جمعیتہ علماء تلنگانہ کے زیر اہتمام متحدہ اضلاع کی مجلسِ منتظمہ کا تاریخی اور غیر معمولی نظام آباد میں اجلاس

جمعیتہ علماء تلنگانہ کے زیر اہتمام متحدہ اضلاع کی مجلسِ منتظمہ کا تاریخی اور غیر معمولی نظام آباد میں اجلاس
تنظیمی استحکام، اصلاحِ معاشرہ، دعوتِ دین اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے جامع لائحۂ عمل طے،
ہر ضلع، منڈل اور گاؤں تک جمعیت کا پیغام پہنچانے کا عزم
نظام آباد، 2/ اگست(اردو لیکس)ریاست کی سب سے قدیم اور مؤثر دینی و ملی تنظیم جمعیتہ علماء تلنگانہ کے زیر اہتمام متحدہ اضلاع نظام آباد، عادل آباد، کریم نگر، منچریال، پداپلی، سرسلہ اور کومرم بھیم آصف آباد کی مجلسِ منتظمہ کا ایک تاریخی، غیر معمولی اور انتہائی اہم اجلاس ادارہ مظہر العلوم ٹرسٹ، نظام آباد میں منعقد ہوا۔
صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں ریاستی قیادت کی موجودگی میں آئندہ تنظیمی، دعوتی، تعلیمی، اصلاحی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے مفصل منصوبہ بندی کی گئی، جبکہ مختلف اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لے کر مستقبل کے اہداف بھی مقرر کیے گئے۔
اجلاس کی صدارت حضرت مولانا سید شاہ احسان الدین صاحب رشادی قاسمی مدظلہ العالی، صدر جمعیتہ علماء تلنگانہ نے فرمائی۔ ریاستی ذمہ داران، مختلف اضلاع کے صدور، نظماء، منڈل ذمہ داران اور مجلسِ منتظمہ کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں سنجیدگی، باہمی مشاورت اور ملی درد کا ایسا ماحول دیکھنے میں آیا جس نے شرکاء میں نئی روح اور نیا ولولہ پیدا کردیا۔
اجلاس کا آغاز معروف قاری قاری یونس علی خان کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مولانا رفیق دیگلوری نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے نعتِ رسول ﷺ پیش کی، جس سے پورا ماحول ایمانی کیفیت سے معطر ہوگیا۔
افتتاحی خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا سید سمیع اللہ صاحب قاسمی، صدر جمعیتہ علماء ضلع نظام آباد نے تمام مہمانان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آج کے نازک حالات میں جمعیت علماء کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملت کو درپیش دینی، تعلیمی، اخلاقی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے منظم اور مسلسل جدوجہد ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ جمود، سستی اور غفلت کو چھوڑ کر نئے عزم، اخلاص اور منصوبہ بندی کے ساتھ میدانِ عمل میں اتریں تاکہ جمعیت کے پیغام کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچایا جاسکے۔
اس کے بعد مختلف اضلاع کی سالانہ و تنظیمی رپورٹس پیش کی گئیں۔ حضرت مولانا مفتی عمر فاروق صاحب قاسمی نقشبندی نے ضلع کریم نگر کی سرگرمیوں، مفتی کلیم صاحب نے ضلع عادل آباد کی کارکردگی، جبکہ مفتی مشکور صاحب نے ضلع منچریال کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اسی طرح سرسلہ، پداپلی اور کومرم بھیم آصف آباد کے ذمہ داران نے بھی اپنے اپنے اضلاع میں دعوتی، تنظیمی، رفاہی اور اصلاحی خدمات کی تفصیلات پیش کیں۔ رپورٹس پر صدرِ اجلاس اور ریاستی ذمہ داران نے مفید تجاویز بھی دیں۔
اجلاس کے اہم مقرر حضرت مولانا غیاث الدین رشادی صاحب، صدر صفاء بیت المال حیدرآباد نے نہایت ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں اور ان کی ذمہ داری صرف مساجد، مدارس اور خانقاہوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد تک دین کی دعوت پہنچانا ان کا فریضہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج نوجوان نسل بے راہ روی، نشہ، اخلاقی انحطاط اور مختلف فتنوں کی زد میں ہے، اس لیے ضروری ہے کہ علماء، ائمہ، خطباء اور جمعیت کے کارکنان اسکولوں، کالجوں، بستیوں، دیہات اور عوامی مقامات تک پہنچ کر ایمان، اخلاق، کردار اور اسلامی تعلیمات کو عام کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحِ معاشرہ کی تحریک کو ایک عوامی تحریک بنایا جائے۔
اس کے بعد حضرت حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب، جنرل سکریٹری جمعیتہ علماء تلنگانہ نے تنظیمی استحکام پر مفصل خطاب کرتے ہوئے آئندہ کے اہداف اور منصوبوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر ضلع آئندہ تین ماہ کے اندر اپنی سرگرمیوں میں کم از کم پچاس فیصد اضافہ کرے، جبکہ چھ سے آٹھ ماہ کے اندر سو فیصد ترقی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہر منڈل، ہر گاؤں اور ہر محلہ جمعیت کی دعوتی سرگرمیوں سے وابستہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اصلاحِ معاشرہ کے اجتماعات، سیرت النبی ﷺ کانفرنسوں، سیرت کوئز، صحابہ کرامؓ کوئز، نوجوانوں کے تربیتی پروگرام، خواتین کی اصلاحی نشستوں، منشیات کے خلاف بیداری مہم، باہمی اخوت و محبت کے فروغ اور سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہدایت دی۔
صدارتی خطاب میں حضرت مولانا سید شاہ احسان الدین صاحب رشادی قاسمی نے "جمعیتہ ہمارا مشن ہے” کے عنوان سے انتہائی بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جمعیت علماء صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ امت کی دینی، ملی اور سماجی رہنمائی کا ایک عظیم مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر ذمہ دار کو اپنی ذمہ داری کو امانت سمجھ کر ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اتحاد، اخلاص، نظم و ضبط، قربانی اور مسلسل محنت کو جمعیت کی کامیابی کا راز قرار دیتے ہوئے تمام ذمہ داران کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوام سے مضبوط تعلق قائم کریں اور جمعیت کے پیغام کو گھر گھر پہنچائیں۔
اجلاس کی کارروائی حضرت مولانا مفتی الیاس احمد قاسمی نے نہایت بہترین انداز میں چلائی۔ مختلف موضوعات پر کھلے تبادلۂ خیال، تجاویز اور مشاورت کے بعد متعدد اہم تنظیمی فیصلے کیے گئے جن پر فوری عمل درآمد کا عزم ظاہر کیا گیا۔
اختتامی مرحلے میں حضرت مولانا مفتی یونس صاحب قاسمی، صدر جمعیتہ علماء ضلع کریم نگر نے سیرت النبی ﷺ سوال و جواب پروگرام کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے نوجوان نسل کو سیرتِ طیبہ سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس اجتماعی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ دعا میں ملک و ملت کی سلامتی، امتِ مسلمہ کے اتحاد، دینی مدارس، مساجد، جمعیت علماء تلنگانہ کی ترقی، علماء کرام کی حفاظت اور پوری انسانیت کے لیے خیر و عافیت کی خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اجلاس میں طے شدہ تمام فیصلوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے جمعیت علماء تلنگانہ کے دعوتی، اصلاحی اور تنظیمی مشن کو مزید وسعت دی جائے گی۔



