عادل آباد سے دو ماہ قبل لاپتہ خاتون عمرانہ کی نعش مہاراشٹرا کے جنگل سے برآمد، قاتل گرفتار
عادل آباد: دو ماہ قبل لاپتہ خاتون عمرانہ کی نعش مہاراشٹرا کے جنگل سے برآمد، قاتل گرفتار
عادل آباد _ تلنگانہ کے عادل آباد سے دو ماہ قبل لاپتہ ہونے والی 39 سالہ خاتون عمرانہ جبین کی نعش آج مہاراشٹرا کے جنگلات سے برآمد ہوئی، اور اس کے قتل میں ملوث دو افراد گرفتار کر لیے گئے۔ عادل آباد ضلع ایس پی اکھل مہاجن آئی پی ایس نے موالا پولیس اسٹیشن میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مالی تنازعہ کے سبب خاتون کو منصوبہ بند طریقے سے قتل کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ خاتون تنہا رہتی تھی اور اس کی ملاقات فاروق خان سے ہوئی تھی اس دوران فاروق نے کئی مرتبہ عمرانہ سے رقم لی رقم واپس کرنے کے مطالبہ پر فاروق نے قتل کا منصوبہ بنایا
ایس پی کے مطابق، مرکزی ملزم محمد فاروق خان نے مقتولہ سے تقریباً 8.8 لاکھ روپے نقد اور 8.5 تولہ سونا لیا تھا۔ واپسی کا مطالبہ کرنے پر اس نے اپنے ڈرائیور بی رمیش کے ساتھ مل کر قاتلانہ منصوبہ بنایا۔ 26 نومبر 2025 کو پٹّل واڑہ میں مقتولہ کے مکان پر بی رمیش نے خاتون کے پاؤں پکڑے جبکہ محمد فاروق خان نے اسے گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔
قتل کے بعد لاش کو کرایہ کی ایرٹیگا کار میں مہاراشٹرا کے سارکھنی گھاٹ جنگلاتی علاقے لے جا کر سڑک کے کلورٹ کے قریب گڑھا کھود کر دفن کردیا گیا۔ اہل خانہ نے کپڑوں کی بنیاد پر لاش کی شناخت کی، جبکہ ڈی این اے جانچ کے لیے نمونے حاصل کیے گئے۔
پولیس نے جدید تکنیکی شواہد کی مدد سے محمد فاروق خان اور بی رمیش کو 14 جنوری 2026 کو دسناپور سبزی مارکیٹ کے قریب گرفتار کیا، دونوں نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف کیا۔ اس کیس میں دو موبائل فون بھی ضبط کیے گئے۔
ابتدائی طور پر لاپتہ کیس کے طور پر درج معاملہ اب بی این ایس دفعات 103 (قتل) اور 238(3)(5) کے تحت تبدیل کیا گیا، اور ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے جوڈیشیل تحویل میں بھیج دیا گیا۔ ایس پی نے کہا کہ ملزمان کو سخت سزا دلانے کے لیے تمام ٹھوس شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ پریس کانفرنس میں ٹرینی آئی پی ایس راہل کانت، ڈی ایس پی ایل جیون ریڈی، موالا سی آئی کررا سوامی، ایس آئی مدھو کرشنا اور دیگر پولیس عہدیداران بھی موجود تھے۔



