انسٹاگرام پوسٹ پر 7 ماه کی جیل، پھر عدالت سے ریلیف: ` آئی لو محمد‘ کیس میں نوجوان کو ضمانت مل گئی

لکھنو – اترپردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک مسلم نوجوان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے، جسے گزشتہ سال انسٹاگرام پر “آئی لو محمد” کے جملے والی پوسٹ شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
جسٹس راجیو لوچن شکلا نے 4 مئی کو جاری اپنے حکم میں قرار دیا کہ ملزم 7 اکتوبر 2025 سے جیل میں بند ہے اور اس کیس میں کسی مخصوص طبقے کے خلاف کوئی قابل اعتراض مواد ثابت نہیں ہوا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مبینہ انسٹاگرام پوسٹ میں کسی خاص ذات یا کمیونٹی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ملزم نے ضمانت کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسانا گیا ہے۔ اس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے اور قریبی مستقبل میں ٹرائل مکمل ہونے کا امکان نہیں ہے۔
دوسری جانب ریاستی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے ایک حساس بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ “آئی لو محمد” کے لیے اپنی اور دوسروں کی گردن بھی قربان کرنے کو تیار ہے، جس کے بعد بریلی میں تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔
عدالت نے ملزم کے جیل میں گزارے گئے وقت اور اس کے مجرمانہ ریکارڈ کی عدم موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ملزم ندیم کو شخصی مچلکہ اور دو قابل ضمانت ضمانت داروں کے ساتھ رہا کیا جائے۔ملزم کی جانب سے وکیل اتل کمار نے عدالت میں پیروی کی۔



