اسپشل اسٹوری

انسانیت جیت گئی: مسلم والدین نے منہ بولے ہندو بیٹے کی شادی دھوم دھام سے کرائی

کرناٹک کے بیلگاوی ضلع کے  بستاواڑی گاؤں میں انسانیت، محبت اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک ایسی دل چھو لینے والی مثال سامنے آئی ہے جس نے ہر سننے والے کو متاثر کر دیا۔

 

یہاں ایک مسلم والدین نے اپنے منہ بولے ہندو بیٹے کی شادی ہندو رسم و رواج کے مطابق نہایت عقیدت اور شان و شوکت سے انجام دے کر یہ ثابت کر دیا کہ رشتے مذہب کے نہیں بلکہ دل کے ہوتے ہیں۔

 

محبوب حسن نائیکوڈی اور ان کی اہلیہ نورجہاں نے لنگایت برادری سے تعلق رکھنے والے مرحوم شیوانند کڈایہ کے کمسن بیٹوں سوم شیکھر اور وسنت کو والدین کے انتقال کے بعد بچپن ہی میں گود لے کر اپنی اولاد کی طرح پالا پوسا۔

محبوب آر ٹی سی ڈرائیور کی حیثیت سے خدمات انجام دے کر ریٹائر ہو چکے ہیں انہوں نے ان یتیم بچوں کو کبھی بوجھ نہیں سمجھا بلکہ تعلیم دلوا کر باوقار زندگی کی راہ پر گامزن کیا۔ سوم شیکھر نے ڈگری مکمل کرنے کے بعد ملازمت حاصل کی اور پونم نامی لڑکی سے رشتۂ محبت میں بندھ گیا۔

 

اس موقع پر محبوب اور نورجہاں نے کاڈا سدّیشور منڈپ میں ہندو روایات کے مطابق شادی کی تمام رسومات خوش اسلوبی سے ادا کروائیں۔ اس خوبصورت منظر نے گاؤں میں مذہبی یکجہتی اور بھائی چارے کی نئی مثال قائم کی، جس پر مقامی افراد نے مسلم جوڑے کی فراخ دلی اور انسان دوستی کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button