فیس بک دوستی کا جال : حیدرآباد کا سافٹ ویئر انجینئر 2.36 کروڑ روپے سے محروم

فیس بک پر خاتون کے نام سے دوستی کرنے والے نامعلوم افراد کی باتوں پر یقین کر کے ایک شخص 2.36 کروڑ روپے سے محروم ہو گیا۔ جعلی “فیس بک اسٹور” کے ذریعے خرید و فروخت میں بھاری منافع کا لالچ دے کر تقریباً ساڑھے تین ماہ کے دوران اس سے یہ رقم منتقل کروائی گئی۔ متاثرہ شخص کی شکایت پر سائبرآباد سائبر کرائم پولیس نے ہفتہ کے روز مقدمہ درج کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق حیدرآباد کے کونڈاپور علاقے میں رہنے والے سافٹ ویئر ملازم ویربھدر راؤ کو گزشتہ سال اگست میں فیس بک پر ایک فرینڈ ریکویسٹ موصول ہوئی۔ “کورا” نامی خاتون نے خود کو سنگاپور کی رہنے والی اور ممبئی میں ملازمت کرنے والی بتایا۔ کچھ دن چیٹنگ کے بعد دونوں نے فون نمبر بھی آپس میں شیئر کر لیے۔
خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ اس وقت اپنی ماں اور سوتیلے والد کے ساتھ حیدرآباد میں مقیم ہے اور اس کے بیرونِ ملک، خصوصاً جرمنی میں کئی دوست ہیں۔ اس نے ویربھدر راؤ کو ایک فیس بک گروپ میں شامل کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے دوست “فیس بک اسٹور” میں سرمایہ کاری کر کے بھاری منافع کما رہے ہیں اور اسے بھی ٹریڈنگ کرنے کا مشورہ دیا۔
ابتدائی طور پر انکار کرنے کے بعد ویربھدر راؤ اس کے جھانسے میں آ گیا، جس پر خاتون نے “فیس بک اسٹور” کے نام سے ایک لنک بھیجا۔ لنک نہ کھلنے پر اسے ایک اے پی کے فائل بھیجی گئی، جسے ڈاؤن لوڈ کرنے پر اس کے موبائل میں فیس بک جیسی ایپ نمودار ہوئی۔
بعد ازاں جرمنی میں مقیم مبینہ دوست “بیلا” کا نمبر دے کر اس سے رہنمائی لینے کو کہا گیا۔ بیلا کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ویربھدر راؤ نے یکم ستمبر سے 12 دسمبر کے درمیان کرپٹو والیٹ کے ذریعے مجموعی طور پر 2.36 کروڑ روپے منتقل کر دیے۔
اگرچہ ایپ میں منافع ظاہر کیا جاتا رہا، لیکن رقم نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کئی ماہ تک کوشش کے باوجود اصل رقم اور منافع نہ ملنے پر ویربھدر راؤ کو دھوکہ دہی کا احساس ہوا اور اس نے سائبر کرائم پولیس سے رجوع کیا۔



