چھ الگ گھر، مگر ایک ہی باورچی خانہ – تلنگانہ کے عادل آباد ضلع میں 34 افراد کا خاندان آج بھی اتحاد کی مثال
عادل آباد: آج کے دور میں معمولی اختلافات پر بھائیوں کا الگ ہوجانا اور مشترکہ خاندانوں کا بکھر جانا عام بات بن گئی ہے، لیکن تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے منڈل بازار ہتنور کے موضع منجیرانتانڈہ میں 34 افراد پر مشتمل ایک خاندان آج بھی اتحاد، محبت اور باہمی احترام کی شاندار مثال پیش کر رہا ہے۔ اس خاندان کے افراد چھ الگ الگ مکانات میں رہتے ہیں، لیکن ان کا باورچی خانہ ایک ہے، کھانے کا وقت ایک ہے اور زندگی گزارنے کا انداز بھی مشترکہ ہے۔
کیسروتھ مونابائی اور چندولال (مرحوم) کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ بیٹی شادی کے بعد سسرال چلی گئی، جبکہ پانچوں بیٹے، بہوئیں اور ان کے بچے آج بھی ایک ہی خاندان کی طرح مل جل کر رہتے ہیں۔ خاندان کے افراد نے اپنی ذمہ داریاں تقسیم کر رکھی ہیں اور ہر شخص اپنے حصے کا کام انجام دیتا ہے۔
اس خاندان میں روزانہ صبح اور شام جوار اور گیہوں کے آٹے سے تقریباً 100 روٹیاں تیار کی جاتی ہیں، جبکہ ہر وقت چار کلو چاول پکائے جاتے ہیں۔ خاندان کے افراد اپنی اور کرایہ پر حاصل کردہ مجموعی طور پر 34 ایکڑ اراضی پر زراعت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 120 گائے، بکریاں اور بھیڑیں بھی پالتے ہیں۔
خاندان کے 11 بچے اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ دو بچے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جدید دور میں جہاں مشترکہ خاندانوں کا تصور تیزی سے ختم ہوتا جارہا ہے، وہیں منجیرانتانڈہ کا یہ خاندان ثابت کر رہا ہے کہ باہمی احترام، ذمہ داریوں کی تقسیم اور اتحاد کے ساتھ ایک بڑے خاندان کو بھی خوش اسلوبی سے چلایا جاسکتا ہے۔ خاندان کے افراد کے مطابق، ذمہ داریوں کا احساس اور ایک دوسرے کا احترام ہی ان کے اتحاد اور خوشحال زندگی کا اصل راز ہے۔





