نیشنل

انتخابات کے بعد بنگال میں بی جے پی کارکنوں کی غنڈہ گردی: کہیں سڑکوں کے نام بدلے گئے، کہیں مندر کھل گئے، تو کہیں دفاتر جل اٹھے

بنگال میں انتخابی نتائج کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، جہاں مختلف علاقوں میں تبدیلی اور کشیدگی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

 

کولکتہ میں مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے ایک سڑک کا نام تبدیل کر دیا۔ “مسجد پارہ روڈ” کو “نیتاجی پلی روڈ” کے نام سے بدل دیا گیا، جس پر مقامی سطح پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا۔

 

اسی طرح آسن سول میں کئی سالوں سے بند دُرگا مندر، جو “شری شری دُرگا ماتا چیریٹیبل تنظیم” کے تحت چلایا جاتا تھا، دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مندر کی بحالی سے ہندو برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور اب یہاں باقاعدہ پوجا شروع ہو گئی ہے۔

 

مقامی افراد کے مطابق مندر کے باہر پہلے مسلم دکاندار کاروبار کرتے تھے، تاہم اب صورتحال بدل گئی ہے۔ کچھ افراد نے الزام لگایا ہے کہ اس حوالے سے دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت سے بھی رابطہ کیا گیا تھا۔

 

دوسری جانب ریاست میں نتائج کے بعد تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں ترنمول کانگریس کے دفاتر کو نقصان پہنچائے جانے اور آگ لگائے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ترنمول کانگریس کے لیڈر جہانگیر خان کے فالتہ واقع دفتر پر مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان نے قبضہ کر لیا۔پارٹی دفاتر کی توڑ پھوڑ اور کشیدگی کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔

 

ترنمول کانگریس قایدین نے ان واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات جمہوری روایات کے خلاف ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ عوام کسی بھی طرح خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button