں آکر 25 سالہ فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر سمیر ہاشمی کی گردن کٹ گئی، جس کے نتیجہ میں ان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ جائے حادثہ پر سڑک خون سے سرخ ہوگئی۔

 

ڈاکٹر سمیر ہاشمی ضلع ہاسپٹل سے موٹر سائیکل پر گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ اچانک ان کی گردن میں چائنیز مانجہ پھنس گیا۔ شدید زخمی حالت میں انہیں ضلع ہاسپٹل لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔

 

اس معاملہ میں لائن بازار پولیس اسٹیشن  نے نامعلوم افراد کے خلاف غیر ارادتی قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل 11 دسمبر 2025 کو جونپور ہی میں خانگی اسکول کے پرنسپل سندیپ ترپاٹھی کی بھی چائنیز مانجھے کی زد میں آکر موت ہوچکی ہے۔

 

ڈاکٹر سمیر ہاشمی  شیخ زادہ محلہ کے رہنے والے تھے اور کیرکت بازار میں ان کی فزیوتھراپی کلینک تھی۔ ان کے والد مقیم کے مطابق، سمیر چہارشنبہ کی صبح ضلع ہاسپٹل میں داخل ایک مریض کو ورزش کروانے اور ڈاکٹر سے ملاقات کی بات کہہ کر موٹر سائیکل سے جونپور گئے تھے۔ کام مکمل کرنے کے بعد وہ گھر لوٹ رہے تھے۔ انہوں نے ہیلمٹ بھی پہن رکھا تھا، مگر پچہٹیا تراہے کے قریب چائنیز مانجہ کی زد میں آکر ان کی گردن مکمل طور پر کٹ گئی۔

 

سی او سٹی گولڈی گپتا نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور سمیر ہاشمی کو ضلع ہاسپٹل منتقل کیا گیا، جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چائنیز مانجہ ممنوع ہے اور اس کے خلاف ضلع میں مسلسل کارروائیاں کی جارہی ہیں،

 

اس کے باوجود لوگ آن لائن منگوا کر اس کا استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے مکر سنکرانتی کے موقع پر اپیل کی کہ تھوڑی سی خوشی یا پتنگ لوٹنے/کاٹنے کے لالچ میں چائنیز مانجھے کا استعمال نہ کریں، تہوار منائیں مگر کسی بھی طرح کی جانی نقصان نہ ہو۔

 

والد مقیم نے بتایا کہ چہارشنبہ کی صبح جب سمیر گھر سے نکل رہے تھے تو میں نے تہوار کا حوالہ دے کر روکنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ ضروری کام بتاکر نکل گئے۔ اب ان کی نعش  گھر پہنچی ہے۔

 

چار بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا سمیر

ڈاکٹر سمیر کے والد بینڈ باجہ کا کام کرتے ہیں۔ سمیر چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ بڑے بھائی سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں، دوسرے بھائی گولو ممبئی میں اے سی مکینک ہیں جبکہ تیسرے بھائی جاوید والد کے ساتھ بینڈ باجہ کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔

 

حادثے کی خبر ملتے ہی سمیر کی والدہ بانو خاتون روتی بلکتی ہاسپٹل پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا کلینک جانے کی بات کہہ کر نکلا تھا، تھوڑی ہی دیر میں حادثے کی اطلاع مل گئی۔ سمیر ہی خاندان کا سہارا تھا۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button