خواتین صحافیوں کو دھمکیوں اور کردار کشی سے تحفظ فراہم کیا جائے: تلنگانہ کی وزیر سیتااکا

خواتین صحافیوں کو دھمکیوں اور کردار کشی سے تحفظ فراہم کیا جائے: سیتکا
حیدرآباد: تلنگانہ کی وزیر پنچایت راج و دیہی ترقی داناسری انسویا عرف سیتکا نے کہا کہ جمہوریت میں صحافیوں کو سوال کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہئے اور پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والی خواتین صحافیوں کو دھمکیوں، انتقامی کارروائیوں اور کردار کشی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے خواتین صحافیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے نظریات اور وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اپنے حقوق اور تحفظ کے لئے متحد رہیں۔
ہفتہ کو حیدرآباد کے ہوٹل ٹورازم پلازا میں انڈین جرنلسٹس یونین، میڈیا ایجوکیشن فاؤنڈیشن انڈیا اور تلنگانہ اسٹیٹ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کے زیر اہتمام دو روزہ قومی خواتین صحافیوں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیتکا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران خواتین پر حملوں اور جنسی ہراسانی کی شکایات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ شکایات درج کرانے والی خواتین صحافیوں کے خلاف مقدمات سمیت بعد کے واقعات کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہئے۔
سیتکا نے کہا کہ مائیکروفون تھامنے والی خاتون صحافی دشمن نہیں ہوتی اور مشکل سوالات پوچھنے والے صحافی کو خطرہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ جمہوریت کی طاقت سوالات کو دبانے میں نہیں بلکہ ان کے جواب دینے کی ہمت میں ہے۔ انہوں نے دستور اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ترقی سماج کی ترقی کا پیمانہ ہے اور جمہوریت محض انتخابات تک محدود نہیں بلکہ جوابدہی، باخبر مباحث اور اقتدار سے سوال کرنے کی آزادی بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔
تلنگانہ کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن کی صدر اور ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس جی رادھا رانی نے کہا کہ آزادئ صحافت، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور خواتین صحافیوں کا تحفظ جمہوریت کے لئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ حقائق دیانت داری سے پیش کرنے اور مشکل سوالات پوچھنے کے ساتھ دوسروں کی نجی زندگی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کا بھی احترام کریں۔
کانفرنس میں آئی ڈریم میڈیا کی سینئر نائب صدر مس سواپنا، انڈین جرنلسٹس یونین کے صدر بلویندر سنگھ جموں، ، کرناٹک میڈیا اکیڈمی کی چیئرپرسن عائشہ خانم، تلنگانہ میڈیا اکیڈمی کے چیرمین کے سرینواس ریڈی، آئی پی ایس افسر بی سمتی، ایم ای ایف آئی کے منیجنگ ٹرسٹی امر دیول پلی، آئی جے یو کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن ایس این سنہا، آئی جے یو کے سکریٹری جنرل ڈی سوما سندر اور تلنگانہ اسٹیٹ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کے صدر کے وراہت علی ؛ سینئر صحافی ایم اے ماجد سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔




