حکومت کی تبدیلی‘ کے نام پر ہندوستان کو توڑنے کی سازشیں، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا الزام

ناگپور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے الزام عائد کیا ہے کہ ’حکومت کی تبدیلی‘ کے نام پر شرپسند طاقتیں ہندوستان کو توڑنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کی ہوس میں بعض قائدین ان طاقتوں سے ہاتھ ملاکر ملک میں بدامنی پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسی طاقتوں کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کریں۔
ناگپور میں وجئے دشمی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ شیطانی طاقتیں ہندوستان، ہندوؤں اور آر ایس ایس کو کمزور کرنے اور انہیں تقسیم کرنے کے منصوبے بناتی ہیں اور ان پر عمل کرتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض غیر دانشمند قائدین معمولی سیاسی اور اقتداری مفادات کے لیے ان کوششوں میں شریک ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک سے ایک ایسی لہر اٹھی ہے جس کا مقصد عالمی فلاح، تہذیب اور انسانی اقدار کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق اسی کے نتیجے میں فرانس، البانیہ، بنگلہ دیش اور نیپال میں بے چینی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بعض طاقتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ حکومت کی تبدیلی سے حالات بدل جائیں گے، لیکن ان کے بقول ماضی میں ایسا نہیں ہوا اور آئندہ بھی نہیں ہوگا۔
موہن بھاگوت نے مزید کہا کہ اب ان طاقتوں کی نظر ہندوستان پر ہے اور ملک کو زوال کی طرف دھکیلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، تاہم گزشتہ کئی دہائیوں سے اختیار کی گئی پالیسیوں اور مضبوط حکومت کے باعث ان کوششوں کو روکا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کئی بیرونی حملہ آوروں نے ہندوستان پر حملے کئے، لیکن ملک نے ہر مرتبہ ان کا مقابلہ کیا اور دنیا کو امن و خوشحالی کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان موجودہ دور میں بھی شرپسند طاقتوں کا مؤثر مقابلہ کرے گا۔
آر ایس ایس سربراہ کے مطابق دنیا کے کئی ممالک انفرادی آزادی اور خاندانی زندگی کے درمیان توازن، مذہبی عقائد اور باہمی تنازعات جیسے مسائل سے دوچار ہیں، ایسے میں ہندوستان ہی ان ممالک کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔





