جرائم و حادثات

لکھنؤ میں معصوم روزہ دار کا خون : سالگرہ کی تقریب کے بعد 12 سالہ عنائز خان کی گولی لگنے سے موت

اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں پیش آئے ایک دلخراش واقعے میں 12 سالہ عنائز خان گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا،جو روزہ کی حالت میں بتایا گیا ہے تاہم اس کی موت نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ گھر والوں نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ پولیس اسے ’’حادثاتی فائرنگ‘‘ بتا رہی ہے۔

 

ابتدائی پولیس بیان کے مطابق عنائز خان اپنے دوست نونیت کی سالگرہ کی تقریب میں شریک تھا، جہاں مبینہ طور پر ایک پارک کی گئی گاڑی میں رکھی پستول اس کے ہاتھ لگ گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ کھیلتے ہوئے اچانک گولی چل گئی جو اس کے سر میں لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

 

تاہم متوفی کے والد ضمیر خان نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق عنائز خان کو سالگرہ میں شرکت کے بہانے گھر سے لے جایا گیا اور بعد میں ایک مکان پر مبینہ طور پر سنجیو ترپاٹھی نے اسے گولی مار دی۔ والد کا کہنا ہے کہ پہلے انہیں بتایا گیا کہ بچہ سڑک حادثے کا شکار ہوا ہے، لیکن ہاسپٹل پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اس کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے۔

 

پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ تمام ممکنہ پہلوؤں سے جانچ کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کی اصل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button