حیدرآباد سائبر کرائم ڈی سی پی کا اچانک تبادلہ

حیدرآباد: میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سرینواس اور فیس بک و انسٹاگرام کے متعدد اکاؤنٹس کے خلاف درج ایف آئی آرز پر پیدا ہونے والے تنازع کے درمیان
تلنگانہ پولیس نے حیدرآباد سائبر کرائم کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) وی اروند بابو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور انہیں پولیس ہیڈکوارٹر میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی ہے۔یہ کارروائی ان دو سائبر کرائم مقدمات پر اٹھنے والے سوالات کے بعد کی گئی ہے جو ان شکایات کی بنیاد پر درج کیے گئے تھے
جن میں الزام تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے والا قابلِ اعتراض اور ترمیم شدہ (مورفڈ) مواد میٹا کی ملکیت والے پلیٹ فارمز، یعنی فیس بک اور انسٹاگرام، پر پھیلایا جا رہا تھا۔ان ایف آئی آرز نے سیاسی اور عوامی سطح پر تنازع پیدا کر دیا، جس کے بعد ریاستی حکومت نے ان معاملات کا جائزہ لیا۔
اگرچہ حکام نے تبادلے کی باضابطہ وجہ نہیں بتائی تاہم ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ مقدمات کے اندراج سے متعلق حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ان مقدمات کے اندراج پر وزیراعلیٰ کے دفتر کے سینئر حکام اور ریاستی پولیس کے اعلیٰ افسران نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔
اطلاعات کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے مختلف اکاؤنٹس کے خلاف، بی جے پی کے حامیوں کی شکایات کی بنیاد پر مقدمات درج کیے گئے تھے جسے ریاستی حکومت نے سنجیدگی سے لیا۔حکام کا ماننا تھا کہ یہ مقدمات اس لیے بھی متنازع بن گئے
کیونکہ طلبہ کی احتجاجی تحریک کو کانگریس پارٹی کی قومی اور ریاستی قیادت نے کھل کر حمایت دی تھی۔ذرائع کے مطابق حکومت نے ان دونوں مقدمات کے اندراج کے تمام حالات و واقعات پر تفصیلی معلومات اکٹھی کرنے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام کے ذریعے
حیدرآباد سائبر کرائم کے ڈی سی پی وی اروند بابو کو ان کی ذمہ داریوں سے ہٹا کر ریاستی پولیس ہیڈکوارٹر میں رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے۔



