KYC اپ ڈیٹ یا ایمرجنسی گیس بکنگ کے نام پر دھوکہ۔ عوام سے چوکس رہنے کمشنر پولیس حیدرآباد کی خواہش

حیدرآباد: گیس کنکشن KYC اپڈیٹ اور ایمرجنسی گیس بکنگ کے نام پر ہونے والے نئے سائبر فراڈ سے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں کمشنر پولیس حیدرآباد سجنار نے خبردار کیا کہ سائبر مجرم گیس سلنڈروں کی قلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معصوم شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے رقم لوٹ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ واٹس ایپ یا ایس ایم ایس کے ذریعے آنے والے نامعلوم لنکس پر کلک کرنا اور دھوکہ بازوں کی بھیجی ہوئی APK فائلیں موبائل میں انسٹال کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ بظاہر ایک چھوٹی سی ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہی موبائل فون کا مکمل کنٹرول سائبر مجرموں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد موبائل پر آنے والے بینک OTP اور خفیہ پیغامات براہ راست مجرموں تک پہنچ جاتے ہیں۔
کمشنر پولیس نے حال ہی میں مہاراشٹرا کے ڈومبی ولی میں پیش آئے ایک واقعہ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ سائبر مجرموں نے خود کو ایک معروف گیس کمپنی کے نمائندے ظاہر کرتے ہوئے دو خواتین کو فون کیا۔ انہوں نے گیس کنکشن کی تفصیلات اور KYC فوری اپڈیٹ کرنے کا بہانہ بنا کر واٹس ایپ پر ایک APK فائل بھیجی اور اسے ڈاؤن لوڈ کر کے فارم بھرنے کو کہا۔
خواتین نے جیسے ہی ایپ انسٹال کر کے اپنی معلومات درج کیں، ان کے بینک اکاؤنٹس سے تقریباً چار لاکھ روپے غائب ہو گئے۔انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ فوری گیس سلنڈر ڈلیوری یا اضافی سلنڈر فراہم کرنے کے دعووں پر مبنی سوشل میڈیا کے جھوٹے اشتہارات پر یقین نہ کریں۔ اگر کسی پیغام میں گیس ڈلیوری کے لیے پیشگی رقم طلب کی جائے تو اسے سائبر فراڈ سمجھیں۔
کسی بھی نامعلوم شخص کے ساتھ بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات OTP یا UPI پن ہرگز شیئر نہ کریں۔کمشنر پولیس نے کہا کہ گیس بکنگ یا KYC اپڈیٹ کے لیے صرف گیس کمپنیوں کی سرکاری ایپس اور ویب سائٹس ہی استعمال کریں۔ اگر کوئی شبہ ہو تو براہ راست متعلقہ گیس ایجنسی کے دفتر جا کر معلومات حاصل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ آن لائن فراڈ سے بچاؤ کے لیے عوام کی چوکسی ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔اگر کوئی شخص اس طرح کے سائبر فراڈ کا شکار ہو جائے تو فوراً قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 پر رابطہ کریں یا مرکزی حکومت کے سرکاری پورٹل **cybercrime.gov.in** پر شکایت کریں۔



