جنتر منتر میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ دہشت گردانہ سازش کا الزام۔ خاتون سمیت 2 افراد گرفتار

نئی دہلی: مغربی بنگال پولیس نے حمیم منڈل نامی ایک شخص جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کے پاکستان میں قائم تنظیم جیشِ محمد سے روابط ہیں اور اس کی مدد کرنے والی ایک نوجوان خاتون کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
تحقیقات کے دوران اسپیشل ٹاسک فورس نے بتایا کہ ملزمین نے حال ہی میں دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے طلبہ کے احتجاج کے دوران بدامنی پھیلانے اور مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کو نشانہ بنانے کی مبینہ منصوبہ بندی کی تھی۔حکام کے مطابق حمیم کو مبینہ طور پر جیشِ محمد سے ہدایات ملی تھیں کہ وہ پولیس کی وردی پہن کر احتجاجی مقام میں داخل ہو اور وہاں ہنگامہ آرائی کرے۔
اس مقصد کے لیے اسے مردوں اور خواتین پر مشتمل ایک ٹیم بنانے کو بھی کہا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا ملزمین واقعی جنتر منتر پہنچے تھے یا نہیں۔ اس سلسلے میں ان کے مبینہ دہشت گرد ہینڈلرز کے ساتھ ہونے والی چیٹ ریکارڈز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ملزمین کو یہ ہدایات بھی دی گئی تھیں کہ وزیرِ اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کی نقل و حرکت اور ایسے مقامات کی معلومات اکٹھی کریں جہاں پولیس کی سکیورٹی موجود نہ ہو۔حکام نے بتایا کہ جھارکھنڈ کی رہائشی ارپیتا سرکار جس پر حمیم کی مدد کرنے کا الزام ہے اس کی قریبی ساتھی اور مبینہ محبوبہ بھی ہے۔
دونوں کی ملاقات تقریباً چار سال قبل انسٹاگرام پر ہوئی تھی۔تحقیقات کے مطابق حمیم مبینہ طور پر ارپیتا کو مقامی سیاسی رہنماؤں سے تعلقات قائم کرنے ان کے ذریعے بڑے رہنماؤں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اپنے لوگوں کو مختلف سیاسی جماعتوں میں کارکنوں کے طور پر شامل کروانے جیسے کاموں کے لیے استعمال کرتا تھا۔
حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ دونوں نے مغربی بنگال کے ایک وزیر اُمیش رائے کے بیٹے کو مبینہ طور پر "ہنی ٹریپ” کے ذریعے اغوا کر کے ان کے خاندان سے تاوان وصول کرنے کی سازش بھی تیار کی تھی۔ پولیس کے مطابق ارپیتا کے متعدد سیاسی رہنماؤں سے روابط تھے اور وہ ان سے حاصل ہونے والی معلومات حمیم تک پہنچاتی تھی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دونوں ملزمین گزشتہ چند برسوں سے مختلف اینکرپٹڈ میسجنگ ایپس کے ذریعے مبینہ پاکستانی ہینڈلرز سے رابطے میں تھے۔ ان کے قبضے سے برطانیہ اور میکسیکو کے بین الاقوامی سم کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔حکام کا دعویٰ ہے
کہ ان مبینہ ہینڈلرز نے انہیں ملک میں انتہا پسندانہ نظریات پھیلانے اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھرتی جیسے کاموں میں بھی استعمال کیا۔



