یمن میں حوثیوں کا صدارتی محل پر حملہ، 5 افراد ہلاک، 16 شدید زخمی

یمن کے جنوبی شہر عدن میں واقع صدارتی محل ’المعاشیق‘ کو نشانہ بناکر حوثی باغیوں کی جانب سے کئے گئے حملے میں 5 افراد ہلاک اور 16 شدید زخمی ہوگئے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یمن کے وزیر صحت قاسم محمد بحیبہ نے اس کی تصدیق کی۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی جنگی کارروائیوں کے مرکزی دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ سعودی افواج کی نقل و حرکت جہاں بھی ہوگی، اسے نشانہ بنایا جائے گا اور سعودی فوجی موجودگی کی ہر شکل حوثیوں کے نزدیک جائز ہدف ہے۔
یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سرکاری اداروں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے سرکاری افواج کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت صنعاء تک ریاستی اختیارات بحال کرنے کے مقصد سے ’ڈان آف یمن‘ آپریشن جاری ہے۔ یمن کے وزیر نوجوانان نایف صالح البکری نے بتایا کہ عدن میں کابینہ کے تمام وزراء محفوظ ہیں اور وہ کسی بھی صورت شہر نہیں چھوڑیں گے۔
یمنی سرکاری افواج کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے ٹھکانوں پر 1,250 حملے کئے گئے اور جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے اور راکٹ لانچروں کی مدد سے حوثیوں کی 150 گاڑیوں کو تباہ کیا گیا۔ سرکاری افواج کے ترجمان ماجد النزیلی نے یہ تفصیلات پیش کیں۔ دوسری جانب، مآرب گورنریٹ کے میڈیا دفتر کے مطابق حوثیوں نے مآرب شہر پر 9 بیلسٹک میزائلوں اور 7 دیگر گولہ بارود کے ذریعے حملے کئے۔
حوثیوں نے سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات، راس تنورہ آئل ریفائنری اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان حملوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث مغربی ایشیا میں سلامتی، تیل کی فراہمی اور بحیرہ احمر میں باب المندب آبنائے کے ذریعے ہونے والی بحری تجارت کے تحفظ پر بین الاقوامی تشویش بڑھ گئی ہے۔



