غلط وارڈوں میں ووٹروں کا اندراج، عادل آباد میں انتخابی شفافیت پر سوال
عادل آباد، 3 /جنوری (نمائندہ خصوصی/اردو لیکس) تلنگانہ کے عادل آباد اربن بلدی حلقہ میں جاری ووٹر لسٹ کے مسودے میں سنگین خامیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف وارڈوں میں ووٹروں کی مبینہ منتقلی پر شدید اعتراضات کئے جا رہے ہیں
۔کئی وارڈوں میں دیگر علاقوں کے ووٹروں کو شامل کئے جانے پر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سابق کونسلروں اور ممکنہ امیدواروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔جمعہ کی صبح مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، سابق عوامی نمائندے اور امیدوار بلدیہ دفتر پہنچے اور ووٹر لسٹ کے مسودے کی جانچ کی۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے اپنے وارڈوں میں دوسرے وارڈوں کے ووٹروں کے اندراج پر عہدیداروں سے وضاحت طلب کی
۔ بعض مقامات پر مکانات کے نمبروں میں تکنیکی خامیوں کے باعث ووٹروں کو غلط وارڈوں میں شامل کئے جانے کا انکشاف ہوا۔ذرائع کے مطابق وارڈ حکام اور بل وصولی عملہ گزشتہ تین دنوں سے پولنگ اسٹیشنوں کے حساب سے ووٹروں کو وارڈ وار تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس عمل میں متعدد غلطیاں سامنے آئی ہیں
۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ووٹروں کو گھروں کے نمبروں کی بنیاد پر وارڈوں میں شامل کیا گیا ہے، مگر کئی علاقوں میں ایک ہی سلسلہ نمبر مختلف وارڈوں میں پہلے سے موجود ہونے کے باعث شدید الجھن پیدا ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض وارڈوں میں مہالکشمی واڑہ، چلکوری لکشمی نگر، ڈرائیور کالونی، رام نگر، پٹل واڑہ اور بنگاری گوڈا سمیت دیگر وارڈوں کے ووٹروں کو آپس میں ملا دیا گیا ہے۔ اسی طرح کئی دیگر وارڈوں، جن میں 19، 20، 24، 38، 43، 44 اور 45 شامل ہیں، میں بھی مختلف کالونیوں کے ووٹروں کو ایک دوسرے میں ضم کر دیا گیا ہے،
جس پر مقامی ووٹروں نے سخت اعتراض کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ پر فوری نظرثانی کی جائے تاکہ شہریوں کا جمہوری حق متاثر نہ ہو۔اس سلسلے میں میونسپل کمشنر سی وی این راجو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ٹی پول ایپ میں موجود فہرست کی بنیاد پر وارڈ وار ووٹر لسٹ کا مسودہ تیار کیا گیا ہے
۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ مقررہ مدت کے اندر تحریری شکایت درج کرا سکتا ہے۔کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز اعتراضات کا جائزہ لے کر غلطیوں کی اصلاح کی جائے گی اور اس کے بعد حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔۔اس دوران سابق عوامی نمائندوں نے مجالس مقامی کے ایڈیشنل کلکٹر سے بھی ملاقات کرتے ہوئے حالات سے واقف کروایا۔



