اتنا مت ڈراؤ کہ ڈر ہی ختم ہو جائے…‘ ابھیجیت دیپکے وزیراعظم مودی پر برس پڑے

نئی دہلی: دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی عدالتی حراست میں مزید دو دن کی توسیع کر دی ہے۔ اس کے بعد دہلی پولیس دونوں کو دوبارہ تہاڑ جیل لے گئی۔ اس معاملے پر سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ابھیجیت دیپکے نے کہا ’’وزیراعظم نریندر مودی ایک 26 سالہ سورَو داس کو جیل میں رکھ کر آپ خود کو بہت طاقتور محسوس کر رہے ہوں گے۔ سڑکوں پر بچوں کو پیٹ کر آپ کو بہت طاقتور محسوس ہو رہا ہوگا۔ پوری دہلی میں رکاوٹیں کھڑی کرکے اور بچوں کو سڑکوں پر گھسیٹ کر آپ خود کو بہت طاقتور سمجھ رہے ہوں گے۔‘‘
سی جے پی کے بانی نے مزید کہا کہ سورَو اور آشوتوش جنتر منتر پر ترنگا لہرانے گئے تھے لیکن اسی وجہ سے انہیں پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد ان کی سماعت بھی نہیں ہونے دی گئی۔ روز کسی نہ کسی بہانے سماعت ملتوی کر دی گئی اور پھر ان کی حراست میں مزید دو دن کی توسیع کر دی گئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’’عالمی گرو نریندر مودی، 26 سے 27 سال کے سورَو اور 30 سال کے آشوتوش کو جیل میں رکھ کر آپ خود کو بہت طاقتور محسوس کر رہے ہوں گے۔ نریندر مودی کی یہی ہمت ہے کہ وہ پولیس کے پیچھے چھپتے ہیں اور عدالتوں کے پیچھے چھپتے ہیں۔‘‘
’سورَو اور آشوتوش کے چہروں پر خوف نہیں ہے‘دیپکے نے مزید کہا’’پوری سرکاری مشینری استعمال کرکے، دو ایسے نوجوانوں کو جیل میں ڈال کر، جو اگر آپ کا خاندان ہوتا تو آپ کے پوتوں کی عمر کے ہوتے، آپ خود کو ایک بہت طاقتور وزیراعظم سمجھتے ہیں۔ اگر آپ کے اپنے بچے ہوتے تو کیا آپ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتے؟’’آپ صرف ایک بزدل ہیں۔
میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہمت کیا ہوتی ہے۔ پانچ دن جیل میں گزارنے کے بعد سورَو داس مسکراتے ہوئے عدالت میں آتا ہے حالانکہ وہ کبھی کہا کرتا تھا کہ وہ ایک دن بھی جیل میں نہیں رہ سکتا۔ جب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی عدالتی حراست میں توسیع کر دی گئی ہے تب بھی وہ نہیں ڈرتا۔’’ہمت یہ ہے کہ پانچ دن جیل میں رہنے کے بعد بھی آشوتوش کے چہرے پر خوف نہیں ہے۔
ہمت یہ نہیں کہ آپ پوری پولیس کے پیچھے چھپ جائیں اور پوری دہلی کو مفلوج کر دیں۔’’اصل ہمت یہ ہوتی ہے کہ آپ جانتے ہوں کہ آپ اپنے سے زیادہ طاقتور قوت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ طاقت یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ اس لڑائی کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ خاموش نہ بیٹھیں۔‘‘
ابھیجیت نے مزید کہا’’ہمت وہ ہے جو ان دونوں کے خاندان دکھا رہے ہیں۔ وہ ثابت کر رہے ہیں کہ ان کے بچے اتنی آسانی سے ٹوٹنے والے نہیں ہیں۔’’آپ کی طرح نہیں، جو امریکہ کے سامنے بک جاتے ہیں، ٹرمپ کے سامنے بک جاتے ہیں۔ ٹرمپ نے ایک بار ذرا سی بات کیا کہہ دی، آپ نے پورا ملک ہی سرینڈر کر دیا۔ اور اس کے بعد آپ خود کو ایک مضبوط لیڈر سمجھتے ہیں؟ آپ مضبوط لیڈر نہیں ہیں۔ آپ ملک کی تاریخ کے اب تک کے سب سے بڑے بزدل رہنما ہیں۔‘‘
سی جے پی کے بانی نے مزید کہا’’وزیراعظم مودی، ہم میں سے کوئی بھی آپ سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی ہم میں سے کوئی خاموش بیٹھنے والا ہے۔ آپ مجھے بھی دو مرتبہ جیل بھیج چکے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ جیل میں ڈالنے کے بعد ہم لوگ خاموش ہو جائیں گے تو جان لیجیے کہ ایسا نہیں ہونے والا۔ یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔’’آپ نے بہت سے لوگوں کو خرید لیا ہوگا اور بہت سوں کی آواز دبا دی ہوگی، لیکن آپ ملک کے نوجوانوں کو خاموش نہیں کرا سکتے، کیونکہ نوجوانوں نے دیکھا ہے کہ آپ نے گزشتہ 12 برسوں میں ان کی زندگی کس طرح خراب کی ہے۔’’آپ نے روزگار کے نام پر نوجوانوں کو کیا دیا؟
جب ملازمتوں کی بات ہو رہی تھی تو آپ کے دائیں ہاتھ نے کہا تھا کہ پکوڑے بیچنا بھی ایک روزگار ہے۔ تو پھر آپ نے اپنے بچے کو بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ میں کیوں بٹھایا؟‘ابھیجیت نے کہا’’مجھے دوپہر کے وقت سورَو اور آشوتوش کی فکر ہو رہی تھی، لیکن جب میں نے سورَو کو عدالت میں مسکراتے ہوئے آتے دیکھا تو مجھے بھی کچھ حوصلہ ملا۔
’’آپ ہماری پیٹھ پر پوری پولیس فورس لگا دیجیے، اس کے علاوہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ اسی طریقے سے آپ نے پورے ملک میں اپوزیشن کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔’’آپ ریاستی مشینری کا استعمال کرکے ملک کے تمام نوجوانوں کو خاموش کرانا چاہتے ہیں، لیکن میری کوم کی ایک فلم میں ایک مکالمہ ہے کہ کسی کو اتنا بھی مت ڈراؤ کہ اس کا ڈر ہی ختم ہو جائے۔’’
میں آپ سے صرف یہی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اس ملک کے نوجوانوں کو جتنا ڈرانا تھا، ڈرا لیا۔ آپ نے ہمیں اتنا ڈرا دیا کہ اب ہمارے اندر کا خوف ہی ختم ہو گیا ہے۔ لہٰذا اب ہم نہیں ڈریں گے۔‘‘



