جرائم و حادثات

پولیس ملازمین پر کار چڑھانے کی کوشش کا الزام۔ حیدرآباد میں نوجوان گرفتار

حیدرآباد: حیدرآباد کے عطاپور علاقے میں جمعرات کی نصف شب آپریشن کواچ کے تحت گاڑیوں کی جانچ کر رہی پولیس پر مبینہ طور پر تیز رفتار کار چڑھانے کی کوشش کرنے والے نوجوان کو پولیس نے ہفتے کے روز گرفتار کر کے عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا۔

 

پولیس کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق جمعرات کی رات ایک بجے کے بعد حیدرآباد پولیس آپریشن کَوَچ کے تحت گاڑیوں کی تلاشی لے رہی تھی۔ اسی دوران محمد فہد الدین (20) نامی نوجوان مہدی پٹنم سے عطاپور کی جانب ایک کار تیز رفتاری سے چلا رہا تھا۔ کار کی نمبر پلیٹ پر انگریزی میں ”Ghost“ (بھوت) لکھا ہوا تھا۔

 

جب نوجوان نے عطاپور کے قریب پولیس کو گاڑیوں کی جانچ کرتے دیکھا تو اس نے اچانک کار کو ریورس میں غلط سمت سے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ چلانا شروع کر دیا۔ اس حرکت سے دیگر گاڑیوں کے ڈرائیوروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس کے مطابق، نوجوان نے ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کی جانب بھی کار بڑھانے کی کوشش کی۔

 

اس کے بعد سب انسپکٹر سرینواس ریڈی اور ان کی ٹیم نے نوجوان کو قابو میں لے لیا۔ پولیس نے ہفتے کے روز اسے عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا جبکہ اس کی کار بھی ضبط کر لی گئی۔پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گاڑیاں دینے سے پہلے ٹریفک قوانین کی پابندی کرنے کی ہدایت دیں۔ اس کے علاوہ، گاڑیوں پر قانون کے مطابق نمبر پلیٹ لگانے کی اہمیت بھی سمجھائیں۔

 

پولیس نے خبردار کیا کہ تیز رفتاری سے گاڑی چلانا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ محمد فہد الدین کے خلاف سات مختلف قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button