جرائم و حادثات

جہیز میں بریزا کار اور 10 لاکھ روپے کا مطالبہ – فوجی جوان علیشان کی بیوی روبینہ کی نعش کھیت سے برآمد ؛ یوپی میں قتل کی سنسنی خیز واردات

باغپت: اترپردیش کے باغپت ضلع کے بڑوت میں ہفتہ کی صبح ایک فوجی جوان کی بیوی روبینہ کی نعش گنے کے کھیت سے برآمد ہوئی۔ خاتون کے منہ سے خون نکل رہا تھا، جبکہ جسم پر بظاہر بیرونی چوٹ کے نشانات نہیں تھے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا۔ خاتون کے بھائی نے اپنے بہنوئی پر قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے قتل کے شبہ میں معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

 

روبینہ کی شادی تین سال قبل مظفرنگر ضلع کے منصورپور تھانہ حدود کے رہنے والے علیشان علی سے ہوئی تھی، جو ہندوستانی فوج میں جوان ہے۔ دونوں کا دو سال کا ایک بیٹا ہے۔ الزام ہے کہ شادی کے بعد سے ہی علیشان بریزا کار اور 10 لاکھ روپے نقد کا مطالبہ کررہا تھا، جس کے باعث دونوں کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے روبینہ اپنے مائیکے میں رہ رہی تھی۔

 

بتایا گیا کہ 22 اکتوبر کو علیشان نے فون کرکے روبینہ کو ملاقات کے لئے بلایا تھا، جس کے بعد وہ گھر واپس نہیں لوٹی۔ کافی تلاش کے باوجود اس کا پتہ نہیں چلنے پر 23 اکتوبر کو اس کے بھائی آزاد نے بڑوت پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔

 

ہفتہ کی صبح تقریباً 10 بجے باجیت پور گاؤں کے قریب ایک کھیت میں روبینہ کی لاش پڑی ہوئی ملی۔ کھیت میں پہنچنے والے ایک مقامی شخص نے لاش دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔ یہ مقام روبینہ کے گھر سے تقریباً 15 کلومیٹر دور بتایا گیا ہے۔

 

گھر والوں کے مطابق، علیشان نے واٹس ایپ پر پیغام بھیج کر روبینہ کو ملاقات کے لئے بلایا اور بیٹے کو بھی ساتھ لانے کے لئے کہا تھا۔ تاہم روبینہ بیٹے کو ساتھ لے جانے کے بجائے اپنا موبائل فون بھی مائیکے میں چھوڑ گئی تھی۔ اس کے بعد وہ واپس نہیں لوٹی تو گھر والوں نے اس کی تلاش شروع کردی۔

 

تین دن بعد ہفتہ کی صبح تقریباً 10 بجے باجیت پور گاؤں کے قریب ایک کھیت میں روبینہ کی نعش پڑی ہوئی ملی۔ کھیت میں پہنچنے والے ایک مقامی شخص نے نعش دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔ یہ مقام روبینہ کے گھر سے تقریباً 15 کلومیٹر دور بتایا گیا ہے۔

 

گھر والوں کے مطابق، نعش  نیلی پڑ گئی تھی اور منہ سے خون نکل رہا تھا۔ الزام ہے کہ روبینہ کو پہلے زہر کا انجکشن دیا گیا اور پھر گلا گھونٹ کر قتل کردیا گیا۔ تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی واضح ہوگی

 

روبینہ نے تقریباً دو سال قبل اپنے شوہر علیشان کے خلاف جہیز کے مطالبے اور اخراجات فراہم نہ کرنے کے الزامات کے تحت باغپت کی عدالت میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ اور جہیز سے متعلق مقدمے میں 26 اکتوبر کو فیصلہ متوقع تھا۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے علیشان سمیت چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

 

اس سے قبل جب علیشان کی تعیناتی راجستھان کے باڑمیر میں تھی، تب روبینہ اس کی یونٹ میں پہنچ کر بھی شکایت کرچکی تھی۔ بعد میں علیشان کی تعیناتی کشمیر میں ہوگئی تھی۔

 

اطلاعات کے مطابق، اسی تنازعہ کے باعث فوج کی جانب سے بھی تقریباً چار ماہ قبل علیشان کو ڈیوٹی سے گھر بھیج دیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ گھر پر ہی تھا۔ علیشان کی بہن کی شادی 18 اکتوبر کو ہوئی تھی۔ اس کے بعد اس نے روبینہ کو پیغام بھیج کر بجروال بلایا تھا۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں روبینہ کو بجروال کے ایک بینک میں بیٹھے ہوئے دیکھا گیا۔

 

بڑوت کے سی او انشو جین نے بتایا کہ متوفیہ کے بھائی آزاد کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ہے۔ پولیس تمام پہلوؤں سے معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

 

روبینہ کی موت کے خلاف ہفتہ کی شام افراد خاندان اور مقامی افراد نے ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے بڑوت۔بڈھانہ سڑک پر نعش رکھ کر احتجاج کیا اور راستہ بند کردیا۔ تقریباً 15 منٹ تک ٹریفک متاثر رہی۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور ہلکی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے راستہ کھلوایا۔ بعدازاں گھر والوں نے روبینہ کی میت کو تدفین کے لئے لے گئے۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button