نیشنل

جمشیدپور میں ڈانڈیا تقریب کے دوران ہندو لڑکی کے ساتھ مسلم نوجوان کی موجودگی پر ہنگامہ، ویڈیو وائرل؛ مسلم نوجوانوں کو مقامی عالم دین کا مشورہ

جمشیدپور: جھارکھنڈ کے شہر جمشیدپور میں ڈانڈیا اور گربا تقریبات کے دوران ہندو لڑکی کے ساتھ ایک مسلم نوجوان کی موجودگی پر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک لڑکی کے ساتھ تقریب میں پہنچنے والے نوجوان کو ہراساں کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا۔

 

لائیو ہندوستان ویب سائٹِ کی رپورٹ  کے مطابق، دو روز قبل بشتوپور کے گوپال میدان میں ایک لڑکی کے ساتھ پہنچنے والے نوجوان کی شناخت اور مذہب کو لے کر اعتراض کیا گیا۔ ہندو اتسو سمیتی اور ہندو رکشا دل نے مختلف مقامات پر منعقدہ ڈانڈیا تقریبات میں دوسرے مذاہب کے نوجوانوں کی موجودگی پر سوالات اٹھائے۔ اس دوران نوجوان کے ساتھ آئی لڑکی کے گھر فون کرکے بھی بات کی گئی۔

 

بی جے پی جمشیدپور میٹروپولیٹن صدر سنجیو سنہا نے کہا کہ ڈانڈیا اور گربا ماں درگا کی عبادت اور سناتن ثقافت سے وابستہ مذہبی تقریبات ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی شناخت چھپا کر تقریب میں داخل ہوتا ہے یا منتظمین کے قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو انتظامیہ کو حقائق کی جانچ کرکے قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہئے۔

 

انہوں نے کہا کہ مذہبی تقریبات کے تقدس اور سلامتی سے متعلق سوالات اٹھانے والی تنظیموں کو نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ سنہا نے وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے عہدے کا استعمال انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے یا مخالفین کو ڈرانے کے بجائے ریاست میں امن و قانون کی صورتحال پر توجہ دیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے۔

 

جھارکھنڈ کے وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے واقعہ کو سماجی ہم آہنگی بگاڑنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ایک نوجوان کو تحویل میں لے کر پوچھ گچھ شروع کی ہے اور معاملے میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی سفارش قبول نہیں کی جائے گی اور قصوروار چاہے کوئی بھی ہو، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

 

وزیر نے کہا کہ جھارکھنڈ میں نفرت اور غنڈہ گردی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہاں کے عوام جس جوش و خروش سے عید مناتے ہیں، اسی جذبے کے ساتھ دیوالی بھی مناتے رہے ہیں اور آئندہ بھی مناتے رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی معاملے میں تحقیقات کے بعد ہی نتیجہ اخذ کیا جانا چاہئے۔

 

مسلم نوجوانوں کو علما کا مشورہ

دوسری جانب، جمشیدپور کے عالم دین قاضی مشتاق احمد نے مسلم بچوں اور نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ دوسرے مذاہب کی مذہبی تقریبات میں شرکت سے گریز کریں اور اپنی مذہبی تعلیمات، عقائد اور روایات کے تئیں بیدار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرے کو اپنے تہوار خوشی اور جوش و خروش کے ساتھ منانے چاہئیں۔

 

مشرقی سنگھ بھوم کے ایس ایس پی ڈاکٹر احتشام وقارب نے بتایا کہ بشتوپور پولیس اس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

 

واقعے کے بعد شہر میں مذہبی تقریبات میں شرکت، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی پاسداری کو لے کر بحث چھڑ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button