زیرِ التواء پیدائش و وفات سرٹیفکیٹس کی جلد اجرائی کا مطالبہ، سمیر احمد کی قیادت میں وفد کی ایڈیشنل کلکٹر نظام آباد راجہ گوڑ سے نمائندگی

زیرِ التواء پیدائش و وفات سرٹیفکیٹس کی جلد اجرائی کا مطالبہ، سمیر احمد کی قیادت میں وفد کی ایڈیشنل کلکٹر نظام آباد راجہ گوڑ سے نمائندگی
نظام آباد15/اکتوبر (اردو لیکس) آل انڈیا قومی تنظیم، نظام آباد زون کے صدر سمیر احمد کی قیادت میں ایک وفد نے ایڈیشنل کلکٹر نظام آباد راجہ گوڑ سے ملاقات کی اور ضلع نظام آباد کے مختلف منڈلوں میں پیدائش و وفات کے دیرینہ رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی زیرِ التواء درخواستوں کو جلد از جلد یکسو کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وفد میں سید مظہر علی، مولانا خان، محمد صدام، محمد بھائی، سلیمان اور دیگر افراد بھی شامل تھے اس موقع پر سمیر احمد نے ایڈیشنل کلکٹر کو توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ غریب اور ضرورت مند افراد کی جانب سے 30 ستمبر 2026 تک جمع کرائی گئی متعدد درخواستیں تاحال زیرِ التواء ہیں، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریونیو عملے کی S.I.R 2026 ڈیوٹی میں مصروفیت کے سبب ان درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر ہو رہی ہے، جبکہ پیدائش و وفات کے سرٹیفکیٹس تعلیم، سرکاری اسکیموں اور دیگر اہم ضروریات کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ سمیر احمد نے مزید کہا کہ یکم اکتوبر 2026 سےرجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس (ترمیمی) ایکٹ، 2026 کے نفاذ کے پیشِ نظر، 30 ستمبر 2026 تک جمع کرائی گئی زیرِ التواء درخواستوں کو متعلقہ قوانین اور ضابطوں کے مطابق جلد از جلد یکسو کیا جانا چاہیے، تاکہ عوام کو غیر ضروری پریشانیوں سے بچایا جا سکے۔
وفد نے ایڈیشنل کلکٹر جناب راجہ گوڑ سے اپیل کی کہ متعلقہ ریونیو حکام کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے خصوصی مہم چلائی جائے، تاکہ تمام اہل درخواست گزاروں کی درخواستوں کی مناسب جانچ کے بعد بلا تاخیر پیدائش و وفات کے سرٹیفکیٹس جاری کیے جا سکیں اور غریب و مستحق خاندانوں کو راحت مل سکے۔
اس موقع پر وفد کے ارکان نے بھی اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے میں فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ طویل عرصے سے زیرِ التواء درخواستوں کی یکسوئی ممکن ہو سکے۔



