ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کی جانب سے عالمی شہرت یافتہ مینٹور منور زماں ’مربی ایوارڈ‘ سے سرفراز

حیدرآباد: 3جنوری/ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی نے یکم جنوری کو منائے جانے والے ’ہمت ڈے‘ کے پروقار اور تاریخی موقع پر ملک کے نامور موٹیویشنل اسپیکر اور مربیِ ملت منور زماں کو ان کی بے لوث تعلیمی و تربیتی خدمات اور نئی نسل کی کردار سازی کے اعتراف میں معتبر ’مربی ایوارڈ‘ سے نوازا ہے۔ یہ تقریب محض ایک اعزاز کی تفویض نہیں تھی بلکہ عزم و حوصلے کی اس داستان کا تسلسل تھی
جو ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی گزشتہ کئی برسوں سے ’ہمت ڈے‘ کی صورت میں رقم کر رہی ہے۔ یہ دن خاص طور پر یتیم بچوں اور بیوہ ماؤں کی ہمت افزائی اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے وقف ہے، جس میں امسال تقریباً 3,000 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔
تقریب کا سب سے جذباتی اور رقت آمیز منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب منور زماں کو یہ ایوارڈ ایم ایس گروپ کے زیرِ تعلیم 2547 یتیم طلبہ میں سے منتخب کردہ چھ معصوم بچوں کے ہاتھوں دیا گیا۔ ان بچوں کو ’ہیونلی ہارٹس‘ (جنتی دل) کا عنوان دیا گیا تھا۔ اس اعزاز کو وصول کرتے ہوئے منور زماں نے اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں کئی اعزازات ملے لیکن ان معصوموں کے ہاتھوں ملنے والا یہ مربی ایوارڈ ان کے لیے سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ان چھ بچوں کے لیے اپنی عالمی شہرت یافتہ ’پرسنالٹی ڈیولپمنٹ ورکشاپ‘ بلا معاوضہ فراہم کرنے کا اعلان کیا، تاکہ ان بچوں کی شخصیت کو نکھار کر انہیں مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کیا جا سکے۔
منور زماں نے مجمع میں موجود ہزاروں یتیم بچوں اور بیوہ ماؤں سے ایک ولولہ انگیز خطاب کیا۔ بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’والد کا سایہ سر سے اٹھ جانا ہرگز مستقبل کی محرومی نہیں ہے۔ آپ کے والد کے خواب، ان کی دعائیں اور ان کی تمنائیں آپ کے وجود میں اب بھی زندہ ہیں۔ اگر آپ نظم و ضبط، بلند اخلاق اور مقصدِ حیات پر کاربند رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کامیابی سے نہیں روک سکتی۔‘‘ انہوں نے بچوں کو ترغیب دی کہ وہ اپنی محرومی کو کمزوری بنانے کے بجائے اسے اپنی طاقت میں تبدیل کریں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے مصلحین، فاتحین اور دانشور یتیمی کے عالم سے ہی نکل کر افقِ عالم پر چمکے ہیں۔
بیوہ ماؤں کے عظیم الشان کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے منور زماں نے انہیں ’مستقبل کی معمار‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیوہ مائیں معاشرے کا وہ طبقہ ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ان کے پاس وہ قوت ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کر کے انہیں قوم کا نجات دہندہ بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے ماؤں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، حیا اور کردار پر توجہ دیں، تاکہ کل یہی بچے ان کے لیے عزت اور وقار کا باعث بنیں۔ انہوں نے پر اعتماد لہجے میں کہا کہ جو لوگ آج ان ماؤں کو کمزور سمجھتے ہیں، کل وہی لوگ ان کے کامیاب بچوں سے ملاقات کے لیے وقت مانگتے نظر آئیں گے۔
دورانِ خطاب منور زماں نے ایم ایس ایجوکیشن اکٰیڈیمی کے بانی و چیئرمین محمد لطیف خان کی زندگی کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ محمد لطیف خان صاحب محض پانچویں جماعت میں تھے جب ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، لیکن ان کی بیوہ والدہ نے حالات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ انہوں نے محض 138 روپے کی پنشن اور کپڑے سی کر اپنے پانچوں بچوں کو بہترین انگریزی میڈیم اسکولوں میں تعلیم دلائی۔ منور زماں نے کہا کہ ایک باہمت ماں کی اسی جدوجہد کا ثمر ہے کہ آج محمد لطیف خان نہ صرف ایک کامیاب بزنس مین ہیں بلکہ ملک کے صفِ اول کے ماہرِ تعلیم بن چکے ہیں۔ حال ہی میں حکومتِ تلنگانہ نے انہیں ’مولانا ابوالکلام آزاد نیشنل ایوارڈ 2025‘ سے نواز کر ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ ان کی قیادت میں آج ایم ایس گروپ 20,000 انجینئرز، 2,000 ڈاکٹرز اور کئی آئی اے ایس افسران قوم کو دے چکا ہے۔
ایم ایس گروپ کے چیئرمین محمد لطیف خان نے منور زماں کی آمد اور ان کی رہنمائی پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’مربی ایوارڈ‘ کا مقصد ایسے رہنماؤں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو نصابی تعلیم سے آگے بڑھ کر نوجوانوں کی روح اور کردار کی آبیاری کرتے ہیں۔ یہ تقریب ’ہمت ڈے‘ کے حقیقی پیغام یعنی استقامت، علم اور مسلسل جدوجہد کو عام کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوئی۔ پروگرام کا اختتام ایک نئے عزم اور امید کے ساتھ ہوا کہ معاشی اور سماجی مشکلات کبھی بھی منزل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں اگر حوصلہ جوان اور رہبر مخلص ہو۔



