والد اور دادا کو سرکاری کرسی پر بٹھانا خاتون پولیس افسر شبانہ اعظمی کو مشکل میں ڈال دیا
بہار کے ضلع پورنیا میں ایک معمولی سا عمل خاتون پولیس افسر کے لیے بڑی مشکل بن گیا۔ ویمنس پولیس اسٹیشن کی ایس ایچ او شبانہ اعظمی نے نئی تعیناتی کے موقع پر اپنے والد اور دادا کو احتراماً سرکاری کرسی پر بٹھایا، مگر یہی لمحہ اب تنازعہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
ویمنس پولیس اسٹیشن کی ایس ایچ او شبانہ اعظمی کو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سویٹی سہروت نے معطل کیا۔ الزام ہے کہ وہ مسلسل اپنی وردی میں ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہی تھیں، جو پولیس ہیڈکوارٹر کی جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔
ایس پی نے واضح کیا کہ آئندہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی پولیس اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ معاملہ 27 جولائی 2025 سے شروع ہوا، جب شبانہ اعظمی کی نئی تعیناتی کے موقع پر ان کے گھر والے پولیس اسٹیشن آئے اور انہوں نے احتراماً اپنے والد اور دادا کو کرسی پر بٹھایا۔ اس لمحے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس کے بعد کچھ حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی۔
سوشل میڈیا پر جاری اس بحث کے دوران صارفین مختلف پلیٹ فارمز پر ایسی تصاویر بھی شیئر کر رہے ہیں، جن میں سیاسی شخصیات اور مذہبی پیشوا پولیس اسٹیشنز میں کرسیوں پر بیٹھے نظر آ رہے ہیں، اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ بھی ضابطہ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔
تنازعہ بڑھنے کے بعد ڈی آئی جی پرموڈ کمار منڈل نے معاملے کی جانچ کے احکامات جاری کیے، جبکہ شبانہ اعظمی کو ایک تفتیشی ٹیم سے بھی ہٹا دیا گیا۔
واضح رہے کہ شبانہ اعظمی ایک اعزاز یافتہ افسر رہی ہیں اور انہیں سابق چیف منسٹر نتیش کمار کی جانب سے بھی ایوارڈ دیا جا چکا ہے۔ تاہم حالیہ تنازعہ نے سوشل میڈیا پر ضابطوں اور ان کے اطلاق پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔




