نیشنل

بی جے پی اپنے نظریات سے اتفاق نہ کرنے والوں سے انتقام لے رہی ہے : نصیرالدین شاہ

کولکتہ: معروف اداکار نصیرالدین شاہ نے ہفتہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی  کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ کے غیر معینہ مدت کے احتجاج کی حمایت کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اپنے نظریات اور پالیسیوں سے اتفاق نہ کرنے والوں سے انتقام لے رہی ہے۔

 

ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) کے طلبہ کیمپس میں تشدد کے واقعات کے خلاف 12 اکتوبر سے وائس چانسلر سنتوش اجمیرا کے دفتر کے باہر غیر معینہ مدت کا دھرنا دے رہے ہیں۔ طلبہ ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے اور جوابدہی کے مطالبے کے ساتھ وائس چانسلر کے استعفیٰ پر اصرار کررہے ہیں۔

 

نصیرالدین شاہ نے فیس بک پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں الزام لگایا کہ رواں سال کے اوائل میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مبینہ طور پر جوڑ توڑ کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے بعد بی جے پی اب اپنے مخالف نظریات رکھنے والوں سے انتقام لینے پر اتر آئی ہے۔

 

ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’’، آداب، میں نصیرالدین شاہ ہوں۔ بنگال انتخابات میں مبینہ طور پر جوڑ توڑ کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے بعد بی جے پی، جو ایک جھوٹی پارٹی ہے، اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنے نظریات اور پالیسیوں سے اتفاق نہ کرنے والے ہر شخص سے انتقام لینے کے لئے پوری طرح سرگرم ہوگئی ہے۔‘‘

 

انہوں نے مزید کہا کہ اس انتقامی کارروائی کے تازہ ترین شکار ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ اور مستقبل کے فلم ساز ہیں۔ انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے بدلے انہیں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کئے گئے، ان کی نگرانی کی گئی، دھمکیاں دی گئیں اور اب انہیں ہاسٹل خالی کرنے کے لئے بھی کہا گیا ہے۔

 

بی جے پی پر تنقید جاری رکھتے ہوئے نصیرالدین شاہ نے کہا کہ پارٹی صرف اپنے حق میں بے شرمانہ پروپیگنڈے کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرنے پر اکتفا نہیں کررہی بلکہ اب وہ ملک کے مستقبل کے فلم سازوں کی ذہن سازی کرنے یا انہیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

 

76 سالہ اداکار نے کہا، ’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایسا نہیں ہونے والا۔ یہ نوجوان مستقبل میں ہمیں اپنے بارے میں، ہمارے ملک کے بارے میں اور اس صورت حال کے بارے میں سچ بتائیں گے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔‘‘

 

انہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے تمام باشعور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کریں۔

 

واضح رہے کہ 27 ستمبر کو انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران طلبہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ صارفین کے حقوق سے متعلق تنظیم اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت کے ارکان کے درمیان جھڑپ ہوگئی تھی۔

 

اس کے بعد 4 اکتوبر کو کیمپس میں ایک اور تصادم پیش آیا، جب بنگیا ہندو جاگرن منچ کے ارکان نے احتجاج کیا۔ اطلاعات کے مطابق، پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے بعد بعض احتجاجیوں نے انسٹی ٹیوٹ کا دروازہ زبردستی کھولنے کی کوشش کی۔

 

16 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹس میں انسٹی ٹیوٹ نے اپنے فلم، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا شعبوں کی معمول کی تعلیمی سرگرمیاں 13 نومبر تک معطل کردیں اور طلبہ کو 24 گھنٹوں کے اندر کیمپس خالی کرنے کی ہدایت دی۔

 

تاہم احتجاج کرنے والے طلبہ اپنے دھرنے کو جاری رکھنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیمپس کی سلامتی سے متعلق خدشات دور کئے جائیں اور تشدد کے واقعات کے لئے ذمہ دار افراد کی جوابدہی یقینی بنائی جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button